क़ुर्बान मैं उनकी बख़्शिश के मक़सद भी ज़बाँ पर आया नहीं
- 4 مہینے پہلے fiber_manual_record 297 بار دیکھا گیا
,
عنوان: پیام لائی ہے بادِ صبا مدینے سے
زمرہ: حمد کے بول (لیرکس) کلام کے بول (لیرکس) منقبت کے بول (لیرکس) نعت کے بول (لیرکس) نظم کے بول (لیرکس) صلوٰۃ و سلام کے بول (لیرکس)
مصنف/گیتکار: سیماب اکبر آبادی
نعت خوان/ فنکار: مختلف/نامعلوم
شامل کیا گیا: 03 Feb, 2026 09:32 AM IST
دیکھا گیا: 158
Time to read: 1 min read
پیام لائی ہے بادِ صبا مدینے سے،
کہ رحمتوں کی اٹھی ہے گھٹا مدینے سے
ہمارے سامنے یہ نازشِ بہار فضول،
بہشت لے گئی ہے فضا مدینے سے
فرشتے سینکڑوں آتے ہیں اور جاتے ہیں،
بہت قریب ہے عرش خدا مدینے سے
نہ آئیں جا کے وہاں سے یہی تمنا ہے،
مدینے لا کے نہ لائے خدا مدینے سے
الہی کوئی تو مل جائے چارہ گر ایسا،
ہمارے درد کی لا دے دوا مدینے سے
حساب کیسا نکیریں ہوگئے بے خود،
جب آئی قبر میں ٹھنڈی ہوا مدینے سے
خدا کے گھر کا گدا ہوں فقیر کوئے نبی،
مجھے تو عشق ہے مکے سے یا مدینے سے
چلے ہی آو مزار حسین پر سیماب،
کچھ ایسی دور نہیں کربلا مدینے سے
This summary is AI-generated • Reviewed for quality.
یہ کلام مدینہ منورہ کی فضاؤں، وہاں کی روحانیت اور روضہِ رسول ﷺ سے وابستہ عقیدت کا ایک والہانہ بیان ہے۔ اس میں شاعر نے مدینے کی مٹی اور ہوا کو ہر درد کا مداوا قرار دیا ہے۔
شاعر کہتا ہے کہ صبح کی ٹھنڈی ہوا مدینے سے رحمتوں کی خوشخبری لے کر آئی ہے، جس کی برکت سے قبر کی تنہائی میں بھی سکون ملتا ہے۔ مدینہ اللہ کے عرش کے اتنا قریب ہے کہ وہاں فرشتوں کا ہجوم رہتا ہے، اور ایک سچے عاشق کی تمنا یہی ہے کہ ایک بار وہاں جا کر کبھی واپس نہ آئے۔
| لفظ | معنی |
|---|---|
| بادِ صبا | صبح کی ٹھنڈی ہوا |
| نازشِ بہار | بہار کا فخر یا غرور |
| بہشت | جنت (Paradise) |
| چارہ گر | علاج کرنے والا / طبیب |
| نکیریں | قبر میں سوال کرنے والے فرشتے |
| گدا / فقیر | مانگنے والا یا یاچک |
| سیماب | شاعر کا تخلص (مراد: بے چین) |
اس نعت کا خلاصہ یہ ہے کہ مدینہ صرف ایک شہر نہیں بلکہ کائنات کا وہ مرکز ہے جہاں سے ہر مصیبت زدہ کو شفا ملتی ہے۔ شاعر کے نزدیک مدینے کی فضا جنت سے بھی افضل ہے، اور وہ مکہ، مدینہ اور کربلا کے درمیان اس گہرے روحانی رشتے کو واضح کرتا ہے جو ہر مومن کے ایمان کی بنیاد ہے۔
نعت کے آخر میں مزارِ حسینؑ اور کربلا کا ذکر کس طرح کیا گیا ہے، اور قبر میں "نکیرین" کے بے خود ہونے کی وجہ کیا بتائی گئی ہے؟