प्यासी है सकीना
- 6 دن پہلے fiber_manual_record 51 بار دیکھا گیا
,
عنوان: مجھے ماں تیری جو یاد آئے بہت رُلائے ستائے
زمرہ: نظم کے بول (لیرکس)
مصنف/گیتکار: شریف اہل نور
نعت خوان/ فنکار: وجاہت واسطی
شامل کیا گیا: 23 May, 2026 05:55 AM IST
دیکھا گیا: 41
Time to read: 1 min read
مجھے ماں تیری جو یاد آئے، بہت رُلائے ستائے
میں کس کو پکاروں گا ماں تیرے بدلے،
کسے ماں کہوں گا یہ بتلائیے گا
مجھے ماں تیری جو یاد آئے، بہت رُلائے ستائے
میرا ہاتھ تھاما تو چلنا سکھایا،
مجھے زندگی میں سنبھلنا سکھایا،
تیری قربتوں نے کیوں عادی بنایا،
مجھے اپنی ممتا کے سائے بٹھا کر،
چلوں گا میں اب کیسے تنہا جہاں میں،
بس ایک بار آ کر کہہ جائیے گا
مجھے ماں تیری جو یاد آئے، بہت رُلائے ستائے
ملتا تھا دیدار جس کا خدا سے،
نگاہوں میں آہل وہ صورت نہیں ہے،
تھی خُلدِ بری جس کے قدموں کے نیچے،
میرے پاس میں اب وہ اُلفت نہیں ہے،
حقیقت میں اب تو یہ ممکن نہیں ہے،
مگر خواب میں آ کے مسکائیے گا،
جینا ہے تیرے بنا، جینا ہے تیرے بنا،
جینا ہے اب مجھ کو تیرے بنا
مجھے ماں تیری جو یاد آئے، بہت رُلائے ستائے
This summary is AI-generated • Reviewed for quality.
یہ ایک بیٹے کا اپنی مرحوم ماں کے لیے گہرا درد اور ان کی جدائی کا بیان ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ ماں کے جانے کے بعد زندگی کتنی اکیلی اور مشکل ہو گئی ہے، اور ان کی یادیں دل کو بہت تڑپاتی ہیں۔
اس نظم کا مطلب ہے کہ ماں کے چلے جانے کے بعد اب ان کا نعم البدل کوئی نہیں ہو سکتا اور ان کے بغیر یہ دنیا بالکل سونی ہو گئی ہے۔ شاعر اپنی ماں کی اس پرورش اور محبت کو یاد کرتا ہے جس نے انہیں چلنا اور سنبھلنا سکھایا، اور اب وہ التجا کرتا ہے کہ حقیقت میں نہ سہی، پر کم از کم خواب میں آ کر ہی انہیں تسلی دے جائیں۔
| الفاظ | معنی (Meanings) |
|---|---|
| قربتوں | نزدیکیاں / ساتھ |
| تنہا | اکیلا |
| دیدار | جھلک / جلوہ دیکھنا |
| خُلدِ بریں | اعلیٰ جنت / جنت کا سب سے بہترین باغ |
| الفت | محبت / پیار |
| ممکن | جو ہو سکے |
ماں کا اس دنیا سے رخصت ہو جانا ایک ایسا صدمہ ہے جسے کوئی نہیں بدل سکتا، کیونکہ ان کے قدموں کے نیچے جنت تھی اور ان کا چہرہ خدا کے دیدار جیسا پاک تھا۔ شاعر کہتا ہے کہ ماں کی ممتا کے سائے کے بغیر اب اس جہاں میں اکیلے چلنا ناممکن لگتا ہے۔ اب جبکہ حقیقت میں ان کا لوٹنا ممکن نہیں، تو بیٹا بس یہی دعا کرتا ہے کہ ماں خواب میں آ کر ہی مسکرا دیں تاکہ اسے جینے کا حوصلہ مل سکے۔
شاعر کے مطابق، ماں کے قدموں کے نیچے کیا تھا جس کے لیے اب وہ ترس رہا ہے، اور حقیقت میں ملاقات ناممکن ہونے پر وہ ماں سے کہاں آنے کی گزارش کر رہا ہے؟