प्यासी है सकीना
- 6 دن پہلے fiber_manual_record 51 بار دیکھا گیا
,
عنوان: لوٹ کے آجا میری ماں تجھ میں بسی ہے میری جان میری پیاری پیاری ماں
زمرہ: نظم کے بول (لیرکس)
مصنف/گیتکار: سرفراز نوری گورکھپوری
نعت خوان/ فنکار: سرفراز نوری گورکھپوری
شامل کیا گیا: 21 May, 2026 06:15 PM IST
دیکھا گیا: 41
Time to read: 1 min read
لوٹ کے آجا میری ماں،
تجھ میں بسی ہے میری جان،
جی نہ سکوں گا تیرے بنا،
میری پیاری پیاری ماں۔
میری پیاری پیاری ماں،
میری اچھی اچھی ماں۔
جب میں روٹھا کرتا تھا،
تو ہی منانے آتی تھی،
میری خوشیوں کے خاطر،
اپنا سب لٹواتی تھی،
کون پڑھے گا چہرہ میرا،
کس سے کروں گا اب میں بیاں،
کوئی نہ سمجھے دل کی زباں،
میری پیاری پیاری ماں۔
میری پیاری پیاری ماں،
میری اچھی اچھی ماں۔
میں بیمار جو پڑتا تھا،
نیند تیری اُڑ جاتی تھی،
ساری توجہ دنیا سے،
میری طرف مڑ جاتی تھی،
کون کرے گا فکر میری،
کون پلائے گا دوا مجھے،
بانہوں میں لے لے آ کے مجھے،
میری پیاری پیاری ماں۔
میری پیاری پیاری ماں،
میری اچھی اچھی ماں۔
سونا سونا لگتا ہے،
گھر میرا سب کچھ ہو کر بھی،
کاش میں تجھے لا پاؤں،
اپنا سب کچھ کھو کر بھی،
تیرا وجود رحمت ہے،
قدم کے نیچے جنت ہے،
ڈھونڈوں تجھے میں کہاں کہاں،
میری پیاری پیاری ماں۔
لوٹ کے آجا میری ماں،
تجھ میں بسی ہے میری جان،
جی نہ سکوں گا تیرے بنا،
میری پیاری پیاری ماں۔
میری پیاری پیاری ماں،
میری اچھی اچھی ماں۔
This summary is AI-generated • Reviewed for quality.
یہ ایک بچے کا اپنی ماں سے بچھڑنے کے گہرے دکھ اور ان کی لازوال محبت کا بیان ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ ماں کے بغیر زندگی بے رنگ ہو جاتی ہے اور ان کا ہونا ہی اولاد کے لیے اصل سکون ہے۔
اس گیت کا مطلب یہ ہے کہ ماں کے چلے جانے سے زندگی میں ایک ایسا خالی پن آ گیا ہے جسے دنیا کی کوئی چیز نہیں بھر سکتی۔ شاعر کہتا ہے کہ جب وہ بیمار پڑتا یا روٹھ جاتا تو صرف ماں ہی اپنی نیندیں اور خوشیاں قربان کر کے اسے سنبھالتی تھی، اور اب ان کے بعد دل کا حال سمجھنے والا کوئی نہیں رہا۔
| لفظ (Word) | معنی (Meaning) |
|---|---|
| بیاں | اظہار کرنا / ظاہر کرنا |
| توجہ | دھیان دینا / غور کرنا |
| فکر | پرواہ / چنتا |
| سونا سونا | اکیلا / ویران |
| وجود | ہستی / ہونا |
| رحمت | برکت / اللہ کی مہربانی |
دنیا میں ماں کا رشتہ سب سے انمول ہے جس کے قدموں تلے رب نے جنت رکھی ہے اور ان کا وجود گھر کے لیے سراپا رحمت ہوتا ہے۔ شاعر اپنی ماں کو یاد کرتے ہوئے کہتا ہے کہ دنیا کی ہر آسائش موجود ہونے کے باوجود ماں کے بغیر پورا گھر ویران لگتا ہے، اور وہ اپنا سب کچھ کھو کر بھی اپنی ماں کو واپس پانا چاہتا ہے۔
ماں کے چلے جانے کے بعد شاعر کو اپنا گھر کیسا لگتا ہے، اور ماں کے قدموں کے نیچے کیا بتایا گیا ہے؟