اندھیری رات ہے غم کی گھٹا عصیاں کی کالی ہے
- 1 مہینہ پہلے fiber_manual_record 126 بار دیکھا گیا
,
عنوان: Woh Sahre Mohabbat Jahan Mustafa Hai
زمرہ: نعت کے بول (لیرکس)
مصنف/گیتکار: مختلف/نامعلوم
نعت خوان/ فنکار: شاہد رضا اشرفی
شامل کیا گیا: 09 Feb, 2023 12:36 PM IST
دیکھا گیا: 22.4K ڈاؤن لوڈز: 584
Time to read: 1 min read
translate بول کی زبان منتخب کریں:
Woh Sahre Mohabbat Jahan Mustafa Hai
Wohi Ghar Banane Ko Jee Chahta Hai
Woh Sone Se Kankar Woh Sone Si Mitti
Nazar Mein Basane Ko Dil Chahta Hai
Jo Poocha Nabi Ne Ke Kuch Ghar Bhi Choda
Toh Siddique Akbar Ke Honto Pe Aaya
Waha Maal O Daulat Ki Kya Hai Haqiqat
Jahan Jaan Lootana Ko Dil Chahta Hai
Woh Nanha Sa Asgar Woh Aedi Ragad Kar
Yehi Kah Raha Hai Woh Kheme Mein Rokar
Aye Baba Main Pani Ka Pyasa Nahi Hun
Mera Sar Katane Ko Dil Chahta Hai
Sitaron Se Yeh Chaand Kehta Hai Har Dum
Tumhe Kya Bataye Woh Tukdo Ka Aalam
Ishare Mein Aaqa Ke Itne Maza Tha
Ke Phir Toot Jane Ko Dil Chahta Hai
This summary is AI-generated • Reviewed for quality.
یہ ایک انتہائی پُرعقیدت اور خوبصورت کلام ہے جس میں مدینہ منورہ کی پاک دھرتی سے محبت، غزوۂ تبوک کے موقع پر حضرت ابوبکر صدیقؓ کی لازوال قربانی، معصومِ کربلا حضرت علی اصغرؑ کا جذبۂ شہادت اور سرکارِ دو عالم ﷺ کے ایک عظیم الشان معجزے کا تذکرہ کیا گیا ہے۔
ان ایمان افروز اشعار کا مطلب ہے کہ "میرا دل تڑپتا ہے کہ اس شہرِ محبت (مدینہ شریف) میں اپنا مستقل آشیانہ بنا لوں جہاں ہمارے آقا محمد مصطفیٰ ﷺ جلوہ افروز ہیں اور وہاں کی سونے جیسی قیمتی مٹی اور کنکروں کو اپنی آنکھوں کا سرمہ بنا لوں۔" شاعر کہتا ہے کہ جہاں عشقِ رسول ﷺ میں اپنی جان تک قربان کرنے کا جذبہ موجود ہو، وہاں دنیاوی مال و دولت کی کوئی اوقات یا حقیقت باقی نہیں رہتی۔
| الفاظ | معنی (Meanings) |
|---|---|
| شہرِ محبت | عشق و محبت کی نگری (مراد مدینہ منورہ) |
| صدیقِ اکبرؓ | حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ (حضور ﷺ کے یارِ غار اور پہلے خلیفہ) |
| حقیقت | اصل قیمت، اہمیت یا اوقات |
| اصغرؑ / خیمے | حضرت علی اصغر علیہ السلام (امام حسینؑ کے ۶ ماہ کے معصوم فرزند) / تंबू یا ڈیرے |
| عالم | منظر، کیفیت، حالت یا سماں |
| معجزہ | وہ حیرت انگیز کام جو اللہ کی مدد سے نبی سے ظاہر ہو (جیسے چاند کے دو ٹکڑے ہونا) |
اس کلامِ بلاغت نظام کا لبِ لباب یہ ہے کہ ایک سچے مومن کے لیے عشقِ مصطفیٰ ﷺ ہی کائنات کا سب سے بڑا سرمایہ ہے، جیسا کہ حضرت ابوبکر صدیقؓ نے پوچھا جانے پر عرض کیا تھا کہ وہ گھر میں صرف 'اللہ اور اس کا رسول ﷺ' چھوڑ آئے ہیں۔ کلام میں میدانِ کربلا کا دردناک تذکرہ کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ ۶ ماہ کے ننھے علی اصغرؑ پیاس سے خیمے میں ایڑیاں رگڑتے ہوئے بھی دینِ اسلام کی خاطر اپنا سر کٹانے کا بے مثال حوصلہ رکھتے ہیں۔ آخر میں حضور ﷺ کے معجزۂ 'شقِ قمر' (چاند کے دو ٹکڑے کرنے) کا ذکر کرتے ہوئے چاند ستاروں سے کہتا ہے کہ آقا ﷺ کی انگلی کے اشارے میں ایسا روحانی لطف تھا کہ میرا دل چاہتا ہے میں دوبارہ ان کے اشارے پر ٹوٹ کر بکھر جاؤں۔
لیرکس کے آخری حصے کے مطابق، چاند نے ستاروں سے نبی ﷺ کے کس معجزے کا ذکر کیا ہے؟