सदाए गुम्बद-ए-ख़ज़रा हुसैन जीत गए
- 2 دن پہلے fiber_manual_record 47 بار دیکھا گیا
,
عنوان: جہاں پر نبی کا گھرانا لٹا ہے
زمرہ: منقبت کے بول (لیرکس) نوحہ/مرثیہ نعت کے بول (لیرکس)
مصنف/گیتکار: شاہد رضا اشرفی
نعت خوان/ فنکار: شاہد رضا اشرفی
شامل کیا گیا: 20 Jun, 2026 08:57 AM IST
دیکھا گیا: 18
Time to read: 1 min read
عجب مومنو نقشۂ کربلا ہے،
جہاں پر نبی کا گھرانا لٹا ہے۔
جسے سن کے سارا جہاں رو پڑا ہے،
زمین تو زمین آسمان رو پڑا ہے،
شہیدوں میں چھ ماہ کا لادلا ہے،
جہاں پر نبی کا گھرانا لٹا ہے۔
عجب مومنو نقشۂ کربلا ہے،
جہاں پر نبی کا گھرانا لٹا ہے۔
جو نانا کے آنگن میں بچہ پلا ہے،
وہ باندھے کفن سر پہ کربلا چلا ہے،
وہیں سے شہادت کو رتبہ ملا ہے،
جہاں پر نبی کا گھرانا لٹا ہے۔
عجب مومنو نقشۂ کربلا ہے،
جہاں پر نبی کا گھرانا لٹا ہے۔
جسے فاطمہ بی کا آنچل ملا ہے،
وہی تو ہزاروں سے تنہا لڑا ہے،
شریعت وہی سے ہی پھولا پھلا ہے،
جہاں پر نبی کا گھرانا لٹا ہے۔
عجب مومنو نقشۂ کربلا ہے،
جہاں پر نبی کا گھرانا لٹا ہے۔
This summary is AI-generated • Reviewed for quality.
یہ کربلا کے واقعے کی دردناک داستان ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ کس طرح امام حسین اور نبی ﷺ کے پاک گھرانے نے حق کی خاطر اپنی ہر چیز قربان کر دی اور شہادت کو ہمیشہ کے لیے زندہ کر دیا۔
اس کلام کا مطلب ہے کہ کربلا کا منظر بے حد دردناک اور انوکھا ہے جہاں حضور ﷺ کا پورا گھرانہ دین کی خاطر لٹ گیا، جسے سن کر زمین و آسمان سب رو پڑے۔ اس میں چھ ماہ کے معصوم بچے (حضرت علی اصغر) سے لے کر بی بی فاطمہ کے لاڈلے (امام حسین) کی بہادری اور قربانی کا ذکر ہے، جنہوں نے اکیلے ہزاروں کا مقابلہ کر کے شریعتِ محمدی کو بچا لیا۔
| الفاظ | معنی (اردو / English) |
|---|---|
| نقشۂ کربلا | کربلا کا منظر / The scene of Karbala |
| مومنو | ایمان والو / Believers |
| چھ ماہ کا لاڈلا | چھ مہینے کا معصوم بچہ (حضرت علی اصغر) / 6-month-old beloved child |
| نانا | حضرت محمد ﷺ / Maternal Grandfather (Prophet Muhammad ﷺ) |
| شہادت | حق کی راہ میں جان دینا / Martyrdom |
| رتبہ | مقام یا درجہ / Status or Rank |
| آنچل | ماں کا سایہ یا تربیت / Protection or blessing of mother |
| شریعت | دینِ اسلام کا راستہ یا قانون / Islamic Law |
کربلا میں نبی ﷺ کے گھرانے کی قربانی نے حق اور سچائی کو ایک نیا مقام دیا ہے۔ شاعر کہتے ہیں کہ اس میدان میں معصوم بچوں سے لے کر بی بی فاطمہ کے لاڈلے تک سبھی نے سر پر کفن باندھ کر ظلم کے خلاف لڑائی لڑی۔ انھی کی اس عظیم قربانی کی وجہ سے آج اسلام زندہ ہے اور پھولا پھلا ہے۔
اس کلام کے مطابق، حضرت فاطمہ کے اس لاڈلے نے میدانِ کربلا میں اکیلے ہزاروں کا مقابلہ کیوں کیا، اور ان کی اس قربانی سے 'شریعت' کو کیا فائدہ پہنچا؟