जमाल-ए-गुम्बद-ए-ख़ज़रा कहाँ से लाओगे
- 20 گھنٹے پہلے fiber_manual_record 10 بار دیکھا گیا
,
عنوان: طیبہ سے فاطمہ کے دلارے نکل پڑے
زمرہ: کلام کے بول (لیرکس) منقبت کے بول (لیرکس) نوحہ/مرثیہ نعت کے بول (لیرکس)
مصنف/گیتکار: کلام اعلیٰ حضرت امام احمد رضا
نعت خوان/ فنکار: اشرف رضا اسماعیلی
شامل کیا گیا: 22 Jun, 2026 06:09 AM IST
دیکھا گیا: 14
Time to read: 1 min read
طیبہ سے فاطمہ کے دلارے نکل پڑے،
جانِ علی نبی کے نواسے نکل پڑے۔
پانی بھی بند کر دیا آلِ رسول کا،
اصغر کی پیاس دیکھ کے آنسو نکل پڑے۔
طیبہ سے فاطمہ کے دلارے نکل پڑے،
جانِ علی نبی کے نواسے نکل پڑے۔
کربلا کی سرزمین پر پہنچے جو اہلِ بیت،
چاروں طرف سے گھیرے ظالم نکل پڑے۔
طیبہ سے فاطمہ کے دلارے نکل پڑے،
جانِ علی نبی کے نواسے نکل پڑے۔
عون و محمد گئے شبیر پہ سوار،
لے کے رضا حسین یہ اکبر نکل پڑے۔
طیبہ سے فاطمہ کے دلارے نکل پڑے،
جانِ علی نبی کے نواسے نکل پڑے۔
This summary is AI-generated • Reviewed for quality.
یہ کلام واقعہ کربلا کے دردناک اور تاریخی منظر کو بیان کرتا ہے، جہاں حضرت امام حسین اور ان کا پاک خاندان (اہلِ بیت) دینِ اسلام کی حفاظت کے لیے مدینہ منورہ سے روانہ ہوا اور ان پر ظلم و ستم ڈھایا گیا۔
ان اشعار کا مطلب ہے کہ حضرت فاطمہ کے لاڈلے اور حضرت علی کی جان، یعنی نبی کریم ﷺ کے نواسے (امام حسین) مدینہ سے حق کی راہ میں نکل پڑے ہیں۔ کربلا کی تپتی زمین پر ظالموں نے آلِ رسول کا پانی تک بند کر دیا، جہاں معصوم علی اصغر کی پیاس دیکھ کر آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے اور دشمنوں نے انہیں چاروں طرف سے گھیر لیا۔
| لفظ (Word) | معنی (Meaning) |
|---|---|
| طیبہ | مدینہ شریف (Medina) |
| آلِ رسول | رسول اللہ ﷺ کا خاندان / اولاد |
| اہلِ بیت | نبی کریم ﷺ کا پاک گھرانہ |
| سرزمین | دھرتی / زمین (Land) |
| ظالم | ظلم کرنے والے / ستم گر |
| رضا | اجازت / مرضی (Permission) |
ان اشعار میں امام حسین اور ان کے رفقاء کی عظیم قربانی کا ذکر ہے۔ جب اہلِ بیت کربلا پہنچے تو دشمنوں نے ان پر پانی بند کر دیا، یہاں تک کہ ننھے علی اصغر کی پیاس نے سب کو خون کے آنسو رلا دیا۔ اس کے باوجود، اس پاک گھرانے کے جانثاروں (عون، محمد اور علی اکبر) نے امام حسین سے اجازت (رضا) لے کر دین کی بقا کے لیے اپنی جانیں قربان کر دیں۔
امام حسین اور ان کے خاندان کا پانی کس سرزمین پر بند کیا گیا تھا، اور ان کے ننھے بیٹے کا کیا نام تھا جن کی پیاس کا ذکر اس کلام میں ہے؟