प्यासी है सकीना
- 4 گھنٹے پہلے fiber_manual_record 6 بار دیکھا گیا
,
عنوان: کاش میں دورِ حسینی میں آیا ہوتا
زمرہ: کلام کے بول (لیرکس) نعت کے بول (لیرکس) نوحہ/مرثیہ
مصنف/گیتکار: حافظ محمد فہد نفیس قادری
نعت خوان/ فنکار: حافظ محمد فہد نفیس قادری
شامل کیا گیا: 16 Jun, 2026 06:07 PM IST
دیکھا گیا: 10
Time to read: 2 min read
یا حسین، یا حسین، یا حسین
کاش میں دورِ حسینی میں آیا ہوتا،
ان کے مقصد کے لیے جان کو لٹایا ہوتا،
کاش میں بھی بنتا مسافر سوئے کرب و بلا،
سر کے بل جاتا جو مولا نے بلایا ہوتا
کاش میں دورِ حسینی میں آیا ہوتا،
ان کے مقصد کے لیے جان کو لٹایا ہوتا
مولا جب نانا سے اور ماں سے رخصت لیتے،
ان کے پیچھے کسی کونے میں میں روتا ہوتا
کاش میں دورِ حسینی میں آیا ہوتا،
ان کے مقصد کے لیے جان کو لٹایا ہوتا
نقشِ پا چومتا جاتا جو وہ مکہ جاتے،
ان کے قدموں کے تلے پلکیں بچھاتا ہوتا
کاش میں دورِ حسینی میں آیا ہوتا،
ان کے مقصد کے لیے جان کو لٹایا ہوتا
سوئے کوفہ جو قمر باندھتے جو میرے مولا،
ان کے سامانِ سفر کو اٹھایا ہوتا
کاش میں دورِ حسینی میں آیا ہوتا،
ان کے مقصد کے لیے جان کو لٹایا ہوتا
دس محرم کی جو سب آتی تو کہتا مولا،
سو جنم ملتے بھی تو آپ پہ قربان ہوتا
کاش میں دورِ حسینی میں آیا ہوتا،
ان کے مقصد کے لیے جان کو لٹایا ہوتا
علی اکبر جو اذان دیتے سرِ کرب و بلا،
لہجے ختمِ رسول سن کے میں روتا ہوتا
کاش میں دورِ حسینی میں آیا ہوتا،
ان کے مقصد کے لیے جان کو لٹایا ہوتا
اذنِ مولا جو مجھے ملتا تو رن میں جاتا،
ان بہتر (72) میں میرا نام بھی آیا ہوتا
کاش میں دورِ حسینی میں آیا ہوتا،
ان کے مقصد کے لیے جان کو لٹایا ہوتا
This summary is AI-generated • Reviewed for quality.
یہ نوحہ امام حسین (ع) کی محبت، ان کے مشن سے وفاداری اور کربلا کے شقاوتی دور میں ان کا ساتھ نہ دے پانے پر ایک مومن کے دل کی تڑپ اور حسرت کا اظہار ہے۔
اس نوحے کا مطلب ہے کہ شاعر انتہائی دکھ اور دلی تمنا کے ساتھ کہتا ہے کہ کاش وہ امام حسین (ع) کے زمانے میں موجود ہوتا۔ اگر وہ اس دور میں ہوتا، تو مدینہ سے رخصتی کے وقت روتا، سفرِ کربلا میں آپ کے قدموں کے نشان چومتا اور ۱۰ محرم کی رات آپ پر اپنی جان نچھاور کرنے کا عہد کرتا۔
| الفاظ (Words) | معنی (Meanings) |
|---|---|
| دورِ حسینی | امام حسین (ع) کا زمانہ یا عید |
| سوئے کرب و بلا | کربلا کی طرف |
| نقشِ پا | پیروں کے نشان / قدموں کے نشان |
| سوئے کوفہ | کوفہ کی طرف |
| سامانِ سفر | مسافرت کا سامان / اسباب |
| لہجے ختمِ رسول | آخری نبی حضرت محمد ﷺ کے بولنے کا انداز |
| اذنِ مولا | مولا کی اجازت / حکم |
| رن | میدانِ جنگ |
نوحے کا خلاصہ یہ ہے کہ ایک سچا عزادار اس بات پر اشکبار ہے کہ وہ معرکہِ کربلا میں مولا کے ساتھ کیوں نہیں تھا۔ وہ کہتا ہے کہ اگر اسے امام حسین (ع) کی طرف سے جنگ کی اجازت (اذن) مل جاتی، تو وہ میدانِ کارزار میں دشمن سے لڑتا اور حق و صداقت کی خاطر جان دے کر کربلا کے ان عظیم ۷۲ شہدا میں اپنا نام درج کروا لیتا۔
شاعر نے علی اکبر (ع) کی اذان سن کر رونے کی بات کیوں کی ہے، اور ان کی آواز میں کس کا لہجہ جھلکتا تھا؟