, کاش میں دورِ حسینی میں آیا ہوتا - Shan E Nabi
search
لاگ ان
Get latest updates On WhatsApp

کاش میں دورِ حسینی میں آیا ہوتا Lyrics In اردو

(کاش میں دورِ حسینی میں آیا ہوتا, ان کے مقصد کے لیے جان کو لٹایا ہوتا)


Written By

avatar
Shan E Nabi Team Desk
  • Editors Desk
  • شامل کیا گیاnot available
  • visibilityبار دیکھا گیا
  • comment تبصرے
  • thumb_up0 بار پسند کیا گیا
  • shareشیئر کریں
...

عنوان: کاش میں دورِ حسینی میں آیا ہوتا

زمرہ: کلام کے بول (لیرکس) نعت کے بول (لیرکس) نوحہ/مرثیہ

شامل کیا گیا: 16 Jun, 2026 06:07 PM IST

دیکھا گیا: 10

Time to read: 2 min read

بول کی زبان منتخب کریں:

یا حسین، یا حسین، یا حسین

کاش میں دورِ حسینی میں آیا ہوتا،
ان کے مقصد کے لیے جان کو لٹایا ہوتا،
کاش میں بھی بنتا مسافر سوئے کرب و بلا،
سر کے بل جاتا جو مولا نے بلایا ہوتا

کاش میں دورِ حسینی میں آیا ہوتا،
ان کے مقصد کے لیے جان کو لٹایا ہوتا

مولا جب نانا سے اور ماں سے رخصت لیتے،
ان کے پیچھے کسی کونے میں میں روتا ہوتا

کاش میں دورِ حسینی میں آیا ہوتا،
ان کے مقصد کے لیے جان کو لٹایا ہوتا

نقشِ پا چومتا جاتا جو وہ مکہ جاتے،
ان کے قدموں کے تلے پلکیں بچھاتا ہوتا

کاش میں دورِ حسینی میں آیا ہوتا،
ان کے مقصد کے لیے جان کو لٹایا ہوتا

سوئے کوفہ جو قمر باندھتے جو میرے مولا،
ان کے سامانِ سفر کو اٹھایا ہوتا

کاش میں دورِ حسینی میں آیا ہوتا،
ان کے مقصد کے لیے جان کو لٹایا ہوتا

دس محرم کی جو سب آتی تو کہتا مولا،
سو جنم ملتے بھی تو آپ پہ قربان ہوتا

کاش میں دورِ حسینی میں آیا ہوتا،
ان کے مقصد کے لیے جان کو لٹایا ہوتا

علی اکبر جو اذان دیتے سرِ کرب و بلا،
لہجے ختمِ رسول سن کے میں روتا ہوتا

کاش میں دورِ حسینی میں آیا ہوتا،
ان کے مقصد کے لیے جان کو لٹایا ہوتا

اذنِ مولا جو مجھے ملتا تو رن میں جاتا،
ان بہتر (72) میں میرا نام بھی آیا ہوتا

کاش میں دورِ حسینی میں آیا ہوتا،
ان کے مقصد کے لیے جان کو لٹایا ہوتا

wand_stars
Lyrics Explanation, Word Meanings & Summary

This summary is AI-generated • Reviewed for quality.

keyboard_arrow_down

یہ نوحہ امام حسین (ع) کی محبت، ان کے مشن سے وفاداری اور کربلا کے شقاوتی دور میں ان کا ساتھ نہ دے پانے پر ایک مومن کے دل کی تڑپ اور حسرت کا اظہار ہے۔

اشعار کی تشریح (Lyrics Explanation)

اس نوحے کا مطلب ہے کہ شاعر انتہائی دکھ اور دلی تمنا کے ساتھ کہتا ہے کہ کاش وہ امام حسین (ع) کے زمانے میں موجود ہوتا۔ اگر وہ اس دور میں ہوتا، تو مدینہ سے رخصتی کے وقت روتا، سفرِ کربلا میں آپ کے قدموں کے نشان چومتا اور ۱۰ محرم کی رات آپ پر اپنی جان نچھاور کرنے کا عہد کرتا۔


الفاظ کے معنی (Word Meanings)

الفاظ (Words)معنی (Meanings)
دورِ حسینیامام حسین (ع) کا زمانہ یا عید
سوئے کرب و بلاکربلا کی طرف
نقشِ پاپیروں کے نشان / قدموں کے نشان
سوئے کوفہکوفہ کی طرف
سامانِ سفرمسافرت کا سامان / اسباب
لہجے ختمِ رسولآخری نبی حضرت محمد ﷺ کے بولنے کا انداز
اذنِ مولامولا کی اجازت / حکم
رنمیدانِ جنگ

خلاصہ (Summary)

نوحے کا خلاصہ یہ ہے کہ ایک سچا عزادار اس بات پر اشکبار ہے کہ وہ معرکہِ کربلا میں مولا کے ساتھ کیوں نہیں تھا۔ وہ کہتا ہے کہ اگر اسے امام حسین (ع) کی طرف سے جنگ کی اجازت (اذن) مل جاتی، تو وہ میدانِ کارزار میں دشمن سے لڑتا اور حق و صداقت کی خاطر جان دے کر کربلا کے ان عظیم ۷۲ شہدا میں اپنا نام درج کروا لیتا۔

شاعر نے علی اکبر (ع) کی اذان سن کر رونے کی بات کیوں کی ہے، اور ان کی آواز میں کس کا لہجہ جھلکتا تھا؟

Read more ↓
Was this page helpful?
شیئر کریں: