सदाए गुम्बद-ए-ख़ज़रा हुसैन जीत गए
- 3 دن پہلے fiber_manual_record 57 بار دیکھا گیا
,
عنوان: جمالِ گنبدِ خضرا کہاں سے لاؤ گے
زمرہ: کلام کے بول (لیرکس) نعت کے بول (لیرکس)
مصنف/گیتکار: مختلف/نامعلوم
نعت خوان/ فنکار: امین اللہ بلرام پوری
شامل کیا گیا: 21 Jun, 2026 12:40 PM IST
دیکھا گیا: 8
Time to read: 2 min read
جمالِ گنبدِ خضرا کہاں سے لاؤ گے،
نبی سے پھر کے اُجالا کہاں سے لاؤ گے۔
ہزار بار پکارو اذان دنیا میں،
تمام عمر پکارو اذان کعبہ سے،
مگر بلال سا لہجہ کہاں سے لاؤ گے۔
جمالِ گنبدِ خضرا کہاں سے لاؤ گے،
نبی سے پھر کے اُجالا کہاں سے لاؤ گے۔
نبی کے دین پہ مٹنے کی بات کرتے ہو،
حسین جیسا کلیجہ کہاں سے لاؤ گے۔
جمالِ گنبدِ خضرا کہاں سے لاؤ گے،
نبی سے پھر کے اُجالا کہاں سے لاؤ گے۔
ہے پورے ہند میں قبضہ ہمارے خواجہ کا،
ہمارے خواجہ کے جیسا کہاں سے لاؤ گے۔
جمالِ گنبدِ خضرا کہاں سے لاؤ گے،
نبی سے پھر کے اُجالا کہاں سے لاؤ گے۔
کروڑوں لوگ ہوں جس میں سوائے اختر کے،
بتاؤ ایسا جنازہ کہاں سے لاؤ گے۔
وہ جن کی ذات پہ تقویٰ بھی ناز کرتا ہے،
مثالِ تاج الشریعہ کہاں سے لاؤ گے۔
جمالِ گنبدِ خضرا کہاں سے لاؤ گے،
نبی سے پھر کے اُجالا کہاں سے لاؤ گے۔
کوئی ہے مصطفیٰ اعظم تو کوئی اختر ہے،
رضا کے جیسا گھرانا کہاں سے لاؤ گے۔
جمالِ گنبدِ خضرا کہاں سے لاؤ گے،
نبی سے پھر کے اُجالا کہاں سے لاؤ گے۔
This summary is AI-generated • Reviewed for quality.
یہ حضور نبی کریم ﷺ کی عظمت، ان کے سچے عاشقوں اور ان کے مقدس گھرانے کی بے مثال شان کا بیان ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ آپ ﷺ کے در سے منہ موڑ کر کائنات میں کہیں ہدایت کا اجالا نہیں مل سکتا۔
اس کلام کا مفہوم یہ ہے کہ حضور ﷺ کی ذات اور ان سے جڑی ہر نسبت کائنات میں منفرد اور بے مثال ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ دنیا یا کعبے سے چاہے جتنی بار بھی اذان دی جائے، مگر حضرت بلال حبشیؓ جیسا عشقِ رسول سے لبریز لہجہ اور دینِ اسلام کی خاطر سب کچھ قربان کرنے کے لیے امام حسینؓ جیسا جگر اور حوصلہ دوبارہ نہیں لایا جا سکتا۔
| الفاظ | معانی (Meanings) |
|---|---|
| جمالِ گنبدِ خضرا | ہرے گنبد کی خوبصورتی اور رعب |
| لہجہ | پکارنے کا انداز یا آواز |
| کلیجہ | ہمت، بہادری یا بڑا جگر |
| تقویٰ | پرہیزگاری اور خدا ترسی |
| مثالِ تاج الشریعہ | تاج الشریعہ (مفتی اختر رضا خان) جیسی مثال |
| ذات | شخصیت یا وجود |
اس نعتِ پاک میں بتایا گیا ہے کہ مدینے کی رونق، حضرت بلالؓ کا شوقِ اذان اور میدانِ کربلا میں امام حسینؓ کی قربانی ایسی مثالیں ہیں جن کا کائنات میں کوئی ثانی نہیں۔ اس کے ساتھ ہی ہند میں خواجہ غریب نوازؒ کی ولایت اور بریلی کے 'رضا گھرانے' کی علمی و روحانی شان کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے انہیں بے مثال قرار دیا گیا ہے۔
شاعر کے مطابق، "نبی کے دین پہ مٹنے" کے لیے کس کے جیسے کلیجے (حوصلے) کی ضرورت ہوتی ہے، اور ہند میں کس بزرگ کا قبضہ بتایا گیا ہے؟