सदाए गुम्बद-ए-ख़ज़रा हुसैन जीत गए
- 12 گھنٹے پہلے fiber_manual_record 21 بار دیکھا گیا
,
عنوان: دیکھا ہے کربلا کا جو منظر لہو لہو
زمرہ: منقبت کے بول (لیرکس) نوحہ/مرثیہ نعت کے بول (لیرکس)
مصنف/گیتکار: اکرم رضا شاہدی
نعت خوان/ فنکار: اکرم رضا شاہدی
شامل کیا گیا: 18 Jun, 2026 06:52 AM IST
دیکھا گیا: 5
Time to read: 1 min read
دیکھا ہے کربلا کا جو منظر لہو لہو،
صحرا لہو لہو ہے، سمندر لہو لہو۔
ابدی حیات دے گیا گلزارِ دیں کو،
حیدر و فاطمہ کا گُلِ تر لہو لہو۔
دیکھا ہے کربلا کا جو منظر لہو لہو،
دیکھا ہے کربلا کا جو منظر لہو لہو۔
ان کی کوئی مثال نہ ان کا کوئی جواب،
کرب و بلا میں تھے جو بہتر لہو لہو۔
دیکھا ہے کربلا کا جو منظر لہو لہو،
دیکھا ہے کربلا کا جو منظر لہو لہو۔
قربانیوں کے رنگ کی ایسی نہیں مثال،
شبیر سرخ سبز ہے، شبر لہو لہو۔
دیکھا ہے کربلا کا جو منظر لہو لہو،
دیکھا ہے کربلا کا جو منظر لہو لہو۔
اکرم رضا! تو پوچھ یہ عالی مقام سے،
جس وقت تھا آغوش میں اصغر لہو لہو۔
دیکھا ہے کربلا کا جو منظر لہو لہو،
صحرا لہو لہو ہے، سمندر لہو لہو۔
This summary is AI-generated • Reviewed for quality.
یہ کربلا کے خونیں منظر، امام حسین علیہ السلام اور ان کے بہتر (72) جانثار ساتھیوں کی عظیم قربانی کا بیان ہے، جس میں دینِ اسلام کو زندہ رکھنے کے لیے ان کے بہائے گئے پاکیزہ خون کا ذکر کیا گیا ہے۔
اس کلام کا مطلب ہے کہ کربلا کا پورا منظر خون میں ڈوبا ہوا تھا، جہاں صحرا کی ریت سے لے کر سمندر (دریا) تک سب سرخ تھا۔ شاعر کہتا ہے کہ حضرت علی اور بی بی فاطمہ کے پیارے لاڈلے (امام حسین) نے اپنے پاک خون سے دین کے باغ کو ہمیشہ کی زندگی دے دی، اور ان کے چھ مہینے کے معصوم بیٹے علی اصغر کی شہادت نے اس قربانی کو قیامت تک کے لیے امر کر دیا۔
| الفاظ (Word) | معانی (Meaning) |
|---|---|
| منظر | نظارہ / دیکھنا (Scene) |
| لہو لہو | خون سے لت پت (Drenched in blood) |
| ابدی حیات | ہمیشہ کی زندگی / امرتا (Eternal life) |
| گلزارِ دیں | دین کا باغ / اسلام کا چمن (Garden of Islam) |
| گُلِ تر | تازہ پھول (Fresh flower - اشارہ امام حسین کی طرف) |
| بہتر | 72 (کربلا کے بہتر شہداء) |
| شبیر | حضرت امام حسین کا لقب |
| شبر | حضرت امام حسن کا لقب |
| آغوش | گود (Lap) |
کربلا کے میدان میں حق اور باطل کی جنگ میں امام حسین اور ان کے بہتر ساتھیوں نے جو لازوال قربانی دی، اس کی کائنات میں کوئی دوسری مثال نہیں ملتی۔ شاعر "اکرم رضا" کہتے ہیں کہ اس دردناک وقت کی انتہا تب ہوئی جب معصوم علی اصغر اپنے والد کی گود میں خون سے لت پت ہو گئے، لیکن اس بے زبان قربانی نے اسلام کے چمن کو ہمیشہ کے لیے ہرا بھرا کر دیا۔
کربلا میں اسلام کے باغ (گلزارِ دین) کو ہمیشہ کی زندگی (ابدی حیات) دینے کے لیے "حیدر و فاطمہ" کے کس پیارے لاڈلے نے اپنی اور اپنے 6 مہینے کے معصوم بیٹے کی قربانی دی؟