اندھیری رات ہے غم کی گھٹا عصیاں کی کالی ہے
- 1 مہینہ پہلے fiber_manual_record 117 بار دیکھا گیا
,
عنوان: اتنا مجھ کو نہ رلاؤ اب بلاؤ یا نبی
زمرہ: نعت کے بول (لیرکس) نظم کے بول (لیرکس)
مصنف/گیتکار: محمد فیض عالم مانکوہ مرادآبادی
نعت خوان/ فنکار: مختلف/نامعلوم
شامل کیا گیا: 27 Feb, 2026 06:12 AM IST
دیکھا گیا: 153
Time to read: 2 min read
اتنا مجھ کو نہ رلاؤ، اب بلاؤ یا نبی
روضہ اپنا تو دکھاؤ، اب بلاؤ یا نبی
اب بلاؤ یا نبی...
روضے سے ہے جو برستا، آپ کا وہ نور ہے
ہم بغیر دیکھے ہیں عاشق، آپ کا وہ نور ہے
جلوۂ روضہ ہمیں تو دکھاؤ یا نبی
اب بلاؤ یا نبی...
اتنا مجھ کو نہ رلاؤ، اب بلاؤ یا نبی
اب بلاؤ یا نبی...
دل میں ہے تصویر اُتاری، ہر سانس میں حضور ہے
نام لیتے لگتا ایسا، ہر درد سے ہم دور ہیں
رحمتوں کی چھاؤں میں ہم کو بٹھاؤ یا نبی
دل میں ہے وہ جلوہ گر، ہر سانس میں حضور ہے
نام لیتے لگتا ایسا، ہر درد سے ہم دور ہیں
رحمتوں کی چھاؤں میں ہم کو بٹھاؤ یا نبی
اب بلاؤ یا نبی...
اتنا مجھ کو نہ رلاؤ، اب بلاؤ یا نبی
اب بلاؤ یا نبی...
ہم کو بھی آقا کبھی، دکھلائیے اب وہ جہاں
دل کو اپنے تھام کے، بیٹھے ہوئے ہیں ہم گدا
دل کی حسرت کو مٹاؤ، اب بلاؤ یا نبی
اب بلاؤ یا نبی...
اتنا ہم کو نہ رلاؤ، اب بلاؤ یا نبی
اب بلاؤ یا نبی...
دو جہاں کے بادشاہ اور ہم فقیروں کے نبی
فیض روتا ہے یہاں، کر دو کرم اس پر ابھی
اپنی گلیوں کی فضاؤں سے ملاؤ یا نبی
اب بلاؤ یا نبی...
اتنا مجھ کو نہ رلاؤ، اب بلاؤ یا نبی
اب بلاؤ یا نبی...
This summary is AI-generated • Reviewed for quality.
ہ کلام ایک عاشقِ رسول ﷺ کی بے چینی اور مدینہ منورہ کی حاضری کے لیے تڑپ کا اظہار ہے۔ اس میں ہجر و فراق کی کیفیت اور روضہِ رسول ﷺ کے دیدار کی گہری تمنا بیان کی گئی ہے۔
شاعر بارگاہِ رسالت ﷺ میں التجا کر رہا ہے کہ اب جدائی کے آنسو مزید برداشت نہیں ہوتے، ہمیں اپنے دربار میں بلا لیجیے۔ وہ کہتا ہے کہ ہم نے آپ ﷺ کو دیکھا نہیں لیکن آپ ﷺ کے نور کے بن دیکھے عاشق ہیں، اب ہمیں اپنی رحمتوں کے سائے میں جگہ عطا فرمائیے۔
| لفظ | معنی |
|---|---|
| روضہ | مزارِ مبارک (Prophet's Shrine) |
| جلوہ گر | نمایاں ہونا یا دل میں بسا ہونا |
| گدا | فقیر یا منگتا (Beggar) |
| حسرت | دلی خواہش جو پوری نہ ہوئی ہو |
| فضاؤں | ہواؤں یا ماحول (Atmosphere) |
| فیض | شاعر کا تخلص (مراد: فائدہ یا بخشش) |
اس نعت کا خلاصہ یہ ہے کہ مومن کے دل میں حضور ﷺ کی یاد ہر سانس میں بسی ہوئی ہے اور ان کا نام ہی ہر دکھ کا مداوا ہے۔ شاعر اپنی عاجزی کا ذکر کرتے ہوئے کہتا ہے کہ ہم فقیروں کی لاج رکھیے اور ہمیں مدینے کی ان فضاؤں سے ملا دیجیے جن کے لیے ہمارا دل بے قرار ہے۔
شاعر نے "ہم بنا دیکھے ہیں عاشق" کہہ کر عشقِ رسول ﷺ کے کس پاکیزہ جذبے کی طرف اشارہ کیا ہے؟