کاش میں دورِ حسینی میں آیا ہوتا
- 2 گھنٹے پہلے fiber_manual_record 9 بار دیکھا گیا
,
عنوان: پیاسی ہے سکینہ
زمرہ: کلام کے بول (لیرکس) نوحہ/مرثیہ نعت کے بول (لیرکس) نظم کے بول (لیرکس)
مصنف/گیتکار: ندیم رضا قریشی (پیلی بھیتی)
نعت خوان/ فنکار: ندیم رضا قریشی (پیلی بھیتی)
شامل کیا گیا: 16 Jun, 2026 05:25 PM IST
دیکھا گیا: 6
Time to read: 2 min read
ے بادِ صبا جا کے یہ چاچا کو بتانا! پیاسی ہے سکینہ
اے بادِ صبا جا کے یہ چاچا کو بتانا! پیاسی ہے سکینہ
اِس چھوٹے سے سینے میں ستم میں نے اٹھائے
اللہ کسی کو بھی نہ یتیم ایسا بنائے
خود اپنے لہو میں کوئی بچی نہ نہائے
میں تم کو بلاتی رہی، تم بھی تو نہ آئے
میں بن گئی با دستِ لعینوں کا نشانہ
پیاسی ہے سکینہ۔۔۔
اے بادِ صبا جا کے یہ چاچا کو بتانا! پیاسی ہے سکینہ
پانی کی طلب مجھ کو کھلاتی رہی ٹھوکر
کہتا تھا لعین دوں گا میں فوجوں کو پلا کر
جب شمرِ لعین کر چکا سیراب یہ لشکر
دکھلا کے مجھے پھینک دیا پانی زمیں پر
تب سمجھی میں ہوتا ہے کیا اُمید دلانا
پیاسی ہے سکینہ۔۔۔
اے بادِ صبا جا کے یہ چاچا کو بتانا! پیاسی ہے سکینہ
ایک جام ہوا شامِ غریباں میں میسر
وہ کوزہ میں رکھ آئی تھی اصغر کی لحد پر
تھا مجھ سے بھی چھوٹا میرا بھیا میرا دلبر
شرمندہ میں ہو جاتی چچا پیاس بجھا کر
اب اپنے ہی ہاتھوں سے میری پیاس بجھانا
پیاسی ہے سکینہ۔۔۔
اے بادِ صبا جا کے یہ چچا کو بتانا! پیاسی ہے سکینہ
جس روز سے اکبر کو ملا بابا کا سینہ
اُس روز سے چاچا نہیں سو پائی سکینہ
کس حال میں جاؤں گی، میں کس طرح مدینہ
آ جائے مجھے موت ہے کس کام کا جینا
جاگی ہوں بہت آ کے چاچا مجھ کو سلانا
پیاسی ہے سکینہ۔۔۔
اے بادِ صبا جا کے یہ چچا کو بتانا! پیاسی ہے سکینہ
This summary is AI-generated • Reviewed for quality.
یہ نوحہ حضرت سکینہ (ع) کی پیاس، معصومیت اور کربلا میں ان پر ڈھائے گئے مظالم کا بیان ہے، جس میں وہ صبح کی ٹھنڈی ہوا (بادِ صبا) کے ذریعے اپنے چچا حضرت عباس (ع) تک اپنا دردناک پیغام پہنچا رہی ہیں۔
اس نوحے کا مطلب ہے کہ حضرت سکینہ (ع) کربلا کی تپتی زمین پر اپنے چچا عباس (ع) کو یاد کر کے رو رہی ہیں اور ہوا سے کہہ رہی ہیں کہ میرے چچا کو جا کر میری پیاس اور بیچارگی کا حال بتاؤ۔ وہ کہتی ہیں کہ آپ کے بعد یزیدی فوج نے مجھ پر بہت ظلم کیے، یہاں تک کہ پانی دکھا کر زمین پر بہا دیا اور میری امیدوں کو توڑ دیا۔
| الفاظ (Words) | معنی (Meanings) |
|---|---|
| بادِ صبا | صبح کی ٹھنڈی اور نرم ہوا |
| بادستِ لعینوں | ظالموں/ملعون لوگوں کے ہاتھوں |
| سیراب | پیاس بجھانا / پانی سے بھر پور کرنا |
| شامِ غریباں | ۱۰ محرم کی وہ دردناک رات جب اہل بیت کے خیمے جلا دیے گئے تھے |
| میسر | حاصل ہونا / نصیب ہونا |
| کوزہ | مٹی کا چھوٹا پیالہ یا برتن |
| لحد | قبر |
حضرت سکینہ (ع) اپنے چچا کو پکارتے ہوئے کہتی ہیں کہ دشمنوں نے ان کی پیاس کا مذاق اڑایا، لیکن جب انہیں پانی کا ایک پیالہ ملا تو انہوں نے اپنے چھوٹے بھائی علی اصغر (ع) کی پیاس کو یاد کیا اور وہ کوزہ ان کی قبر پر رکھ آئیں۔ اب وہ مصائب سے اس قدر تھک چکی ہیں کہ مدینہ واپس جانے کے بجائے اپنے چچا سے آکر انہیں ہمیشہ کی نیند (موت کی آغوش میں) سلانے کی التجا کر رہی ہیں۔
حضرت سکینہ نے پانی کا کوزہ (پیالہ) اصغر کی لحد (قبر) پر کیوں رکھ دیا، اور انہوں نے اپنے چچا سے کس طرح سلانے کی گزارش کی ہے؟