चमका माह-ए-नूर का हिलाल
- 3 گھنٹے پہلے fiber_manual_record 7 بار دیکھا گیا
,
عنوان: سارے عالم میں محبت کی گھٹا چھائی ہے
زمرہ: نعت کے بول (لیرکس) نظم کے بول (لیرکس)
مصنف/گیتکار: بیدم شاہ وارثی۔
نعت خوان/ فنکار: اسد اقبال کلکتوی شعیب رضا وارثی سیف رضا کانپوری
شامل کیا گیا: 16 Aug, 2026 04:36 PM IST
دیکھا گیا: 12
Time to read: 1 min read
سارے عالم میں محبت کی گھٹا چھائی ہے،
آپ آئے تو زمانے میں بہار آئی ہے۔
خوشبو بن کے جو میرے دل میں اتر آئی ہے،
وہ تیری یاد ہے، اب روح سمجھ پائی ہے۔
روح جب وادیِ پُردرد میں گھبرائی ہے،
اُمّتی، اُمّتی آقا کی صدا آئی ہے۔
آنکھ کے تل میں ہے محفوظ جمالِ خضرا،
جیسے جنت میری نظروں میں سمٹ آئی ہے۔
ذاتِ سرکار ہے نورانی صحیفوں کی دلیل،
یعنی قرآن سے پہلے یہ کتاب آئی ہے۔
ہر جگہ میرے لیے سب نے بچھائی آنکھیں،
ہر جگہ تیری ہی نسبت میرے کام آئی ہے۔
کوئی مشکل ہو، کوئی غم ہو، کرو ذکرِ حبیب،
یہ دوا وہ ہے جو ہر دور میں کام آئی ہے۔
مرنے والے کی کھلی آنکھ کھلی رہنے دو،
وہ نظر جلوۂ آقا کی تمنائی ہے۔
جب طبیعت غمِ تنہائی سے گھبرائی ہے،
ہم ترے ساتھ ہیں، یہ اُن کی صدا آئی ہے۔
ساری دنیا کی نگاہوں سے گرا ہے بے دم،
تب کہیں جا کے ترے دل میں جگہ پائی ہے۔
سارے عالم میں محبت کی گھٹا چھائی ہے،
آپ آئے تو زمانے میں بہار آئی ہے۔
This summary is AI-generated • Reviewed for quality.
یہ نعت حضور ﷺ کی بے پناہ محبت، آپ کی یاد کے سکون اور نعت گو کی عقیدت کا بیان ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ زندگی کے ہر غم اور مشکل کی واحد دوا صرف حضور ﷺ کا ذکر ہے۔
ان اشعار کا مطلب یہ ہے کہ پوری کائنات پر آپ ﷺ کی محبت کی چھاؤں ہے اور آپ کی یاد دل کو مہکانے والی خوشبو ہے۔ جب روح تنہائی یا درد سے گھبراتی ہے تو آقا ﷺ کی "اُمّتی، اُمّتی" کی صدا دلاسہ دیتی ہے، اور ہر پریشانی میں آپ کا ذکر ہی سب سے بڑی شفا ہے۔
| Word (لفظ) | Meaning (معنی) |
|---|---|
| عالم (Aalam) | دنیا / کائنات (World) |
| جمالِ خضرا (Jamaal-E-Khazra) | گنبدِ خضرا (مدینہ) کی خوبصورتی |
| نسبت (Nisbat) | تعلق یا واسطہ (Connection) |
| ذکرِ حبیب (Zikr-E-Habeeb) | پیارے نبی ﷺ کا ذکر |
| تمنائی (Tamannaai) | تمنا یا آرزو رکھنے والا |
یہ نعت حضور ﷺ سے عشق و محبت اور آپ کی نسبت کی عظمت کو ظاہر کرتی ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ دنیا کی ہر ٹھوکر اور غم کے بعد جب انسان آپ ﷺ کے در سے جڑتا ہے اور آپ کے ذکر کو اپنا شیوہ بناتا ہے، تب جاکر اس کے دل کو حقیقی سکون اور مقام نصیب ہوتا ہے۔
اس نعت کے مطابق، ہر مشکل اور غم کو دور کرنے کے لیے کون سا بہترین نسخہ (دوا) بتایا گیا ہے؟