ये न पूछो किधर जा रहा हूँ
- 14 گھنٹے پہلے fiber_manual_record 11 بار دیکھا گیا
,
عنوان: مطلبی یہ دنیا ہے مطلبی زمانہ ہے
زمرہ: کلام کے بول (لیرکس) منقبت کے بول (لیرکس) نظم کے بول (لیرکس)
مصنف/گیتکار: عظمت رضا بھاگلپوری
نعت خوان/ فنکار: عظمت رضا بھاگلپوری
شامل کیا گیا: 24 Aug, 2026 09:16 AM IST
دیکھا گیا: 13
Time to read: 1 min read
بات یہ حقیقت ہے، نہ کوئی فسانہ ہے،
خالی ہاتھ آئے تھے، خالی ہاتھ جانا ہے۔
مطلبی یہ دنیا ہے، مطلبی زمانہ ہے،
خالی ہاتھ آئے تھے، خالی ہاتھ جانا ہے۔
چار دن کی دنیا سے، دل لگائے بیٹھے ہو،
موت آئے گی ایک دن، کیوں بھلائے بیٹھے ہو؟
مال اور یہ دولت، کچھ نہ کام آنا ہے،
خالی ہاتھ آئے تھے، خالی ہاتھ جانا ہے۔
مطلبی یہ دنیا ہے، مطلبی زمانہ ہے،
خالی ہاتھ آئے تھے، خالی ہاتھ جانا ہے۔
باپ اور ماں کو کیوں، ہر گھڑی ستاتے ہو؟
وہ تمہاری جنت ہیں، کیوں انہیں رلاتے ہو؟
یاد رکھو، مر کے پھر رب کو منہ دکھانا ہے،
خالی ہاتھ آئے تھے، خالی ہاتھ جانا ہے۔
مطلبی یہ دنیا ہے، مطلبی زمانہ ہے،
خالی ہاتھ آئے تھے، خالی ہاتھ جانا ہے۔
بات یہ حقیقت ہے، نہ کوئی فسانہ ہے،
خالی ہاتھ آئے تھے، خالی ہاتھ جانا ہے۔
This summary is AI-generated • Reviewed for quality.
یہ کلام زندگی کی بے ثباتی، دنیا کی خود غرضی، موت کی اٹل حقیقت اور والدین کے ادب و احترام کی اہمیت کو نہایت مؤثر اور نصیحت آموز انداز میں پیش کرتا ہے۔
ان اشعار کا مفہوم یہ ہے کہ یہ دنیا اور اس کا مطلبی ماحول فانی ہے، جہاں انسان خالی ہاتھ آتا ہے اور خالی ہاتھ ہی رخصت ہوتا ہے۔ اس لیے دنیا کی عارضی دولت کے پیچھے بھاگने کے بجائے اپنے ماں باپ کی خدمت کرنی چاہیے کیونکہ ایک دن اللہ کے حضور اپنے اعمال کا حساب دینا ہے۔
| لفظ (Word) | معنی (Meaning) |
|---|---|
| حقیقت | اصلی سچائی، واقعی امر |
| فسانہ | کہانی، قصہ یا افسانہ |
| مطلبی زمانہ | غرض پرست دنیا اور لوگ |
| مال اور دولت | دنیا کا روپیہ پیسہ اور جائیداد |
| جन्नत | جنت / بہشت (یہاں ماں باپ کی رضا کو جنت کا ذریعہ بتایا گیا ہے) |
| منہ دکھانا | سامنا کرنا یا جوابدہ ہونا |
اس کلام میں انسان کو یہ بنیادی سچائی یاد دلائی گئی ہے کہ دنیا کی رونقیں اور مال و دولت سب یہیں رہ جانے والے ہیں اور موت کا سامنا ہر ایک کو کرنا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ والدین کو ستانے سے سختی سے منع کیا گیا ہے کیونکہ وہ انسان کی دنیا کی اصل کمائی اور جنت ہیں، اور مرنے کے بعد ہر شخص کو اپنے پروردگار کے سامنے اپنے اچھے برے اعمال کا حساب دینا ہے۔
کلام میں شاعر نے دنیا کے کس سچ کو سب سے بڑا 'فسانہ' یا حقیقت بتایا ہے، اور ماں باپ کو کس چیز کا ذریعہ قرار دیا ہے؟