रुख़ दिन है या महर-ए-समा ये भी नहीं वो भी नहीं
- 3 گھنٹے پہلے fiber_manual_record 8 بار دیکھا گیا
,
عنوان: Ek Mai Hi Nahi Un Par Qurban Zamana Hai
زمرہ: نعت کے بول (لیرکس)
مصنف/گیتکار: مختلف/نامعلوم
نعت خوان/ فنکار: اویس رضا قادری
شامل کیا گیا: 01 Aug, 2023 06:11 PM IST
دیکھا گیا: 23.8K
Time to read: 1 min read
translate بول کی زبان منتخب کریں:
Ek Mai Hi Nahi Un Par Qurban Zamana Hai
JOo Rabbe Du Alam Ka Mahboob Yagana Hai
Kal Pul Se Hame Jisne Khud Paar Lagana Hai
Zahra Ka Wo Baba Hai Hasnain Ka Nana Hai
Ek Mai Hi Nahi Un Par Qurban Zamana Hai
AAo Dare Zahra Par Failaye Houe Daman
Hai Nasal Kareemo Ki Lajpal Gharana Hai
Ek Mai Hi Nahi Un Par Qurban Zamana Hai
Izzat Se Kyun Mar Jaye Ham Name Mohmmad Par
Youn Bhi Kisi Din Hamko Duniya Se To Jana Hai
Ek Mai Hi Nahi Un Par Qurban Zamana Hai
Mahroome Karam Isko Rakhna Na Sare Mahshar
Jaisa Hai Naseer Aakhir Saail To Purana Hai
Ek Mai Hi Nahi Un Par Qurban Zamana Hai
JOo Rabbe Du Alam Ka Mahboob Yagana Hai
This summary is AI-generated • Reviewed for quality.
یہ روح پرور اور بے حد مقبول نعتِ پاک (پیر سید نصیر الدین نصیر گیلانی رحمتہ اللہ علیہ کی لکھی ہوئی) بارگاہِ رسالت مآب ﷺ میں عقیدت کا بے مثال نذرانہ ہے، جس میں حضور ﷺ کی شفاعت اور ان کے پاکیزہ خاندان کی سخاوت کا تذکرہ ہے۔
ان اشعار کا مطلب ہے کہ صرف میں ہی نہیں، بلکہ یہ سارا زمانہ میرے نبی ﷺ کی محبت پر قربان ہے، جو دونوں جہانوں کے پالنے والے رب کے سب سے لاڈلے اور بے مثل محبوب ہیں۔ شاعر کہتا ہے کہ کل قیامت کے دن پل صراط کی کٹھن راہ پر جو خود ہمارا ہاتھ پکڑ کر ہمیں پار لگائیں گے، وہ کوئی اور نہیں بلکہ خاتونِ جنت بی بی فاطمہ زہراؑ کے والدِ گرامی اور حسنینِ کریمینؑ کے نانا جان ہیں۔
| لفظ (Word) | معنی (Meaning) |
|---|---|
| یگانہ | واحد / لاثانی یا سب سے الگ |
| پُل | پل صراط (قیامت کا ایک کٹھن راستہ) |
| لجپال | لاج رکھنے والا / انتہائی سخی اور مہربان |
| نامِ محمدؐ پر مرنا | حضور ﷺ کی عزت و ناموس پر جان قربان کرنا |
| محرومِ کرم | مہربانی اور لطف و کرم سے محروم |
| سارے محشر | قیامت کے میدان میں |
| سائل | سوال کرنے والا / منگتا |
اس کلام کا بنیادی لبِ لباب یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ اور ان کی آل کا گھرانہ (اہلِ بیت) بے حد سخی اور لجپال ہے، جہاں سے کوئی بھی منگتا خالی ہاتھ نہیں لوٹتا۔ شاعر کے نزدیک حضور ﷺ کے نام پر جان دینا سب سے بڑی عزت ہے، کیونکہ موت تو بہرحال ایک دن آنی ہی ہے۔ آخر میں شاعر 'نصیر' گریہ و زاری کرتے ہوئے التجا کرتے ہیں کہ اے آقا، محشر کی تپش میں مجھے اپنے لطف و کرم سے دور نہ رکھنا، کیونکہ میں جیسا بھی ہوں، آپ کے در کا ایک پرانا سائل ہوں۔
لیرکس کے مطابق، کل قیامت کے دن ہمیں پل صراط سے کون پار لگائیں گے؟