, Ek Mai Hi Nahi Un Par Qurban Zamana Hai Lyrics In English - Shan E Nabi
search
لاگ ان
Get latest updates On WhatsApp

Ek Mai Hi Nahi Un Par Qurban Zamana Hai Lyrics In اردو


Written By

avatar
  • Editors Desk
  • شامل کیا گیاnot available
  • visibilityبار دیکھا گیا
  • comment تبصرے
  • thumb_up0 بار پسند کیا گیا
  • shareشیئر کریں
...

عنوان: Ek Mai Hi Nahi Un Par Qurban Zamana Hai

زمرہ: نعت کے بول (لیرکس)

مصنف/گیتکار: مختلف/نامعلوم

نعت خوان/ فنکار: اویس رضا قادری

شامل کیا گیا: 01 Aug, 2023 06:11 PM IST

دیکھا گیا: 23.8K

Time to read: 1 min read

translate بول کی زبان منتخب کریں:

Ek Mai Hi Nahi Un Par Qurban Zamana Hai 
JOo Rabbe Du Alam Ka Mahboob Yagana Hai 

Kal Pul Se Hame Jisne Khud Paar Lagana Hai 
Zahra Ka Wo Baba Hai Hasnain Ka Nana Hai 

Ek Mai Hi Nahi Un Par Qurban Zamana Hai 

AAo Dare Zahra Par Failaye Houe Daman
Hai Nasal Kareemo Ki Lajpal Gharana Hai

Ek Mai Hi Nahi Un Par Qurban Zamana Hai 

Izzat Se Kyun Mar Jaye Ham Name Mohmmad Par 
Youn Bhi Kisi Din Hamko Duniya Se To Jana Hai 

Ek Mai Hi Nahi Un Par Qurban Zamana Hai 

Mahroome Karam Isko Rakhna Na Sare Mahshar 
Jaisa Hai Naseer Aakhir Saail To Purana Hai

Ek Mai Hi Nahi Un Par Qurban Zamana Hai 
JOo Rabbe Du Alam Ka Mahboob Yagana Hai 

wand_stars
Lyrics Explanation, Word Meanings & Summary

This summary is AI-generated • Reviewed for quality.

keyboard_arrow_down

یہ روح پرور اور بے حد مقبول نعتِ پاک (پیر سید نصیر الدین نصیر گیلانی رحمتہ اللہ علیہ کی لکھی ہوئی) بارگاہِ رسالت مآب ﷺ میں عقیدت کا بے مثال نذرانہ ہے، جس میں حضور ﷺ کی شفاعت اور ان کے پاکیزہ خاندان کی سخاوت کا تذکرہ ہے۔

اشعار کی تشریح (Lyrics Explanation)

ان اشعار کا مطلب ہے کہ صرف میں ہی نہیں، بلکہ یہ سارا زمانہ میرے نبی ﷺ کی محبت پر قربان ہے، جو دونوں جہانوں کے پالنے والے رب کے سب سے لاڈلے اور بے مثل محبوب ہیں۔ شاعر کہتا ہے کہ کل قیامت کے دن پل صراط کی کٹھن راہ پر جو خود ہمارا ہاتھ پکڑ کر ہمیں پار لگائیں گے، وہ کوئی اور نہیں بلکہ خاتونِ جنت بی بی فاطمہ زہراؑ کے والدِ گرامی اور حسنینِ کریمینؑ کے نانا جان ہیں۔


الفاظ کے معنی (Word Meanings)

لفظ (Word)معنی (Meaning)
یگانہواحد / لاثانی یا سب سے الگ
پُلپل صراط (قیامت کا ایک کٹھن راستہ)
لجپاللاج رکھنے والا / انتہائی سخی اور مہربان
نامِ محمدؐ پر مرناحضور ﷺ کی عزت و ناموس پر جان قربان کرنا
محرومِ کرممہربانی اور لطف و کرم سے محروم
سارے محشرقیامت کے میدان میں
سائلسوال کرنے والا / منگتا

خلاصہ (Summary)

اس کلام کا بنیادی لبِ لباب یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ اور ان کی آل کا گھرانہ (اہلِ بیت) بے حد سخی اور لجپال ہے، جہاں سے کوئی بھی منگتا خالی ہاتھ نہیں لوٹتا۔ شاعر کے نزدیک حضور ﷺ کے نام پر جان دینا سب سے بڑی عزت ہے، کیونکہ موت تو بہرحال ایک دن آنی ہی ہے۔ آخر میں شاعر 'نصیر' گریہ و زاری کرتے ہوئے التجا کرتے ہیں کہ اے آقا، محشر کی تپش میں مجھے اپنے لطف و کرم سے دور نہ رکھنا، کیونکہ میں جیسا بھی ہوں، آپ کے در کا ایک پرانا سائل ہوں۔

لیرکس کے مطابق، کل قیامت کے دن ہمیں پل صراط سے کون پار لگائیں گے؟

Read more ↓
Was this page helpful?
شیئر کریں: