रुख़ दिन है या महर-ए-समा ये भी नहीं वो भी नहीं
- 3 گھنٹے پہلے fiber_manual_record 8 بار دیکھا گیا
,
عنوان: کِس کے جلوے کی جھلک ہے یہ اُجالا کیا ہے
زمرہ: نعت کے بول (لیرکس)
مصنف/گیتکار: کلام اعلیٰ حضرت امام احمد رضا
نعت خوان/ فنکار: اویس رضا قادری
شامل کیا گیا: 17 Aug, 2026 08:37 AM IST
دیکھا گیا: 12
Time to read: 3 min read
کِس کے جلوے کی جھلک ہے یہ اُجالا کیا ہے،
ہر طرف دِیدئہ حیرت زَدہ تکتا کیا ہے
مانگ من مانتی مُنھ مانگی مُرادیں لے گا،
نہ یہاں ’’نا‘‘ ہے نہ منگتا سے یہ کہنا ’’کیا ہے ‘‘
پند کڑوی لگے ناصِح سے ترش ہو اے نفس،
زہرِ عِصیاں میں سِتَم گر تجھے میٹھا کیا ہے
ہم ہیں اُن کے وہ ہیں تیرے تو ہوئے ہم تیرے،
اس سے بڑھ کر تِری سَمْت اَور وَسیلہ کیا ہے
ان کی امت میں بنایا اُنھیں رَحمت بھیجا،
یوں نہ فرما کہ تِرا رَحم میں دعویٰ کیا ہے
صدقہ پیارے کی حیا کا کہ نہ لے مجھ سے حساب،
بخش بے پوچھے لجائے کو لجانا کیا ہے
زَاہد اُن کا میں گنہ گار وہ میرے شافِع،
اتنی نسبت مجھے کیا کم ہے تُو سمجھا کیا ہے
بے بسی ہو جو مجھے پرسشِ اَعمال کے وقت،
دوستو! کیا کہوں اُس وقت تَمَنّا کیا ہے
کاش فریاد مِری سُن کے یہ فَرمائیں حضور،
ہاں کوئی دیکھو یہ کیا شور ہے غوغا کیا ہے
کون آفت زدہ ہے کِس پہ بَلا ٹُوٹی ہے،
کِس مصیبت میں گرفتار ہے صدمہ کیا ہے
کِس سے کہتا ہے کہ لِلّٰہ خبر لیجے مِری،
کیوں ہے بیتاب یہ بے چینی کا رونا کیا ہے
اس کی بے چینی سے ہے خاطِرِ اقدس پہ مَلال،
بے کسی کیسی ہے پُوچھو کوئی گزرا کیا ہے
یُوں ملائک کریں معروض کہ اِک مجرم ہے،
اس سے پرسش ہے بتا تُو نے کیا کیا کیا ہے
سامنا قہر کا ہے دفترِ اعمال ہیں پیش،
ڈر رہا ہے کہ خدا حکم سُناتا کیا ہے
آپ سے کرتا ہے فریاد کہ یا شاہِ رُسُل،
بندہ بے کس ہے شہا رحم میں وقفہ کیا ہے
اب کوئی دم میں گرفتارِ بَلا ہوتا ہوں،
آپ آجائیں تو کیا خوف ہے کھٹکا کیا ہے
سن کے یہ عرض مِری بحرِ کرم جوش میں آئے،
یُوں ملائک کو ہو ارشاد ’’ٹھہرنا کیا ہے ‘‘
کس کو تم مُوردِ آفات کِیا چاہتے ہو!
ہم بھی تو آکے ذَرا دیکھیں تماشا کیا ہے
اُن کی آواز پہ کر اُٹھوں میں بے ساختہ شور،
اور تڑپ کر یہ کہوں اب مجھے پَروا کیا ہے
لو وہ آیا مِرا حامی مِرا غم خوارِ اُمم!
آگئی جاں تن بے جاں میں یہ آنا کیا ہے
پھر مجھے دامنِ اَقدس میں چھپا لیں سرور،
اور فرمائیں ہٹو اس پہ تقاضا کیا ہے
بندہ آزاد شُدہ ہے یہ ہمارے دَر کا،
کیسا لیتے ہو حساب اس پہ تمہارا کیا ہے
چھوڑ کر مجھ کو فرشتے کہیں محکوم ہیں ہم،
حکمِ والا کی نہ تعمیل ہو زَہرہ کیا ہے
یہ سماں دیکھ کے محشر میں اُٹھے شور کہ واہ،
چشم بد دُور ہو کیا شان ہے رُتبہ کیا ہے
صَدقے اس رَحم کے اس سایۂ دامن پہ نثار،
اپنے بندے کو مصیبت سے بچایا کیا ہے
اے رضاؔ جانِ عنادِل تِرے نغموں کے نثار،
بلبلِ باغِ مدینہ ترا کہنا کیا ہے
This summary is AI-generated • Reviewed for quality.
یہ کلام اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان کی انتہائی پُراثر اور قلبی جذبات سے بھرپور نعت ہے، جس میں قیامت کے دن حضور اکرم ﷺ کی شفاعت اور امت پر آپ کی شفقت کا حیرت انگیز منظر پیش کیا گیا ہے۔
اس نعت میں قیامت کے اس ہولناک دن کا نقشہ کھینچا گیا ہے جب ایک گنہگار بندہ اپنے اعمال کے حساب سے گھبرا کر دربارِ رسالت میں فریاد کرتا ہے۔ آقائے دو جہاں ﷺ اپنے امتی کی پکار سن کر خود تشریف لاتے ہیں اور فرشتے کے سوال کرنے پر اسے اپنی رحمت کے دامن میں چھپا کر بچا لیتے ہیں۔
| لفظ | معنی (Meaning) |
|---|---|
| دیدئہ حیرت زدہ | حیرت اور تعجب سے کھلی ہوئی آنکھیں |
| زہرِ عصیاں | گناहों کا زہر |
| شافع | شفاعت (سفارش) کرنے والے |
| غوغا | شور و ہنگامہ |
| خاطِرِ اقدس | پاک دل یا حضور ﷺ کا مبارک دل |
| ملائک | فرشتے |
| غم خوارِ امم | امت کا درد اور غم بانٹنے والے |
| عنادِل | بلبلیں (عندلیب کی جمع) |
اس نعت کا خلاصہ یہ ہے کہ عاشقِ رسول کو آخرت کی سختیوں میں بھی اپنے آका کی ذات پر مکمل بھروسہ ہوتا ہے۔ جب حسابِ اعمال کے وقت مصیبت کا سامنا ہوگا، تب حضور ﷺ خود تشریف لا کر فرمائیں گے کہ یہ ہمارے در کا آزاد کردہ بندہ ہے، اور اس طرح اپنی شفاعت سے اسے ہمیشہ کے لیے عذاب سے نجات دلائیں گے۔
قیامت کے دن اعمال کا حساب دیتے وقت شاعر بے بس ہوکر کس سے فریاد کرنے اور بخشش کی امید کر رہا ہے؟