रुख़ दिन है या महर-ए-समा ये भी नहीं वो भी नहीं
- 2 گھنٹے پہلے fiber_manual_record 8 بار دیکھا گیا
,
عنوان: صبحِ طیبہ میں ہوئی، بٹتا ہے بڑا نور کا
زمرہ: نعت کے بول (لیرکس)
مصنف/گیتکار: کلام اعلیٰ حضرت امام احمد رضا
نعت خوان/ فنکار: اسد اقبال کلکتوی محمد علی فیضی اویس رضا قادری
شامل کیا گیا: 17 Aug, 2026 08:14 AM IST
دیکھا گیا: 12
Time to read: 3 min read
صبحِ طیبہ میں ہوئی، بٹتا ہے بڑا نور کا،
صدقہ لینے نور کا آیا ہے تارا نور کا۔
باغِ طیبہ میں سہانا پھول پھولا نور کا،
مستِ بو ہیں بلبلیں، پڑھتی ہیں کلمہ نور کا۔
بارہویں کے چاند کا مجرا ہے سجدہ نور کا،
بارہ برجوں سے جھکا اک اک ستارہ نور کا۔
ان کے قصرِ قدر سے خلد ایک کمرہ نور کا،
سدرہ پائیں باغ میں ننھا سا پودا نور کا۔
عرش بھی فردوس بھی اس شاہِ والا نور کا،
یہ مشمّن برج وہ مشکُوۂ اعلیٰ نور کا۔
آئی بدعت، چھائی ظلمت، رنگ بدلا نور کا،
ماہِ سنت، مہرِ ظلمت، لے لے بدلا نور کا۔
تیرے ہی ماتھے رہا اے جاں سہرا نور کا،
بخت جاگا نور کا، چمکا ستارہ نور کا۔
میں گدا، تو بادشاہ، بھر دے پیالہ نور کا،
نور دن دونا تیرا، دے ڈال صدقہ نور کا۔
تیری ہی جانب ہے پانچوں وقت سجدہ نور کا،
رخ ہے قبلہ نور کا، ابرو ہے کعبہ نور کا۔
پشت پر ڈھلکا سرِ انور سے شملہ نور کا،
دیکھیں موسیٰ طور سے اترا صحیفہ نور کا۔
تاج والے دیکھ کر تیرا امامہ نور کا،
سر جھکاتے ہیں، الٰہی بول بالا نور کا۔
آبِ زر بنتا ہے عارض پر پسینہ نور کا،
مصحفی اعجاز پر چڑھتا ہے سونا نور کا۔
پیچ کرتا ہے فدا ہونے کو لمعہ نور کا،
گردِ سر پھرنے کو بنتا ہے امامہ نور کا۔
تیرے آگے خاک پر جھکتا ہے ماتھا نور کا،
نور نے پایا تیرے سجدے سے سیما نور کا۔
تو ہے سایہ نور کا، ہر عضو ٹکڑا نور کا،
سایہ کا سایہ نہ ہوتا ہے نہ سایہ نور کا۔
کیا بنا نامِ خدا، اسرا کا دولہا نور کا،
سر پہ سہرا نور کا، بر میں شہانہ نور کا۔
وصفِ رخ میں گاتی ہیں حوریں ترانہ نور کا،
قدرتی بینوں میں کیا بجتا ہے لہرا نور کا۔
دیکھنے والوں نے کچھ دیکھا نہ بھلا نور کا،
من رائی کیسا یہ آئینہ دیکھا نور کا۔
ناریوں کا دور تھا، دل جل رہا تھا نور کا،
تم کو دیکھا ہو گیا ٹھنڈا کلیجہ نور کا۔
جو گدا دیکھو لیے جاتا ہے توڑا نور کا،
نور کی سرکار ہے، کیا اس میں توڑا نور کا۔
بھیک لے سرکار سے، لا جلد کاسہ نور کا،
ماہِ طیبہ میں بٹتا ہے مہینہ نور کا۔
تیری نسلِ پاک میں ہے بچہ بچہ نور کا،
تو ہے آئینۂ نور، تیرا سب گھرانہ نور کا۔
نور کی سرکار سے پایا دوشالہ نور کا،
ہو مبارک تم کو ذوالنورین جوڑا نور کا۔
کس کے پردے نے کیا آئینہ اندھا نور کا،
مانگتا پھرتا ہے آنکھیں ہر نگینہ نور کا۔
اب کہاں وہ تابشیں، کیسا وہ تڑکا نور کا،
مہر نے چھپ کر کیا خاصا دھندلکا نور کا۔
انبیاء اجزا ہیں تو بالکل ہے جملہ نور کا،
اس علاقے سے ہے ان پر نام سچا نور کا۔
چاند جھک جاتا جدھر انگلی اٹھاتے مہد میں،
کیا ہی چلتا تھا اشاروں پر کھلونا نور کا۔
ایک سینہ تک مشابہ، ایک وہاں سے پاؤں تک،
حسنِ سبطین ان کے جاموں میں ہے نیمہ نور کا۔
اے رضا یہ احمدِ نوری کا فیضِ نور ہے،
ہو گئی میری غزل پڑھ کر قصیدہ نور کا۔
This summary is AI-generated • Reviewed for quality.
یہ کلام اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان کی مشہورِ زمانہ نعت ہے، جس میں حضور نبی کریم ﷺ کی ذاتِ باصفا اور آپ کے نورانی وجود کو نہایت خوبصورت اور بلیغ انداز میں بیان کیا گیا ہے۔
اس نعت میں شاعر نے مدینہ طیبہ (طیبہ) میں نور کی صبح کے طلوع ہونے اور کائنات کے ذرہ ذرہ پر حضور ﷺ کے فیضِ نور کے نفاذ کو دکھایا ہے۔ آپ ﷺ کا سراپا، آپ کا خاندان، اور آپ کی نسبت سے ہر شے نور میں ڈوبی ہوئی نظر آتی ہے۔
| لفظ | معنی (Meaning) |
|---|---|
| طیبہ | مدینہ منورہ کا ایک مبارک نام |
| خلد | جنت / باغِ بہشت |
| سدرۃ المنتہیٰ | ساتویں آسمان پر واقع وہ مقام جہاں تک رسائی ہے |
| عارض | رخسار / گال |
| آبِ زر | سونے کا پانی / سنہری چمک |
| اسرا | معراج کی رات کا سفر |
| مہد | پنگھڑا / پالনা |
اس طویل اور باوقار نعت کا خلاصہ یہ ہے کہ کائنات کی ہر رونق، ہدایت اور نور کا سرچشمہ حضور اکرم ﷺ کی ذاتِ مبارکہ ہے۔ آپ ﷺ کا آنا کائنات کے لیے ظلمت ک
اس نعت کے آخر میں شاعر نے اس کلام کو کیا نام دیا ہے اور یہ کس کا فیض ہے؟