, صبحِ طیبہ میں ہوئی، بٹتا ہے بڑا نور کا - Shan E Nabi
search
لاگ ان
Get latest updates On WhatsApp

صبحِ طیبہ میں ہوئی، بٹتا ہے بڑا نور کا Lyrics In اردو

(صبحِ طیبہ میں ہوئی، بٹتا ہے بڑا نور کا, صدقہ لینے نور کا آیا ہے تارا نور کا)


Written By

avatar
Shan E Nabi Team Desk
  • Editors Desk
  • شامل کیا گیاnot available
  • visibilityبار دیکھا گیا
  • comment تبصرے
  • thumb_up0 بار پسند کیا گیا
  • shareشیئر کریں
...

عنوان: صبحِ طیبہ میں ہوئی، بٹتا ہے بڑا نور کا

زمرہ: نعت کے بول (لیرکس)

شامل کیا گیا: 17 Aug, 2026 08:14 AM IST

دیکھا گیا: 12

Time to read: 3 min read

بول کی زبان منتخب کریں:

صبحِ طیبہ میں ہوئی، بٹتا ہے بڑا نور کا،
صدقہ لینے نور کا آیا ہے تارا نور کا۔

باغِ طیبہ میں سہانا پھول پھولا نور کا،
مستِ بو ہیں بلبلیں، پڑھتی ہیں کلمہ نور کا۔

بارہویں کے چاند کا مجرا ہے سجدہ نور کا،
بارہ برجوں سے جھکا اک اک ستارہ نور کا۔

ان کے قصرِ قدر سے خلد ایک کمرہ نور کا،
سدرہ پائیں باغ میں ننھا سا پودا نور کا۔

عرش بھی فردوس بھی اس شاہِ والا نور کا،
یہ مشمّن برج وہ مشکُوۂ اعلیٰ نور کا۔

آئی بدعت، چھائی ظلمت، رنگ بدلا نور کا،
ماہِ سنت، مہرِ ظلمت، لے لے بدلا نور کا۔

تیرے ہی ماتھے رہا اے جاں سہرا نور کا،
بخت جاگا نور کا، چمکا ستارہ نور کا۔

میں گدا، تو بادشاہ، بھر دے پیالہ نور کا،
نور دن دونا تیرا، دے ڈال صدقہ نور کا۔

تیری ہی جانب ہے پانچوں وقت سجدہ نور کا،
رخ ہے قبلہ نور کا، ابرو ہے کعبہ نور کا۔

پشت پر ڈھلکا سرِ انور سے شملہ نور کا،
دیکھیں موسیٰ طور سے اترا صحیفہ نور کا۔

تاج والے دیکھ کر تیرا امامہ نور کا،
سر جھکاتے ہیں، الٰہی بول بالا نور کا۔

آبِ زر بنتا ہے عارض پر پسینہ نور کا،
مصحفی اعجاز پر چڑھتا ہے سونا نور کا۔

پیچ کرتا ہے فدا ہونے کو لمعہ نور کا،
گردِ سر پھرنے کو بنتا ہے امامہ نور کا۔

تیرے آگے خاک پر جھکتا ہے ماتھا نور کا،
نور نے پایا تیرے سجدے سے سیما نور کا۔

تو ہے سایہ نور کا، ہر عضو ٹکڑا نور کا،
سایہ کا سایہ نہ ہوتا ہے نہ سایہ نور کا۔

کیا بنا نامِ خدا، اسرا کا دولہا نور کا،
سر پہ سہرا نور کا، بر میں شہانہ نور کا۔

وصفِ رخ میں گاتی ہیں حوریں ترانہ نور کا،
قدرتی بینوں میں کیا بجتا ہے لہرا نور کا۔

دیکھنے والوں نے کچھ دیکھا نہ بھلا نور کا،
من رائی کیسا یہ آئینہ دیکھا نور کا۔

ناریوں کا دور تھا، دل جل رہا تھا نور کا،
تم کو دیکھا ہو گیا ٹھنڈا کلیجہ نور کا۔

جو گدا دیکھو لیے جاتا ہے توڑا نور کا،
نور کی سرکار ہے، کیا اس میں توڑا نور کا۔

بھیک لے سرکار سے، لا جلد کاسہ نور کا،
ماہِ طیبہ میں بٹتا ہے مہینہ نور کا۔

تیری نسلِ پاک میں ہے بچہ بچہ نور کا،
تو ہے آئینۂ نور، تیرا سب گھرانہ نور کا۔

نور کی سرکار سے پایا دوشالہ نور کا،
ہو مبارک تم کو ذوالنورین جوڑا نور کا۔

کس کے پردے نے کیا آئینہ اندھا نور کا،
مانگتا پھرتا ہے آنکھیں ہر نگینہ نور کا۔

اب کہاں وہ تابشیں، کیسا وہ تڑکا نور کا،
مہر نے چھپ کر کیا خاصا دھندلکا نور کا۔

انبیاء اجزا ہیں تو بالکل ہے جملہ نور کا،
اس علاقے سے ہے ان پر نام سچا نور کا۔

چاند جھک جاتا جدھر انگلی اٹھاتے مہد میں،
کیا ہی چلتا تھا اشاروں پر کھلونا نور کا۔

ایک سینہ تک مشابہ، ایک وہاں سے پاؤں تک،
حسنِ سبطین ان کے جاموں میں ہے نیمہ نور کا۔

اے رضا یہ احمدِ نوری کا فیضِ نور ہے،
ہو گئی میری غزل پڑھ کر قصیدہ نور کا۔

wand_stars
Lyrics Explanation, Word Meanings & Summary

This summary is AI-generated • Reviewed for quality.

keyboard_arrow_down

یہ کلام اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان کی مشہورِ زمانہ نعت ہے، جس میں حضور نبی کریم ﷺ کی ذاتِ باصفا اور آپ کے نورانی وجود کو نہایت خوبصورت اور بلیغ انداز میں بیان کیا گیا ہے۔

اشعار کی تشریح (Lyrics Explanation)

اس نعت میں شاعر نے مدینہ طیبہ (طیبہ) میں نور کی صبح کے طلوع ہونے اور کائنات کے ذرہ ذرہ پر حضور ﷺ کے فیضِ نور کے نفاذ کو دکھایا ہے۔ آپ ﷺ کا سراپا، آپ کا خاندان، اور آپ کی نسبت سے ہر شے نور میں ڈوبی ہوئی نظر آتی ہے۔


الفاظ کے معنی (Word Meanings)

لفظمعنی (Meaning)
طیبہمدینہ منورہ کا ایک مبارک نام
خلدجنت / باغِ بہشت
سدرۃ المنتہیٰساتویں آسمان پر واقع وہ مقام جہاں تک رسائی ہے
عارضرخسار / گال
آبِ زرسونے کا پانی / سنہری چمک
اسرامعراج کی رات کا سفر
مہدپنگھڑا / پالনা

خلاصہ (Summary)

اس طویل اور باوقار نعت کا خلاصہ یہ ہے کہ کائنات کی ہر رونق، ہدایت اور نور کا سرچشمہ حضور اکرم ﷺ کی ذاتِ مبارکہ ہے۔ آپ ﷺ کا آنا کائنات کے لیے ظلمت ک

اس نعت کے آخر میں شاعر نے اس کلام کو کیا نام دیا ہے اور یہ کس کا فیض ہے؟

Read more ↓
Was this page helpful?
شیئر کریں: