, رُخ دن ہے یا مہرِ سَما یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں - Shan E Nabi
search
لاگ ان
Get latest updates On WhatsApp

رُخ دن ہے یا مہرِ سَما یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں Lyrics In اردو

(رُخ دن ہے یا مہرِ سَما یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں, شب زُلف یا مُشکِ ختا یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں)


Written By

avatar
Shan E Nabi Team Desk
  • Editors Desk
  • شامل کیا گیاnot available
  • visibilityبار دیکھا گیا
  • comment تبصرے
  • thumb_up0 بار پسند کیا گیا
  • shareشیئر کریں
...

عنوان: رُخ دن ہے یا مہرِ سَما یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں

زمرہ: نعت کے بول (لیرکس)

شامل کیا گیا: 17 Aug, 2026 08:54 AM IST

دیکھا گیا: 8

Time to read: 2 min read

بول کی زبان منتخب کریں:

رُخ دن ہے یا مہرِ سَما، یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں
شب زُلف یا مُشکِ ختا، یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں

ممکن میں یہ قدرت کہاں واجب میں عبدیت کہاں
حیراں ہوں یہ بھی ہے خطا، یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں

حق یہ کہ ہیں عبدِ الٰہ اور عالمِ امکاں کے شاہ
برزخ ہیں وہ سِّرِ خدا، یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں

بُلبل نے گُل اُن کو کہا قُمری نے سروِ جانفزا
حیرت نے جھنجھلا کر کہا، یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں

خورشید تھا کس زور پر کیا بڑھ کے چمکا تھا قمر
بے پردہ جب وہ رُخ ہوا، یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں

ڈر تھا کہ عصیاں کی سزا اب ہو گی یا روزِ جزا
دی اُن کی رحمت نے صدا، یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں

کوئی ہے نازاں زُہد پر یا حسنِ توبہ ہے سِپر
یاں ہے فقط تیری عطا، یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں

دن لَہْو میں کھونا تجھے شب صبح تک سونا تجھے
شرمِ نبی خوفِ خدا، یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں

رزقِ خدا کھایا کیا فرمانِ حق ٹالا کیا
شکرِ کرم ترسِ سزا، یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں

ہے بلبُل رنگیں رضاؔ یا طُوطی نغمَہ سرا
حق یہ کہ واصِف ہے تِرا، یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں

wand_stars
Lyrics Explanation, Word Meanings & Summary

This summary is AI-generated • Reviewed for quality.

keyboard_arrow_down

یہ کلام اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان کا ایک بے مثال اور فلسفیانہ شاہکار ہے، جس میں حضور اکرم ﷺ کے حسنِ مبارک، آپ کے اعلیٰ مقام اور انسانی تصور کی عاجزی کو انتہائی دلکش انداز میں بیان کیا گیا ہے۔

اشعار کی تشریح (Lyrics Explanation)

اس نعت میں شاعر نے حضور ﷺ کے چہرے اور زلفوں کی خوبصورتی کو سورج اور رات سے تشبیہ دینے کے بعد خود ہی اس کا انکار کیا ہے کیونکہ آپ کا جمالِ پاک دنیا کی ہر چیز سے بالاتر ہے۔ آپ خالق (اللہ) اور مخلوق (بندوں) کے درمیان ایسے روشن واسطہ (برزخ) ہیں جن کی عظمت کا احاطہ کرنا کسی کے بس کی بات نہیں۔


الفاظ کے معنی (Word Meanings)

لفظمعنی (Meaning)
مہرِ سماآسمان کا سورج
مشکِ ختاخوتن کی وہ خالص کستूरी جو اپنی خوشبو کے لیے مشہور ہے
ممکنمخلوق / کائنات کا کوئی بھی امکان یا وجود
واجبواجب الوجود (یعنی اللہ تعالیٰ کی ذات)
عبدیتبندگی یا عاجزی کا مقام
برزخدو چیزوں کے درمیان حائل پردہ یا جوڑ (یہاں خالق و مخلوق کے مابین واسطہ)
سرِّ خدااللہ کا راز
قُمریایک قسم کا خوش الحان پرندہ
سپرڈھाल / بچاؤ
لَہْوغفلت یا کھیل کود میں وقت ضائع کرنا

خلاصہ (Summary)

اس طویل نعت کا خلاصہ یہ ہے کہ عاشقِ رسول اپنی تمام تر غفلتوں اور گناहों کے باوجود اپنی بخشش کے لیے صرف اور صرف آقا ﷺ کی رحمت اور اللہ کے فضل کی طرف دیکھتا ہے۔ انسان چاہے اپنی عبادت پر جتنا بھی ناز کرے یا کسی دوسری چیز پر بھروسه رکھے، حقیقت یہی ہے کہ نجات کا واحد ذریعہ صرف اور صرف حضور ﷺ کی ذاتِ اقدس کا فیض اور آپ کی شفاعت ہے۔

اس کلام میں شاعر نے حضور ﷺ کے مبارک چہرے (رخ) کا مقابلہ شروع میں کن دو روشن چیزوں سے کیا ہے، جنہیں بعد میں انہوں نے رد (یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں) کر دیا؟

Read more ↓
Was this page helpful?
شیئر کریں: