किस के जलवे की झलक है ये उजाला क्या है
- 3 گھنٹے پہلے fiber_manual_record 12 بار دیکھا گیا
,
عنوان: رُخ دن ہے یا مہرِ سَما یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں
زمرہ: نعت کے بول (لیرکس)
مصنف/گیتکار: کلام اعلیٰ حضرت امام احمد رضا
نعت خوان/ فنکار: اسد اقبال کلکتوی لائبہ فاطمہ اویس رضا قادری وجاہت واسطی
شامل کیا گیا: 17 Aug, 2026 08:54 AM IST
دیکھا گیا: 8
Time to read: 2 min read
رُخ دن ہے یا مہرِ سَما، یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں
شب زُلف یا مُشکِ ختا، یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں
ممکن میں یہ قدرت کہاں واجب میں عبدیت کہاں
حیراں ہوں یہ بھی ہے خطا، یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں
حق یہ کہ ہیں عبدِ الٰہ اور عالمِ امکاں کے شاہ
برزخ ہیں وہ سِّرِ خدا، یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں
بُلبل نے گُل اُن کو کہا قُمری نے سروِ جانفزا
حیرت نے جھنجھلا کر کہا، یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں
خورشید تھا کس زور پر کیا بڑھ کے چمکا تھا قمر
بے پردہ جب وہ رُخ ہوا، یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں
ڈر تھا کہ عصیاں کی سزا اب ہو گی یا روزِ جزا
دی اُن کی رحمت نے صدا، یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں
کوئی ہے نازاں زُہد پر یا حسنِ توبہ ہے سِپر
یاں ہے فقط تیری عطا، یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں
دن لَہْو میں کھونا تجھے شب صبح تک سونا تجھے
شرمِ نبی خوفِ خدا، یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں
رزقِ خدا کھایا کیا فرمانِ حق ٹالا کیا
شکرِ کرم ترسِ سزا، یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں
ہے بلبُل رنگیں رضاؔ یا طُوطی نغمَہ سرا
حق یہ کہ واصِف ہے تِرا، یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں
This summary is AI-generated • Reviewed for quality.
یہ کلام اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان کا ایک بے مثال اور فلسفیانہ شاہکار ہے، جس میں حضور اکرم ﷺ کے حسنِ مبارک، آپ کے اعلیٰ مقام اور انسانی تصور کی عاجزی کو انتہائی دلکش انداز میں بیان کیا گیا ہے۔
اس نعت میں شاعر نے حضور ﷺ کے چہرے اور زلفوں کی خوبصورتی کو سورج اور رات سے تشبیہ دینے کے بعد خود ہی اس کا انکار کیا ہے کیونکہ آپ کا جمالِ پاک دنیا کی ہر چیز سے بالاتر ہے۔ آپ خالق (اللہ) اور مخلوق (بندوں) کے درمیان ایسے روشن واسطہ (برزخ) ہیں جن کی عظمت کا احاطہ کرنا کسی کے بس کی بات نہیں۔
| لفظ | معنی (Meaning) |
|---|---|
| مہرِ سما | آسمان کا سورج |
| مشکِ ختا | خوتن کی وہ خالص کستूरी جو اپنی خوشبو کے لیے مشہور ہے |
| ممکن | مخلوق / کائنات کا کوئی بھی امکان یا وجود |
| واجب | واجب الوجود (یعنی اللہ تعالیٰ کی ذات) |
| عبدیت | بندگی یا عاجزی کا مقام |
| برزخ | دو چیزوں کے درمیان حائل پردہ یا جوڑ (یہاں خالق و مخلوق کے مابین واسطہ) |
| سرِّ خدا | اللہ کا راز |
| قُمری | ایک قسم کا خوش الحان پرندہ |
| سپر | ڈھाल / بچاؤ |
| لَہْو | غفلت یا کھیل کود میں وقت ضائع کرنا |
اس طویل نعت کا خلاصہ یہ ہے کہ عاشقِ رسول اپنی تمام تر غفلتوں اور گناहों کے باوجود اپنی بخشش کے لیے صرف اور صرف آقا ﷺ کی رحمت اور اللہ کے فضل کی طرف دیکھتا ہے۔ انسان چاہے اپنی عبادت پر جتنا بھی ناز کرے یا کسی دوسری چیز پر بھروسه رکھے، حقیقت یہی ہے کہ نجات کا واحد ذریعہ صرف اور صرف حضور ﷺ کی ذاتِ اقدس کا فیض اور آپ کی شفاعت ہے۔
اس کلام میں شاعر نے حضور ﷺ کے مبارک چہرے (رخ) کا مقابلہ شروع میں کن دو روشن چیزوں سے کیا ہے، جنہیں بعد میں انہوں نے رد (یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں) کر دیا؟