नबी को बुलाना फ़लक से भी ऊपर
- 3 منٹو پہلے fiber_manual_record 2 بار دیکھا گیا
,
عنوان: آنے والو! یہ تو بتاؤ شہرِ مدینہ کیسا ہے
زمرہ: نعت کے بول (لیرکس)
مصنف/گیتکار: عشرت گودھروی
شامل کیا گیا: 24 Aug, 2026 07:43 AM IST
دیکھا گیا: 6
Time to read: 2 min read
آنے والو! یہ تو بتاؤ، شہرِ مدینہ کیسا ہے،
سر اُن کے قدموں میں رکھ کر، جھک کر جینا کیسا ہے
دیکھ کے جس کو جی نہیں بھرتا، شہرِ مدینہ ایسا ہے،
آنکھوں کو جو ٹھنڈک بخشے، گنبدِ خضرا ایسا ہے
آنے والو! یہ تو بتاؤ، شہرِ مدینہ کیسا ہے
گنبدِ خضرا کے سائے میں بیٹھ کے تم تو آئے ہو،
اُس سائے میں رب کے آگے سجدہ کرنا کیسا ہے
آنے والو! یہ تو بتاؤ، شہرِ مدینہ کیسا ہے
میں بھی چوم کے آج آیا ہوں اُن مہکتی گلیوں کو،
جو کچھ دیکھا اُن گلیوں میں، کہیں نہ دیکھا ایسا ہے
دیکھ کے جس کو جی نہیں بھرتا، شہرِ مدینہ ایسا ہے
دل، آنکھیں اور روح تمہاری لگتی ہے سیراب مجھے،
در پہ اُن کے بیٹھ کے آبِ زمزم پینا کیسا ہے
آنے والو! یہ تو بتاؤ، شہرِ مدینہ کیسا ہے
ہم مہمان بنے تھے اُن کے، عرش پہ جو مہمان ہوئے،
کیوں نہ قسمت پر ہو نازاں، جن کا آقا ایسا ہے
دیکھ کے جس کو جی نہیں بھرتا، شہرِ مدینہ ایسا ہے
دیوانو! آنکھوں سے تمہاری اتنا پوچھ تو لینے دو،
وقتِ دعا روضے پہ اُن کے آنسو بہانا کیسا ہے
آنے والو! یہ تو بتاؤ، شہرِ مدینہ کیسا ہے
منبرِ پاکِ رسول بھی دیکھا، دیکھا خاص مصلّٰی بھی،
حرم شریف کا ہر منظر ہی نظر میں جچتا ایسا ہے
دیکھ کے جس کو جی نہیں بھرتا، شہرِ مدینہ ایسا ہے
وقتِ رخصت دل کو اپنے چھوڑ وہاں تم آئے ہو،
یہ بتلاؤ، عشرت! اُن کے گھر سے بچھڑنا کیسا ہے
آنے والو! یہ تو بتاؤ، شہرِ مدینہ کیسا ہے
واپس آئیں دل نہیں کرتا چھوڑ کے اُن کی چوکھٹ کو،
جان بھی دے دیں اُن کے در پر، دل میں آتا ایسا ہے
دیکھ کے جس کو جی نہیں بھرتا، شہرِ مدینہ ایسا ہے
This summary is AI-generated • Reviewed for quality.
یہ نعت حضور نبی کریم ﷺ کی شانِ اقدس، شہرِ مدینہ کی روحانی خوبصورتی اور وہاں کی حاضری کے عشق میں ڈوبے ہوئے جذبات کا ایک دلکش اظہار ہے۔
اس نعت میں مدینہ منورہ کے سفر اور وہاں کے روحانی نظاروں کا ذکر کیا گیا ہے۔ گنبدِ خضرا کا سایہ، آنکھوں کو ٹھنڈک بخشنے والے مناظر اور مدینے کی مہکتی گلیاں مومن کی روح کو سیراب کر دیتی ہیں، جہاں سے واپس آنے کا دل کبھی نہیں چاہتا۔
| لفظ (Word) | معنی (Meaning) |
|---|---|
| شہرِ مدینہ | مدینہ منورہ کا مقدس شہر |
| گنبدِ خضرا | سرکارِ دو عالم ﷺ کے روضہ مبارک کا سبز گنبد |
| سیراب | پیاس بجھا ہوا، روحانی طور پر طراوت یافتہ |
| آبِ زمزم | زمزم کنویں کا مقدس پانی |
| نازاں | فخر کرنے والا، خوش اور شکر گزار |
| وقتِ رخصت | جدائی یا واپسی کا وقت |
شاعر 'عشرت' نے اس نعت میں مدینہ منورہ کی بے پناہ محبت اور حاضری کے کیف و سرور کو بیان کیا ہے۔ حضور ﷺ کے دربار کی پاکیزگی، روضۂ اطہر پر آنسو بہانا اور مدینے کی چوکھٹ کو چھوڑ کر آنے کے درد کو بہت ہی اثر انگیز طریقے سے پیش کیا گیا ہے۔
نعت میں شاعر نے شہرِ مدینہ کی ان گلیوں اور روضۂ رسول ﷺ پر حاضری کے وقت عاشق کے دل کی کس کیفیت کو سب سے زیادہ دردناک اور حسین قرار دیا ہے؟