, آنے والو! یہ تو بتاؤ شہرِ مدینہ کیسا ہے - Shan E Nabi
search
لاگ ان
Get latest updates On WhatsApp

آنے والو! یہ تو بتاؤ شہرِ مدینہ کیسا ہے Lyrics In اردو

(آنے والو! یہ تو بتاؤ شہرِ مدینہ کیسا ہے, دیکھ کے جس کو جی نہیں بھرتا شہرِ مدینہ ایسا ہے)


Written By

avatar
Shan E Nabi Team Desk
  • Editors Desk
  • شامل کیا گیاnot available
  • visibilityبار دیکھا گیا
  • comment تبصرے
  • thumb_up0 بار پسند کیا گیا
  • shareشیئر کریں
...

عنوان: آنے والو! یہ تو بتاؤ شہرِ مدینہ کیسا ہے

زمرہ: نعت کے بول (لیرکس)

مصنف/گیتکار: عشرت گودھروی

نعت خوان/ فنکار:

شامل کیا گیا: 24 Aug, 2026 07:43 AM IST

دیکھا گیا: 6

Time to read: 2 min read

بول کی زبان منتخب کریں:

آنے والو! یہ تو بتاؤ، شہرِ مدینہ کیسا ہے،
سر اُن کے قدموں میں رکھ کر، جھک کر جینا کیسا ہے

دیکھ کے جس کو جی نہیں بھرتا، شہرِ مدینہ ایسا ہے،
آنکھوں کو جو ٹھنڈک بخشے، گنبدِ خضرا ایسا ہے

آنے والو! یہ تو بتاؤ، شہرِ مدینہ کیسا ہے

گنبدِ خضرا کے سائے میں بیٹھ کے تم تو آئے ہو،
اُس سائے میں رب کے آگے سجدہ کرنا کیسا ہے

آنے والو! یہ تو بتاؤ، شہرِ مدینہ کیسا ہے

میں بھی چوم کے آج آیا ہوں اُن مہکتی گلیوں کو،
جو کچھ دیکھا اُن گلیوں میں، کہیں نہ دیکھا ایسا ہے

دیکھ کے جس کو جی نہیں بھرتا، شہرِ مدینہ ایسا ہے

دل، آنکھیں اور روح تمہاری لگتی ہے سیراب مجھے،
در پہ اُن کے بیٹھ کے آبِ زمزم پینا کیسا ہے

آنے والو! یہ تو بتاؤ، شہرِ مدینہ کیسا ہے

ہم مہمان بنے تھے اُن کے، عرش پہ جو مہمان ہوئے،
کیوں نہ قسمت پر ہو نازاں، جن کا آقا ایسا ہے

دیکھ کے جس کو جی نہیں بھرتا، شہرِ مدینہ ایسا ہے

دیوانو! آنکھوں سے تمہاری اتنا پوچھ تو لینے دو،
وقتِ دعا روضے پہ اُن کے آنسو بہانا کیسا ہے

آنے والو! یہ تو بتاؤ، شہرِ مدینہ کیسا ہے

منبرِ پاکِ رسول بھی دیکھا، دیکھا خاص مصلّٰی بھی،
حرم شریف کا ہر منظر ہی نظر میں جچتا ایسا ہے

دیکھ کے جس کو جی نہیں بھرتا، شہرِ مدینہ ایسا ہے

وقتِ رخصت دل کو اپنے چھوڑ وہاں تم آئے ہو،
یہ بتلاؤ، عشرت! اُن کے گھر سے بچھڑنا کیسا ہے

آنے والو! یہ تو بتاؤ، شہرِ مدینہ کیسا ہے

واپس آئیں دل نہیں کرتا چھوڑ کے اُن کی چوکھٹ کو،
جان بھی دے دیں اُن کے در پر، دل میں آتا ایسا ہے

دیکھ کے جس کو جی نہیں بھرتا، شہرِ مدینہ ایسا ہے

wand_stars
Lyrics Explanation, Word Meanings & Summary

This summary is AI-generated • Reviewed for quality.

keyboard_arrow_down

یہ نعت حضور نبی کریم ﷺ کی شانِ اقدس، شہرِ مدینہ کی روحانی خوبصورتی اور وہاں کی حاضری کے عشق میں ڈوبے ہوئے جذبات کا ایک دلکش اظہار ہے۔

اشعار کی تشریح (Lyrics Explanation)

اس نعت میں مدینہ منورہ کے سفر اور وہاں کے روحانی نظاروں کا ذکر کیا گیا ہے۔ گنبدِ خضرا کا سایہ، آنکھوں کو ٹھنڈک بخشنے والے مناظر اور مدینے کی مہکتی گلیاں مومن کی روح کو سیراب کر دیتی ہیں، جہاں سے واپس آنے کا دل کبھی نہیں چاہتا۔


الفاظ کے معنی (Word Meanings)

لفظ (Word)معنی (Meaning)
شہرِ مدینہمدینہ منورہ کا مقدس شہر
گنبدِ خضراسرکارِ دو عالم ﷺ کے روضہ مبارک کا سبز گنبد
سیرابپیاس بجھا ہوا، روحانی طور پر طراوت یافتہ
آبِ زمزمزمزم کنویں کا مقدس پانی
نازاںفخر کرنے والا، خوش اور شکر گزار
وقتِ رخصتجدائی یا واپسی کا وقت

خلاصہ (Summary)

شاعر 'عشرت' نے اس نعت میں مدینہ منورہ کی بے پناہ محبت اور حاضری کے کیف و سرور کو بیان کیا ہے۔ حضور ﷺ کے دربار کی پاکیزگی، روضۂ اطہر پر آنسو بہانا اور مدینے کی چوکھٹ کو چھوڑ کر آنے کے درد کو بہت ہی اثر انگیز طریقے سے پیش کیا گیا ہے۔

نعت میں شاعر نے شہرِ مدینہ کی ان گلیوں اور روضۂ رسول ﷺ پر حاضری کے وقت عاشق کے دل کی کس کیفیت کو سب سے زیادہ دردناک اور حسین قرار دیا ہے؟

Read more ↓
Was this page helpful?
شیئر کریں:

نمایاں آرٹسٹ/گیت نگار

سبھی دیکھیں