मुस्तफ़ा का प्यारा है फ़ातिमा का शहज़ादा
- 2 دن پہلے fiber_manual_record 104 بار دیکھا گیا
,
عنوان: ایک میں ہی نہیں اُن پر قربان زمانہ ہے
زمرہ: نعت کے بول (لیرکس)
مصنف/گیتکار: مختلف/نامعلوم
نعت خوان/ فنکار: اویس رضا قادری
شامل کیا گیا: 01 Aug, 2023 06:11 PM IST
دیکھا گیا: 266
Time to read: 1 min read
ایک میں ہی نہیں اُن پر قربان زمانہ ہے،
جو ربِّ دو عالم کا محبوبِ یگانہ ہے۔
کل پُل سے ہمیں جس نے خود پار لگانا ہے،
زہراؑ کا وہ بابا ہے، حسنینؑ کا نانا ہے۔
ایک میں ہی نہیں اُن پر قربان زمانہ ہے۔
آؤ درِ زہراؑ پر پھیلائے ہوئے دامن،
ہے نسلِ کریموں کی، لجپال گھرانہ ہے۔
ایک میں ہی نہیں اُن پر قربان زمانہ ہے۔
عزّت سے کیوں مر جائے ہم نامِ محمدؐ پر،
یوں بھی کسی دن ہم کو دنیا سے تو جانا ہے۔
ایک میں ہی نہیں اُن پر قربان زمانہ ہے۔
محرومِ کرم اِس کو رکھنا نہ سارے محشر،
جیسا ہے نصیر آخر، سائل تو پرانا ہے۔
ایک میں ہی نہیں اُن پر قربان زمانہ ہے،
جو ربِّ دو عالم کا محبوبِ یگانہ ہے۔
This summary is AI-generated • Reviewed for quality.
یہ روح پرور اور بے حد مقبول نعتِ پاک (پیر سید نصیر الدین نصیر گیلانی رحمتہ اللہ علیہ کی لکھی ہوئی) بارگاہِ رسالت مآب ﷺ میں عقیدت کا بے مثال نذرانہ ہے، جس میں حضور ﷺ کی شفاعت اور ان کے پاکیزہ خاندان کی سخاوت کا تذکرہ ہے۔
ان اشعار کا مطلب ہے کہ صرف میں ہی نہیں، بلکہ یہ سارا زمانہ میرے نبی ﷺ کی محبت پر قربان ہے، جو دونوں جہانوں کے پالنے والے رب کے سب سے لاڈلے اور بے مثل محبوب ہیں۔ شاعر کہتا ہے کہ کل قیامت کے دن پل صراط کی کٹھن راہ پر جو خود ہمارا ہاتھ پکڑ کر ہمیں پار لگائیں گے، وہ کوئی اور نہیں بلکہ خاتونِ جنت بی بی فاطمہ زہراؑ کے والدِ گرامی اور حسنینِ کریمینؑ کے نانا جان ہیں۔
| لفظ (Word) | معنی (Meaning) |
|---|---|
| یگانہ | واحد / لاثانی یا سب سے الگ |
| پُل | پل صراط (قیامت کا ایک کٹھن راستہ) |
| لجپال | لاج رکھنے والا / انتہائی سخی اور مہربان |
| نامِ محمدؐ پر مرنا | حضور ﷺ کی عزت و ناموس پر جان قربان کرنا |
| محرومِ کرم | مہربانی اور لطف و کرم سے محروم |
| سارے محشر | قیامت کے میدان میں |
| سائل | سوال کرنے والا / منگتا |
اس کلام کا بنیادی لبِ لباب یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ اور ان کی آل کا گھرانہ (اہلِ بیت) بے حد سخی اور لجپال ہے، جہاں سے کوئی بھی منگتا خالی ہاتھ نہیں لوٹتا۔ شاعر کے نزدیک حضور ﷺ کے نام پر جان دینا سب سے بڑی عزت ہے، کیونکہ موت تو بہرحال ایک دن آنی ہی ہے۔ آخر میں شاعر 'نصیر' گریہ و زاری کرتے ہوئے التجا کرتے ہیں کہ اے آقا، محشر کی تپش میں مجھے اپنے لطف و کرم سے دور نہ رکھنا، کیونکہ میں جیسا بھی ہوں، آپ کے در کا ایک پرانا سائل ہوں۔
لیرکس کے مطابق، کل قیامت کے دن ہمیں پل صراط سے کون پار لگائیں گے؟