, ایک میں ہی نہیں اُن پر قربان زمانہ ہے - Shan E Nabi
search
لاگ ان
Get latest updates On WhatsApp

ایک میں ہی نہیں اُن پر قربان زمانہ ہے Lyrics In اردو

(ایک میں ہی نہیں اُن پر قربان زمانہ ہے, جو ربِّ دو عالم کا محبوبِ یگانہ ہے)


Written By

avatar
Shan E Nabi Team Desk
  • Editors Desk
  • شامل کیا گیاnot available
  • visibilityبار دیکھا گیا
  • comment تبصرے
  • thumb_up0 بار پسند کیا گیا
  • shareشیئر کریں
...

عنوان: ایک میں ہی نہیں اُن پر قربان زمانہ ہے

زمرہ: نعت کے بول (لیرکس)

مصنف/گیتکار: مختلف/نامعلوم

نعت خوان/ فنکار: اویس رضا قادری

شامل کیا گیا: 01 Aug, 2023 06:11 PM IST

دیکھا گیا: 266

Time to read: 1 min read

بول کی زبان منتخب کریں:

ایک میں ہی نہیں اُن پر قربان زمانہ ہے،
جو ربِّ دو عالم کا محبوبِ یگانہ ہے۔

کل پُل سے ہمیں جس نے خود پار لگانا ہے،
زہراؑ کا وہ بابا ہے، حسنینؑ کا نانا ہے۔

ایک میں ہی نہیں اُن پر قربان زمانہ ہے۔

آؤ درِ زہراؑ پر پھیلائے ہوئے دامن،
ہے نسلِ کریموں کی، لجپال گھرانہ ہے۔

ایک میں ہی نہیں اُن پر قربان زمانہ ہے۔

عزّت سے کیوں مر جائے ہم نامِ محمدؐ پر،
یوں بھی کسی دن ہم کو دنیا سے تو جانا ہے۔

ایک میں ہی نہیں اُن پر قربان زمانہ ہے۔

محرومِ کرم اِس کو رکھنا نہ سارے محشر،
جیسا ہے نصیر آخر، سائل تو پرانا ہے۔

ایک میں ہی نہیں اُن پر قربان زمانہ ہے،
جو ربِّ دو عالم کا محبوبِ یگانہ ہے۔

wand_stars
Lyrics Explanation, Word Meanings & Summary

This summary is AI-generated • Reviewed for quality.

keyboard_arrow_down

یہ روح پرور اور بے حد مقبول نعتِ پاک (پیر سید نصیر الدین نصیر گیلانی رحمتہ اللہ علیہ کی لکھی ہوئی) بارگاہِ رسالت مآب ﷺ میں عقیدت کا بے مثال نذرانہ ہے، جس میں حضور ﷺ کی شفاعت اور ان کے پاکیزہ خاندان کی سخاوت کا تذکرہ ہے۔

اشعار کی تشریح (Lyrics Explanation)

ان اشعار کا مطلب ہے کہ صرف میں ہی نہیں، بلکہ یہ سارا زمانہ میرے نبی ﷺ کی محبت پر قربان ہے، جو دونوں جہانوں کے پالنے والے رب کے سب سے لاڈلے اور بے مثل محبوب ہیں۔ شاعر کہتا ہے کہ کل قیامت کے دن پل صراط کی کٹھن راہ پر جو خود ہمارا ہاتھ پکڑ کر ہمیں پار لگائیں گے، وہ کوئی اور نہیں بلکہ خاتونِ جنت بی بی فاطمہ زہراؑ کے والدِ گرامی اور حسنینِ کریمینؑ کے نانا جان ہیں۔


الفاظ کے معنی (Word Meanings)

لفظ (Word)معنی (Meaning)
یگانہواحد / لاثانی یا سب سے الگ
پُلپل صراط (قیامت کا ایک کٹھن راستہ)
لجپاللاج رکھنے والا / انتہائی سخی اور مہربان
نامِ محمدؐ پر مرناحضور ﷺ کی عزت و ناموس پر جان قربان کرنا
محرومِ کرممہربانی اور لطف و کرم سے محروم
سارے محشرقیامت کے میدان میں
سائلسوال کرنے والا / منگتا

خلاصہ (Summary)

اس کلام کا بنیادی لبِ لباب یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ اور ان کی آل کا گھرانہ (اہلِ بیت) بے حد سخی اور لجپال ہے، جہاں سے کوئی بھی منگتا خالی ہاتھ نہیں لوٹتا۔ شاعر کے نزدیک حضور ﷺ کے نام پر جان دینا سب سے بڑی عزت ہے، کیونکہ موت تو بہرحال ایک دن آنی ہی ہے۔ آخر میں شاعر 'نصیر' گریہ و زاری کرتے ہوئے التجا کرتے ہیں کہ اے آقا، محشر کی تپش میں مجھے اپنے لطف و کرم سے دور نہ رکھنا، کیونکہ میں جیسا بھی ہوں، آپ کے در کا ایک پرانا سائل ہوں۔

لیرکس کے مطابق، کل قیامت کے دن ہمیں پل صراط سے کون پار لگائیں گے؟

Read more ↓
Was this page helpful?
شیئر کریں: