मतलबी ये दुनिया है मतलबी ज़माना है
- 14 گھنٹے پہلے fiber_manual_record 13 بار دیکھا گیا
,
عنوان: یہ نہ پوچھو کدھر جا رہا ہوں
زمرہ: کلام کے بول (لیرکس) نظم کے بول (لیرکس) منقبت کے بول (لیرکس)
مصنف/گیتکار: عظمت رضا بھاگلپوری
نعت خوان/ فنکار: عظمت رضا بھاگلپوری
شامل کیا گیا: 24 Aug, 2026 08:57 AM IST
دیکھا گیا: 11
Time to read: 1 min read
یہ نہ پوچھو کدھر جا رہا ہوں،
آج میں اپنے گھر جا رہا ہوں۔
دوستو! نہ آنسو بہانا،
قبر ہی تو ہے اصلی ٹھکانہ۔
یہ نہ سمجھو کہ مر جا رہا ہوں،
آج میں اپنے گھر جا رہا ہوں۔
پاس میرے نہیں سونے چاندی،
ہاتھ میرے ہیں دونوں ہی خالی،
چھوڑ کر مال و زر جا رہا ہوں،
آج میں اپنے گھر جا رہا ہوں۔
سامنے روئے سرکار ہوگا،
قبر میں اُن کا دیدار ہوگا،
بس یہی سوچ کر جا رہا ہوں،
آج میں اپنے گھر جا رہا ہوں۔
صرف دو گز کا جوڑا پہن کر،
شان سے چار کندھوں کے اوپر،
دیکھو کر کے سفر جا رہا ہوں،
آج میں اپنے گھر جا رہا ہوں۔
دفن کر کے مجھے مت بھلانا،
قبر پر تم میری آنا جانا،
سن لو لختِ جگر جا رہا ہوں،
آج میں اپنے گھر جا رہا ہوں۔
یہ نہ پوچھو کدھر جا رہا ہوں،
آج میں اپنے گھر جا رہا ہوں۔
خواتین کا ورژن:
یہ نہ پوچھو کدھر جا رہی ہوں،
آج میں اپنے گھر جا رہی ہوں۔
This summary is AI-generated • Reviewed for quality.
یہ کلام موت کی اٹل حقیقت، دنیا کی بے ثباتی اور ایک سچے مومن کے قلب میں آخرت اور حضور ﷺ کے دیدار کی تڑپ کو انتہائی پرسکون اور ایمانی انداز میں پیش کرتا ہے۔
ان اشعار کا مفہوم یہ ہے کہ موت کوئی خوفناک چیز نہیں بلکہ دنیا کی مسافت ختم کرکے اپنے اصل گھر (قبر اور آخرت) کی طرف پلٹنے کا نام ہے، جہاں مال و دولت نہیں بلکہ صرف دیدارِ مصطفیٰ ﷺ کا سکون میسر ہوگا۔
| لفظ (Word) | معنی (Meaning) |
|---|---|
| ठिकाना / ٹھکانہ | اصل مسکن یا مستقل گھر (یہاں قبر اور آخرت) |
| مال و زر | دنیا کی دولت، روپیہ پیسہ اور سونا چاندی |
| روئے سرکار | سرکارِ دو عالم ﷺ کا مبارک اور نورانی چہرہ |
| دیدار | زیارت یا ملاقات |
| دو گز کا جوڑا | کفن کا سفید کپڑا |
| لختِ جگر | جگر کا ٹکڑا (اپنے بچوں یا عزیزوں کے لیے پیار کا خطاب) |
اس خوبصورت کلام میں موت کے تصور کو خوف کے بجائے ایک خوش گوار سفر کے طور پر دکھایا گیا ہے۔ انسان دنیا کا سارا ساز و سامان یہیں چھوڑ کر صرف کفن پہن کر کندھوں پر جاتا ہے، مگر اس کے دل میں یہ امید ہوتی ہے کہ قبر میں اسے حضور ﷺ کا قرب اور دیدار نصیب ہوگا۔
کلام میں شاعر نے موت اور قبر کے سفر کو 'اپنے گھر جانے' جیسا کیوں کہا ہے، اور قبر میں اسے سب سے بڑا سہارا کس چیز کا ہوگا؟