, یہ نہ پوچھو کدھر جا رہا ہوں - Shan E Nabi
search
لاگ ان
Get latest updates On WhatsApp

یہ نہ پوچھو کدھر جا رہا ہوں Lyrics In اردو

(یہ نہ پوچھو کدھر جا رہا ہوں, آج میں اپنے گھر جا رہا ہوں)


Written By

avatar
Shan E Nabi Team Desk
  • Editors Desk
  • شامل کیا گیاnot available
  • visibilityبار دیکھا گیا
  • comment تبصرے
  • thumb_up0 بار پسند کیا گیا
  • shareشیئر کریں
...

عنوان: یہ نہ پوچھو کدھر جا رہا ہوں

زمرہ: کلام کے بول (لیرکس) نظم کے بول (لیرکس) منقبت کے بول (لیرکس)

مصنف/گیتکار: عظمت رضا بھاگلپوری

نعت خوان/ فنکار: عظمت رضا بھاگلپوری

شامل کیا گیا: 24 Aug, 2026 08:57 AM IST

دیکھا گیا: 11

Time to read: 1 min read

بول کی زبان منتخب کریں:

یہ نہ پوچھو کدھر جا رہا ہوں،
آج میں اپنے گھر جا رہا ہوں۔

دوستو! نہ آنسو بہانا،
قبر ہی تو ہے اصلی ٹھکانہ۔

یہ نہ سمجھو کہ مر جا رہا ہوں،
آج میں اپنے گھر جا رہا ہوں۔

پاس میرے نہیں سونے چاندی،
ہاتھ میرے ہیں دونوں ہی خالی،
چھوڑ کر مال و زر جا رہا ہوں،
آج میں اپنے گھر جا رہا ہوں۔

سامنے روئے سرکار ہوگا،
قبر میں اُن کا دیدار ہوگا،
بس یہی سوچ کر جا رہا ہوں،
آج میں اپنے گھر جا رہا ہوں۔

صرف دو گز کا جوڑا پہن کر،
شان سے چار کندھوں کے اوپر،
دیکھو کر کے سفر جا رہا ہوں،
آج میں اپنے گھر جا رہا ہوں۔

دفن کر کے مجھے مت بھلانا،
قبر پر تم میری آنا جانا،
سن لو لختِ جگر جا رہا ہوں،
آج میں اپنے گھر جا رہا ہوں۔

یہ نہ پوچھو کدھر جا رہا ہوں،
آج میں اپنے گھر جا رہا ہوں۔

خواتین کا ورژن:
یہ نہ پوچھو کدھر جا رہی ہوں،
آج میں اپنے گھر جا رہی ہوں۔

wand_stars
Lyrics Explanation, Word Meanings & Summary

This summary is AI-generated • Reviewed for quality.

keyboard_arrow_down

یہ کلام موت کی اٹل حقیقت، دنیا کی بے ثباتی اور ایک سچے مومن کے قلب میں آخرت اور حضور ﷺ کے دیدار کی تڑپ کو انتہائی پرسکون اور ایمانی انداز میں پیش کرتا ہے۔

اشعار کی تشریح (Lyrics Explanation)

ان اشعار کا مفہوم یہ ہے کہ موت کوئی خوفناک چیز نہیں بلکہ دنیا کی مسافت ختم کرکے اپنے اصل گھر (قبر اور آخرت) کی طرف پلٹنے کا نام ہے، جہاں مال و دولت نہیں بلکہ صرف دیدارِ مصطفیٰ ﷺ کا سکون میسر ہوگا۔


الفاظ کے معنی (Word Meanings)

لفظ (Word)معنی (Meaning)
ठिकाना / ٹھکانہاصل مسکن یا مستقل گھر (یہاں قبر اور آخرت)
مال و زردنیا کی دولت، روپیہ پیسہ اور سونا چاندی
روئے سرکارسرکارِ دو عالم ﷺ کا مبارک اور نورانی چہرہ
دیدارزیارت یا ملاقات
دو گز کا جوڑاکفن کا سفید کپڑا
لختِ جگرجگر کا ٹکڑا (اپنے بچوں یا عزیزوں کے لیے پیار کا خطاب)

خلاصہ (Summary)

اس خوبصورت کلام میں موت کے تصور کو خوف کے بجائے ایک خوش گوار سفر کے طور پر دکھایا گیا ہے۔ انسان دنیا کا سارا ساز و سامان یہیں چھوڑ کر صرف کفن پہن کر کندھوں پر جاتا ہے، مگر اس کے دل میں یہ امید ہوتی ہے کہ قبر میں اسے حضور ﷺ کا قرب اور دیدار نصیب ہوگا۔

کلام میں شاعر نے موت اور قبر کے سفر کو 'اپنے گھر جانے' جیسا کیوں کہا ہے، اور قبر میں اسے سب سے بڑا سہارا کس چیز کا ہوگا؟

Read more ↓
Was this page helpful?
شیئر کریں:

نمایاں آرٹسٹ/گیت نگار

سبھی دیکھیں

Manqabat Lyrics

سبھی دیکھیں