मुस्तफ़ा का प्यारा है फ़ातिमा का शहज़ादा
- 1 دن پہلے fiber_manual_record 66 بار دیکھا گیا
,
عنوان: یہ نہ پوچھو کدھر جا رہی ہوں آج میں اپنے گھر جا رہی ہوں
زمرہ: منقبت کے بول (لیرکس) نعت کے بول (لیرکس) نظم کے بول (لیرکس)
مصنف/گیتکار: شمیم رضا فیضی
نعت خوان/ فنکار: شمیم رضا فیضی
شامل کیا گیا: 12 Oct, 2022 01:34 PM IST
دیکھا گیا: 11.9K
Time to read: 1 min read
یہ نہ پوچھو کدھر جا رہی ہوں
آج میں اپنے گھر جا رہی ہوں
میرے بچوں نا آنسو بہانہ،
کبر ہی تو ہے اصل ٹھیکانہ
یہ نہ سمجھو کے مر جا رہی ہوں،
آج میں اپنے گھر جا رہی ہوں
سامنے روئے سرکار ہوگا،
کبر میں ان کا دیدار ہوگا
بس یہ سوچ کر جا رہی ہوں،
آج میں اپنے گھر جا رہی ہوں
ساتھ میرے نہیں سونا چاندی،
ہاتھ میرے ہے دونو خالی
چھوڑ کر مال و زر جا رہی ہوں،
آج میں اپنے گھر جا رہی ہوں
دفن کر کے مجھے نہ بھولانا،
کبر پر تم میری آنا جانا
سن لو لکت جگر جا رہی ہوں،
آج میں اپنے گھر جا رہی ہوں
صرف دو گز کا جوڑا پہین کر،
شان سے چار کاندھو پر ہو کر
دیکھو کر کے صفر جا رہی ہوں،
آج میں اپنے گھر جا رہی ہوں
یہ نہ پوچھو کدھر جا رہی ہوں
آج میں اپنے گھر جا رہی ہوں
This summary is AI-generated • Reviewed for quality.
یہ دنیا کی بے ثباتی، موت کی برحق سچائی اور سفرِ آخرت کا ایک انتہائی رقت آمیز اور سبق آموز بیاں ہے، جس میں ایک ماں اپنے بچوں کو الوداع کہتے ہوئے موت کو ابدی زندگی کا آغاز اور اپنے اصل گھر لوٹنے کا سفر بتاتی ہے۔
ان اشعار کا مطلب ہے کہ انسان کو موت کے سفر سے گھبرانا نہیں چاہیے کیونکہ قبر ہی ہر جاندار کا اصل اور دائمی ٹھکانہ ہے۔ ایک مومن کے لیے اس آخری سفر کا خوف اس لیے ختم ہو جاتا ہے کیونکہ اسے امید ہوتی ہے کہ قبر کے اندھیرے میں اسے اپنے پیارے آقا، روئے سرکار ﷺ کا دیدارِ پاک نصیب ہوگا۔
| لفظ | معنی (Urdu) |
|---|---|
| ٹھیکانہ | رہنے کی جگہ / منزل |
| روئے سرکار | حضور اکرم ﷺ کا مبارک چہرہ |
| دیدار | دیکھنا / زیارت کرنا |
| مال و زر | دولت اور سونا چاندی |
| لختِ جگر (لکت جگر) | جگر کا ٹکڑا (اولاد یا بچے) |
| دو گز کا جوڑا | کفن کا کپڑا |
| صفر (سفر) | روانگی / رحلت |
انسان اس فانی دنیا میں خالی ہاتھ آتا ہے اور اپنی تمام تر دنیاوی دولت اور رشتے یہیں چھوڑ کر خالی ہاتھ رخصت ہو جاتا ہے، جہاں اس کا آخری لباس صرف دو گز کا کفن ہوتا ہے۔ اس کلام کے ذریعے ماں اپنی اولاد کو وصیت کرتی ہے کہ وہ اس کی جدائی پر آنسو نہ بہائیں اور اسے دفن کرنے کے بعد بھی اس کی قبر پر آتے جاتے رہیں، کیونکہ وہ دنیا کے عارضی ٹھکانے سے اب اپنے حقیقی مالک کے پاس جا رہی ہے۔
شاعر کے مطابق، قبر میں جانے پر انہیں کس عظیم شخصیت کا 'دیدار' نصیب ہوگا، جس کی وجہ سے وہ خوشی خوشی اس سفر پر جا رہی ہیں؟