पयाम लाई है बाद-ए-सबा मदीने से
- 3 مہینے پہلے fiber_manual_record 132 بار دیکھا گیا
,
عنوان: قربان میں اُن کی بخشش کے مقصد بھی زباں پر آیا نہیں
زمرہ: حمد کے بول (لیرکس) نعت کے بول (لیرکس) نظم کے بول (لیرکس)
مصنف/گیتکار: خالد محمود خالد
نعت خوان/ فنکار: مختلف/نامعلوم
شامل کیا گیا: 03 Feb, 2026 09:59 AM IST
دیکھا گیا: 235
Time to read: 2 min read
قربان میں اُن کی بخشش کے مقصد بھی زباں پر آیا نہیں،
بن مانگے دیا اور اتنا دیا دامن میں ہمارے سمایا نہیں
ایمان ملا اُن کے صدقے قرآن ملا اُن کے صدقے،
رحمٰن ملا اُن کے صدقے وہ کیا ہے جو ہم نے پایا نہیں
اُن کا تو شعار کریمی ہے مائل بہ کرم ہی رہتے ہیں،
جب یاد کیا اے صل علی وہ آ ہی گئے تڑپایا نہیں
جو دشمن جاں تھے ان کو بھی دی تم نے اماں اپنوں کی طرح!
یہ عفو و کرم اللہ اللہ یہ خُلق کسی نے پایا نہیں
وہ رحمت کیسی رحمت ہے مفہوم سمجھ لو رحمت کا،
اُس کو بھی گلے سے لگایا ہے جسے اپنا کسی نے بنایا نہیں
مونس ہیں وہی معزوروں کے غمخوار ہیں سب مجبوروں کے،
سرکارِ مدینہ نے تنہا کس کس کا بوجھ اُٹھایا نہیں
دل بھر گئے منگتوں کے لیکن دینے سے تری نیت نہ بھری،
جو آیا اسے بھر بھر کے دیا محروم کبھی لوٹایا نہیں
آواز کرم دیتا ہی رہا تھک ہار گئے لینے والے!
منگتوں کی ہمیشہ لاج رکھی محروم کبھی لوٹایا نہیں
رحمت کا بھرم بھی تم سے ہے شفقت کا بھرم بھی تم سے ہے،
ٹھکرائے ہوئے انسان کو بھی تم نے تو کبھی ٹکھرایا نہیں
خورشید قیامت کی تابش مانا کہ قیامت ہی ہوگی،
ہم اُن کے ہیں گھبرائیں کیوں کیا ہم پہ نبی کا سایہ نہیں
اُس محسنِ اعظم کے یوں تو خالد پہ ہزاروں احساں ہیں،
قربان مگر اُس احساں کے احساں بھی کیا تو جتایا نہیں
This summary is AI-generated • Reviewed for quality.
یہ کلام حضور اکرم ﷺ کی بے مثال سخاوت، عفو و درگزر اور آپ ﷺ کے بلند اخلاق کا ایک خوبصورت نذرانہ ہے۔ اس میں شاعر آپ ﷺ کی ذاتِ مبارکہ کو تمام جہانوں کے لیے باعثِ رحمت اور ہر ضرورت مند کا سہارا قرار دیتا ہے۔
شاعر کہتا ہے کہ آپ ﷺ کی بخشش کا عالم یہ ہے کہ ابھی مقصد زبان پر آتا بھی نہیں اور دامن بھر دیا جاتا ہے۔ آپ ﷺ نے جان کے دشمنوں کو بھی اپنوں کی طرح پناہ دی اور جس غریب یا مجبور کو زمانے نے ٹھکرا دیا، آپ ﷺ نے اسے گلے سے لگا کر عزت بخشی۔
| لفظ | معنی |
|---|---|
| شعار | عادت یا طریقہ |
| مائل بہ کرم | مہربانی کی طرف راغب ہونا |
| عفو و کرم | معافی اور مہربانی |
| خُلق | اخلاق (Character) |
| مونس و غمخوار | ہمدرد اور دکھ بانٹنے والا |
| خورشیدِ قیامت | قیامت کا سورج |
| تابش | تپش یا چمک |
| محسنِ اعظم | سب سے بڑا احسان کرنے والا |
اس نعت کا خلاصہ یہ ہے کہ ایمان، قرآن اور خدا کی پہچان سب ہمیں حضور ﷺ کے وسیلے سے ملی ہے۔ آپ ﷺ کا دستِ عطا ہمیشہ کھلا رہتا ہے اور مانگنے والے تھک سکتے ہیں لیکن آپ ﷺ کی عطا ختم نہیں ہوتی۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ آپ ﷺ احسان کر کے کبھی جتاتے نہیں، اسی لیے قیامت کی ہولناکی میں بھی ہمیں آپ ﷺ کی رحمت کا بھروسہ ہے۔
اس نعت کے مطابق، رسول اللہ ﷺ کا اپنے دشمنوں کے ساتھ کیسا سلوک تھا، اور ان کی سخاوت کی سب سے بڑی نشانی کیا بتائی گئی ہے؟