क़ुर्बान मैं उनकी बख़्शिश के मक़सद भी ज़बाँ पर आया नहीं
- 4 مہینے پہلے fiber_manual_record 297 بار دیکھا گیا
,
عنوان: میری اُلفت مدینے سے یوں ہی نہیں
زمرہ: حمد کے بول (لیرکس) نعت کے بول (لیرکس)
مصنف/گیتکار: علامہ نثار علی اجاگر منیر قسوری
نعت خوان/ فنکار: حافظ طاہر قادری لائبہ فاطمہ زوہیب اشرفی
شامل کیا گیا: 02 Sep, 2025 08:15 AM IST
دیکھا گیا: 995
Time to read: 2 min read
میری اُلفت مدینے سے یوں ہی نہیں،
میرے آقا کا روزہ مدینے میں ہے۔
میں مدینے کی جانب نہ کیسے کھنچوں،
میرا دین اور دنیا مدینے میں ہے۔
میری اُلفت مدینے سے یوں ہی نہیں،
میرے آقا کا روزہ مدینے میں ہے۔
عرشِ اعظم پہ جس کی بڑی شان ہے،
روزۂ مصطفیٰ جس کی پہچان ہے،
جس کی ہم پلّہ کوئی محل٘ہ نہیں،
ایک ایسا محل٘ہ مدینے میں ہے۔
یہ شہرِ مصطفیٰ ہے، مدینہ کریم ہے،
سب کو نبھا رہا ہے، مدینہ کریم ہے۔
کیوں نہ کریم ہو یہ کہ آقا کریم کا،
مکان جو بن گیا ہے، مدینہ کریم ہے،
سب کو نبھا رہا ہے، مدینہ کریم ہے۔
پھیلا کے اپنی باہیں، بلاتا ہے بار بار،
رحمت کا دائرہ ہے، مدینہ کریم ہے۔
میری اُلفت مدینے سے یوں ہی نہیں،
میرے آقا کا روزہ مدینے میں ہے۔
پھر مجھے موت کا کوئی خطرہ نہ ہو،
موت کیا زندگی کی بھی پروا نہ ہو،
کاش سرکار مجھ سے کہے ایک بار،
اب تیرا جینا مرنا مدینے میں ہے،
لب کھولنے سے پہلے ہی آقا نے دے دیا۔
میرا بھی تجربہ ہے، مدینہ کریم ہے،
سب کو نبھا رہا ہے، مدینہ کریم ہے۔
ہے ظرف لاجواب، کرم بے مثال ہے،
مجھ جیسا آگیا ہے، مدینہ کریم ہے۔
کیا مانگوں مصطفیٰ سے، اُجاگر دلی مراد،
سب کچھ تو دے دیا ہے، مدینہ کریم ہے۔
کاش سرکار مجھ سے کہے ایک بار،
اب تیرا جینا مرنا مدینے میں ہے۔
میری اُلفت مدینے سے یوں ہی نہیں،
میرے آقا کا روزہ مدینے میں ہے۔
سرورِ دو جہاں سے دعا ہے میری!
ہاں یہی چشمِ تر التجا ہے میری،
اُن کی فہرست میں میرا بھی نام ہو،
جن کا روز آنا جانا مدینے میں ہے۔
فریاد اُمتی جو کرے حالِ زار میں،
ممکن نہیں کہ خیرِ بشر کو خبر نہ ہو۔
جب نظر سوئے طیبہ روانہ ہوئی،
ساتھ دل بھی گیا، ساتھ جان بھی گئی،
میں، منیر! اب رہوں گا یہاں کس لیے،
میرا سارا اثاثہ مدینے میں ہے۔
میری اُلفت مدینے سے یوں ہی نہیں،
میرے آقا کا روزہ مدینے میں ہے۔
This summary is AI-generated • Reviewed for quality.
یہ نعت مدینہ منورہ کی بے پناہ محبت، وہاں کی حاضری کی تڑپ اور حضور ﷺ کے دربارِ گوہر بار سے وابستگی کا اظہار ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ ایک مومن کے لیے مدینہ ہی اس کا کل اثاثہ، دین اور دنیا ہے۔
ان اشعار کا مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ مدینہ 'کریم' ہے جو ہر خاص و عام کی لاج رکھتا ہے اور بن مانگے عطا کرتا ہے۔ شاعر کی دلی تمنا ہے کہ اسے مدینے میں مستقل قیام اور موت نصیب ہو جائے، کیونکہ جب انسان کا دل اور جان پہلے ہی طیبہ کی طرف ہجرت کر چکے ہوں تو پیچھے محض خالی جسم رہ جاتا ہے۔
| لفظ | معنی (Urdu/English) |
|---|---|
| اُلفت | محبت / Love |
| ہم پلّہ | برابر کا / Equal or Match |
| ظرف | حوصلہ یا گنجائش / Capacity |
| اثاثہ | کل پونجی یا جائیداد / Assets |
| چشمِ تر | نم آنکھیں / Tearful eyes |
| التجا | گزارش یا دعا / Request |
| خیرِ بشر | تمام انسانوں میں سب سے بہتر (حضور ﷺ) |
| حالِ زار | پریشان حال / Miserable condition |
اس کلام کا خلاصہ یہ ہے کہ مدینہ طیبہ وہ بابرکت مقام ہے جس کا مقابلہ کائنات کا کوئی دوسرا محلہ نہیں کر سکتا کیونکہ وہاں عرشِ اعظم کی زینت ﷺ آرام فرما ہیں۔ شاعر کے نزدیک وہاں لب کھولنے سے پہلے ہی مرادیں پوری ہو جاتی ہیں اور اس کی سب سے بڑی خواہش یہ ہے کہ اس کا نام ان خوش نصیبوں میں شامل ہو جائے جو مدینے کی گلیوں میں روزانہ حاضری کا شرف پاتے ہیں۔
نعت کے آخر میں شاعر "منیر" نے مدینے کی طرف روانہ ہونے والی نظر کے بارے میں کیا کہا ہے، اور ان کا "سارا اثاثہ" کہاں ہے؟