, میری اُلفت مدینے سے یوں ہی نہیں - Shan E Nabi
search
لاگ ان
Get latest updates On WhatsApp

میری اُلفت مدینے سے یوں ہی نہیں Lyrics In اردو

(میری اُلفت مدینے سے یوں ہی نہیں, میرے آقا کا روزہ مدینے میں ہے)


Written By

avatar
Shan E Nabi Team Desk
  • Editors Desk
  • شامل کیا گیاnot available
  • visibilityبار دیکھا گیا
  • comment تبصرے
  • thumb_up0 بار پسند کیا گیا
  • shareشیئر کریں
...

عنوان: میری اُلفت مدینے سے یوں ہی نہیں

زمرہ: حمد کے بول (لیرکس) نعت کے بول (لیرکس)

شامل کیا گیا: 02 Sep, 2025 08:15 AM IST

دیکھا گیا: 995

Time to read: 2 min read

بول کی زبان منتخب کریں:

میری اُلفت مدینے سے یوں ہی نہیں،
میرے آقا کا روزہ مدینے میں ہے۔

میں مدینے کی جانب نہ کیسے کھنچوں،
میرا دین اور دنیا مدینے میں ہے۔

میری اُلفت مدینے سے یوں ہی نہیں،
میرے آقا کا روزہ مدینے میں ہے۔

عرشِ اعظم پہ جس کی بڑی شان ہے،
روزۂ مصطفیٰ جس کی پہچان ہے،
جس کی ہم پلّہ کوئی محل٘ہ نہیں،
ایک ایسا محل٘ہ مدینے میں ہے۔

یہ شہرِ مصطفیٰ ہے، مدینہ کریم ہے،
سب کو نبھا رہا ہے، مدینہ کریم ہے۔

کیوں نہ کریم ہو یہ کہ آقا کریم کا،
مکان جو بن گیا ہے، مدینہ کریم ہے،
سب کو نبھا رہا ہے، مدینہ کریم ہے۔

پھیلا کے اپنی باہیں، بلاتا ہے بار بار،
رحمت کا دائرہ ہے، مدینہ کریم ہے۔

میری اُلفت مدینے سے یوں ہی نہیں،
میرے آقا کا روزہ مدینے میں ہے۔

پھر مجھے موت کا کوئی خطرہ نہ ہو،
موت کیا زندگی کی بھی پروا نہ ہو،
کاش سرکار مجھ سے کہے ایک بار،
اب تیرا جینا مرنا مدینے میں ہے،
لب کھولنے سے پہلے ہی آقا نے دے دیا۔

میرا بھی تجربہ ہے، مدینہ کریم ہے،
سب کو نبھا رہا ہے، مدینہ کریم ہے۔

ہے ظرف لاجواب، کرم بے مثال ہے،
مجھ جیسا آگیا ہے، مدینہ کریم ہے۔

کیا مانگوں مصطفیٰ سے، اُجاگر دلی مراد،
سب کچھ تو دے دیا ہے، مدینہ کریم ہے۔

کاش سرکار مجھ سے کہے ایک بار،
اب تیرا جینا مرنا مدینے میں ہے۔

میری اُلفت مدینے سے یوں ہی نہیں،
میرے آقا کا روزہ مدینے میں ہے۔

سرورِ دو جہاں سے دعا ہے میری!
ہاں یہی چشمِ تر التجا ہے میری،
اُن کی فہرست میں میرا بھی نام ہو،
جن کا روز آنا جانا مدینے میں ہے۔

فریاد اُمتی جو کرے حالِ زار میں،
ممکن نہیں کہ خیرِ بشر کو خبر نہ ہو۔

جب نظر سوئے طیبہ روانہ ہوئی،
ساتھ دل بھی گیا، ساتھ جان بھی گئی،
میں، منیر! اب رہوں گا یہاں کس لیے،
میرا سارا اثاثہ مدینے میں ہے۔

میری اُلفت مدینے سے یوں ہی نہیں،
میرے آقا کا روزہ مدینے میں ہے۔

wand_stars
Lyrics Explanation, Word Meanings & Summary

This summary is AI-generated • Reviewed for quality.

keyboard_arrow_down

یہ نعت مدینہ منورہ کی بے پناہ محبت، وہاں کی حاضری کی تڑپ اور حضور ﷺ کے دربارِ گوہر بار سے وابستگی کا اظہار ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ ایک مومن کے لیے مدینہ ہی اس کا کل اثاثہ، دین اور دنیا ہے۔

اشعار کی تشریح (Lyrics Explanation)

ان اشعار کا مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ مدینہ 'کریم' ہے جو ہر خاص و عام کی لاج رکھتا ہے اور بن مانگے عطا کرتا ہے۔ شاعر کی دلی تمنا ہے کہ اسے مدینے میں مستقل قیام اور موت نصیب ہو جائے، کیونکہ جب انسان کا دل اور جان پہلے ہی طیبہ کی طرف ہجرت کر چکے ہوں تو پیچھے محض خالی جسم رہ جاتا ہے۔


الفاظ کے معنی (Word Meanings)

لفظمعنی (Urdu/English)
اُلفتمحبت / Love
ہم پلّہبرابر کا / Equal or Match
ظرفحوصلہ یا گنجائش / Capacity
اثاثہکل پونجی یا جائیداد / Assets
چشمِ ترنم آنکھیں / Tearful eyes
التجاگزارش یا دعا / Request
خیرِ بشرتمام انسانوں میں سب سے بہتر (حضور ﷺ)
حالِ زارپریشان حال / Miserable condition

خلاصہ (Summary)

اس کلام کا خلاصہ یہ ہے کہ مدینہ طیبہ وہ بابرکت مقام ہے جس کا مقابلہ کائنات کا کوئی دوسرا محلہ نہیں کر سکتا کیونکہ وہاں عرشِ اعظم کی زینت ﷺ آرام فرما ہیں۔ شاعر کے نزدیک وہاں لب کھولنے سے پہلے ہی مرادیں پوری ہو جاتی ہیں اور اس کی سب سے بڑی خواہش یہ ہے کہ اس کا نام ان خوش نصیبوں میں شامل ہو جائے جو مدینے کی گلیوں میں روزانہ حاضری کا شرف پاتے ہیں۔

نعت کے آخر میں شاعر "منیر" نے مدینے کی طرف روانہ ہونے والی نظر کے بارے میں کیا کہا ہے، اور ان کا "سارا اثاثہ" کہاں ہے؟

Read more ↓
Was this page helpful?
شیئر کریں: