क़ुर्बान मैं उनकी बख़्शिश के मक़सद भी ज़बाँ पर आया नहीं
- 4 مہینے پہلے fiber_manual_record 297 بار دیکھا گیا
,
عنوان: بخشش کا سلسلہ ہے یہ رمضانِ کریم ہے
زمرہ: حمد کے بول (لیرکس) کلام کے بول (لیرکس) نعت کے بول (لیرکس)
مصنف/گیتکار: مختلف/نامعلوم
نعت خوان/ فنکار: مختلف/نامعلوم
شامل کیا گیا: 12 Mar, 2024 11:00 AM IST
دیکھا گیا: 516
Time to read: 1 min read
بخشش کا سلسلہ ہے، یہ رمضانِ کریم ہے،
رحمت کا آسرا ہے، یہ رمضانِ کریم ہے۔
جو مانگو مل رہا ہے، یہ رمضانِ کریم ہے،
یہ فیض اور سخا ہے، یہ رمضانِ کریم ہے۔
اے بے کسوں! اے مجرمو! اے عاصیو! سنو،
غفار و کبریا ہے، یہ رمضانِ کریم ہے۔
ہر لمحہ برستی ہیں جو رحمت کی بارشیں،
یہ رب کا مہینہ ہے، یہ رمضانِ کریم ہے۔
بخشا گیا جو آمدِ رمضان پہ خوش ہوا،
کیا پایا مرتبہ ہے—یہ رمضانِ کریم ہے۔
اس کو ملا شرف ہے نزولِ قرآن کا،
جو رحمت و شفا ہے، یہ رمضانِ کریم ہے۔
شیطان ہے قید، نہ دوزخ کا کوئی ڈر،
درِ خلد کا بھی وعدہ—یہ رمضانِ کریم ہے۔
تجھ کو نصیب ہوں گی بہارِ حرم بھی اب،
تو نے جو پا لیا ہے، یہ رمضانِ کریم ہے۔
سیّد! خدا کا شکر ادا کر کے زیست میں،
بارِ دگر ملا ہے، یہ رمضانِ کریم ہے۔
This summary is AI-generated • Reviewed for quality.
یہ نظم ماہِ رمضان کی برکتوں اور اللہ تعالیٰ کی بے پناہ رحمتوں کا خوبصورت تذکرہ کرتی ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ یہ مقدس مہینہ گناہگاروں کی بخشش اور دعاؤں کی قبولیت کا ایک سنہری موقع ہے۔
شاعر کہتا ہے کہ رمضان المبارک اللہ کی سخاوت اور فیض کا مہینہ ہے، جہاں ہر مانگنے والے کی مراد پوری ہوتی ہے۔ اسی مہینے میں قرآنِ پاک نازل ہوا اور جنت کے دروازے کھول دیے گئے ہیں تاکہ ہر عاصی و گناہگار توبہ کر کے رب کی رضا حاصل کر سکے۔
| لفظ | معنی |
|---|---|
| بخشش | معافی یا مغفرت |
| فیض و سخا | فائدہ اور فیاضی / سخاوت |
| عاصیو | گناہگارو |
| غفار و کبریا | بہت معاف کرنے والا اور بڑائی والا (اللہ) |
| نزولِ قرآن | قرآن کا نازل ہونا |
| درِ خُلد | جنت کا دروازہ |
| زیست | زندگی |
| بارِ دگر | ایک بار پھر / دوبارہ |
اس کلام کا لبِ لباب یہ ہے کہ رمضان اللہ کا وہ عظیم تحفہ ہے جس میں عبادت کا ثواب کئی گنا بڑھ جاتا ہے اور شیطان قید کر دیا جاتا ہے۔ شاعر اللہ کا شکر ادا کرتا ہے کہ زندگی میں ایک بار پھر یہ مہینہ نصیب ہوا تاکہ ہم اپنی آخرت سنوار سکیں اور اللہ کی رحمتوں سے جھولیاں بھر سکیں۔
کلام کے آخر میں شاعر "سید" نے کس بات پر خدا کا شکر ادا کیا ہے اور انہیں اپنی زندگی ("زیست") میں کیا چیز دوبارہ ("بارِ دیگر") ملی ہے؟