, اے ہواؤں اِدھر آؤ کے ذرا جی بہلے - Shan E Nabi
search
لاگ ان
Get latest updates On WhatsApp

اے ہواؤں اِدھر آؤ کے ذرا جی بہلے Lyrics In اردو

(اے ہواؤں اِدھر آؤ کے ذرا جی بہلے, اُن کا پیغام سناؤں کے زرا جی بہلے)


Written By

avatar
Shan E Nabi Team Desk
  • Editors Desk
  • شامل کیا گیاnot available
  • visibilityبار دیکھا گیا
  • comment تبصرے
  • thumb_up0 بار پسند کیا گیا
  • shareشیئر کریں
...

عنوان: اے ہواؤں اِدھر آؤ کے ذرا جی بہلے

زمرہ: حمد کے بول (لیرکس) نعت کے بول (لیرکس) نظم کے بول (لیرکس)

شامل کیا گیا: 30 Aug, 2025 03:28 PM IST

دیکھا گیا: 2.3K

Time to read: 1 min read

بول کی زبان منتخب کریں:

اے ہواؤں اِدھر آؤ کے ذرا جی بہلے،
اُن کا پیغام سناؤں  کے زرا جی بہلے

دل کی آواز سماعت اے نبی فرماؤ،
رخ سے اب پردہ ہٹاو کے زرا جی بہلے

تیرگی کفر کی پھر بڈھنے لگی ہے ہرسو،
بزم میلاد سجاؤں کے زرا جی بہلے

اُن کا پیغام سناؤں  کے زرا جی بہلے

اے ہواؤں بو-اے-زلفے شاہ بطحا لے کر،
مجھکو ایک بار سنگھاؤ کے زرا جی بہلے

اُن کا پیغام سناؤں  کے زرا جی بہلے

مضطرب ہوتا ہے گر دل تو نگاہوں میں تم،
منظر طیبہ بساؤ کے زرا جی بہلے

اُن کا پیغام سناؤں  کے زرا جی بہلے

تسنا لب ہو کے میں آیا ہو شفیع مہشر،
جام کوثر کا پلاؤ کے ذرا جی بہلے

اے ہواؤں اِدھر آؤ کے ذرا جی بہلے،
اُن کا پیغام سناؤں  کے زرا جی بہلے

wand_stars
Lyrics Explanation, Word Meanings & Summary

This summary is AI-generated • Reviewed for quality.

keyboard_arrow_down

یہ کلام ایک عاشقِ رسول ﷺ کی بے قراری اور مدینہ منورہ کی یادوں کا دلنشین اظہار ہے۔ اس میں شاعر ہواؤں سے مخاطب ہو کر اپنے غمزدہ دل کے لیے تسکین اور حضور ﷺ کے دیدار کی تمنا کر رہا ہے۔

اشعار کی تشریح (Lyrics Explanation)

شاعر ہواؤں سے التجا کرتا ہے کہ وہ مدینہ کی گلیوں سے ہو کر آئیں اور حضور ﷺ کا پیغام سنائیں تاکہ دل کو قرار آئے۔ کفر کے اندھیروں کو مٹانے کے لیے محفلِ میلاد سجانے اور تڑپتے ہوئے دل کو سکون دینے کے لیے مدینہ کے مناظر کو آنکھوں میں بسانے کی بات کی گئی ہے۔


الفاظ کے معنی (Word Meanings)

لفظمعنی
سماعتسننے کی قوت / سننا
تیرگیاندھیرا / تاریکی
ہرسوہر طرف / چاروں جانب
شاہِ بطحامکہ کے بادشاہ (حضور ﷺ کا لقب)
مضطرببے چین / بے قرار
تشنہ لبپیاسا / سوکھے ہوئے ہونٹ
شفیعِ محشرقیامت کے دن شفاعت کرنے والے (نبی ﷺ)

خلاصہ (Summary)

اس نعت کا خلاصہ یہ ہے کہ دنیا کی پریشانیوں اور کفر کی تاریکیوں میں ایک مومن کے دل کا سکون صرف ذکرِ مصطفیٰ ﷺ میں پوشیدہ ہے۔ شاعر اپنی روحانی پیاس بجھانے کے لیے جامِ کوثر اور دل کی بے چینی ختم کرنے کے لیے طیبہ کی ہواؤں سے نسبتِ رسول ﷺ کا طالب ہے۔

نعت کے آخری مصرعوں میں شاعر نے خود کو "تشنہ لب" (پیاسا) کہتے ہوئے "شفیعِ محشر" سے کس چیز کی درخواست کی ہے؟

Read more ↓
Was this page helpful?
شیئر کریں: