क़ुर्बान मैं उनकी बख़्शिश के मक़सद भी ज़बाँ पर आया नहीं
- 4 مہینے پہلے fiber_manual_record 297 بار دیکھا گیا
,
عنوان: اے ہواؤں اِدھر آؤ کے ذرا جی بہلے
زمرہ: حمد کے بول (لیرکس) نعت کے بول (لیرکس) نظم کے بول (لیرکس)
مصنف/گیتکار: اسد اقبال کلکتوی سجّاد نظامی (مرہوم)
نعت خوان/ فنکار: عبدل وکیل مبارک پوری اسد اقبال کلکتوی سجّاد نظامی (مرہوم)
شامل کیا گیا: 30 Aug, 2025 03:28 PM IST
دیکھا گیا: 2.3K
Time to read: 1 min read
اے ہواؤں اِدھر آؤ کے ذرا جی بہلے،
اُن کا پیغام سناؤں کے زرا جی بہلے
دل کی آواز سماعت اے نبی فرماؤ،
رخ سے اب پردہ ہٹاو کے زرا جی بہلے
تیرگی کفر کی پھر بڈھنے لگی ہے ہرسو،
بزم میلاد سجاؤں کے زرا جی بہلے
اُن کا پیغام سناؤں کے زرا جی بہلے
اے ہواؤں بو-اے-زلفے شاہ بطحا لے کر،
مجھکو ایک بار سنگھاؤ کے زرا جی بہلے
اُن کا پیغام سناؤں کے زرا جی بہلے
مضطرب ہوتا ہے گر دل تو نگاہوں میں تم،
منظر طیبہ بساؤ کے زرا جی بہلے
اُن کا پیغام سناؤں کے زرا جی بہلے
تسنا لب ہو کے میں آیا ہو شفیع مہشر،
جام کوثر کا پلاؤ کے ذرا جی بہلے
اے ہواؤں اِدھر آؤ کے ذرا جی بہلے،
اُن کا پیغام سناؤں کے زرا جی بہلے
This summary is AI-generated • Reviewed for quality.
یہ کلام ایک عاشقِ رسول ﷺ کی بے قراری اور مدینہ منورہ کی یادوں کا دلنشین اظہار ہے۔ اس میں شاعر ہواؤں سے مخاطب ہو کر اپنے غمزدہ دل کے لیے تسکین اور حضور ﷺ کے دیدار کی تمنا کر رہا ہے۔
شاعر ہواؤں سے التجا کرتا ہے کہ وہ مدینہ کی گلیوں سے ہو کر آئیں اور حضور ﷺ کا پیغام سنائیں تاکہ دل کو قرار آئے۔ کفر کے اندھیروں کو مٹانے کے لیے محفلِ میلاد سجانے اور تڑپتے ہوئے دل کو سکون دینے کے لیے مدینہ کے مناظر کو آنکھوں میں بسانے کی بات کی گئی ہے۔
| لفظ | معنی |
|---|---|
| سماعت | سننے کی قوت / سننا |
| تیرگی | اندھیرا / تاریکی |
| ہرسو | ہر طرف / چاروں جانب |
| شاہِ بطحا | مکہ کے بادشاہ (حضور ﷺ کا لقب) |
| مضطرب | بے چین / بے قرار |
| تشنہ لب | پیاسا / سوکھے ہوئے ہونٹ |
| شفیعِ محشر | قیامت کے دن شفاعت کرنے والے (نبی ﷺ) |
اس نعت کا خلاصہ یہ ہے کہ دنیا کی پریشانیوں اور کفر کی تاریکیوں میں ایک مومن کے دل کا سکون صرف ذکرِ مصطفیٰ ﷺ میں پوشیدہ ہے۔ شاعر اپنی روحانی پیاس بجھانے کے لیے جامِ کوثر اور دل کی بے چینی ختم کرنے کے لیے طیبہ کی ہواؤں سے نسبتِ رسول ﷺ کا طالب ہے۔
نعت کے آخری مصرعوں میں شاعر نے خود کو "تشنہ لب" (پیاسا) کہتے ہوئے "شفیعِ محشر" سے کس چیز کی درخواست کی ہے؟