मुस्तफ़ा का प्यारा है फ़ातिमा का शहज़ादा
- 1 دن پہلے fiber_manual_record 52 بار دیکھا گیا
,
عنوان: نانا لے لو سلام اب ہمارا
زمرہ: کلام کے بول (لیرکس) منقبت کے بول (لیرکس) نعت کے بول (لیرکس) صلوٰۃ و سلام کے بول (لیرکس)
مصنف/گیتکار: شبّیر احسن منوّری
نعت خوان/ فنکار: شبّیر احسن منوّری
شامل کیا گیا: 11 Jul, 2024 12:15 PM IST
دیکھا گیا: 1.1K
Time to read: 2 min read
نانا لے لو سلام اب ہمارا،
آقا لے لو سلام اب ہمارا،
نانا لے لو سلام اب ہمارا،
سُوۓ کربل جا رہا ہے بیٹا تمہارا
نانا لے لو سلام اب ہمارا،
نانا لے لو سلام اب ہمارا،
نانا لے لو سلام اب ہمارا،
سُوۓ کربل جا رہا ہے ناتی تمہارا
چھ ماہ کا لاڈلا، اصغر بھی ہے ہے ساتھ میں،
عبّاس قاسم بھی ہے، اکبر بھی ہے ساتھ میں،
پھر مدینے میں نہ ہوگا آنا دوبارہ،
نانا لے لو سلام اب ہمارا
نانا لے لو سلام اب ہمارا،
آقا لے لو سلام اب ہمارا،
سُوۓ کربل جا رہا ہے بیٹا تمہارا
نیزے پے قرآن کو، چڑکر سنانے لگے،
گردن کو سجدے میں ہم، اپنی کٹانے چلے،
کربلا میں پورا ہوگا وعدہ ہمارا،
نانا لے لو سلام اب ہمارا
نانا لے لو سلام اب ہمارا،
آقا لے لو سلام اب ہمارا،
سُوۓ کربل جا رہا ہے بیٹا تمہارا
گھر پر میری لاڈلی، صُغریٰ وہ بیمار ہے،
کمزور ہے اس قدر، چلنے سے لاچار ہے،
میری بیٹی کی حفاظت کرنا خُدارا،
نانا لے لو سلام اب ہمارا
نانا لے لو سلام اب ہمارا،
آقا لے لو سلام اب ہمارا،
سُوۓ کربل جا رہا ہے ناتی تمہارا،
نانا لے لو سلام اب ہمارا
پاتا تھا دل یہ سکوں، گُمبد ہرا دیکھ کر،
یعنی درِسرورِ ہر دُسرا دیکھ کر،
یاد آے گا بہت یہ روزہ تمہارا
نانا لے لو سلام اب ہمارا
نانا لے لو سلام اب ہمارا،
نانا لے لو سلام اب ہمارا
سُوۓ کربل جا رہا ہے بیٹا تمہارا،
نانا لے لو سلام اب ہمارا
This summary is AI-generated • Reviewed for quality.
یہ رقت آمیز کلام اس الوداعی منظر کی ترجمانی کرتا ہے جب امام حسین (رض) مدینہ منورہ چھوڑ کر کربلا کی سمت روانہ ہو رہے تھے۔ یہ اپنے نانا، نبی کریم ﷺ کے روضہ اقدس پر حاضری اور آخری سلامِ رخصت کا تذکرہ ہے۔
ان سطور میں امام حسین (رض) اپنے نانا ﷺ سے مخاطب ہو کر عرض کرتے ہیں کہ دینِ حق کی بقا کے لیے وہ اپنے ننھے اصغر، جوان اکبر اور بھائی عباس کے ساتھ کربلا جا رہے ہیں۔ آپؓ اپنی بیمار بیٹی بی بی صغریٰ کو اللہ کے سپرد کرتے ہیں اور جانتے ہیں کہ اب مدینے کی ان گلیوں میں واپسی نہیں ہوگی۔
| لفظ | معنی |
|---|---|
| سُوئے کربل | کربلا کی طرف |
| ناتی | بیٹی کا بیٹا (نواسہ) |
| نیزہ | بھالا (جس کی انی پر سرِ مبارک بلند کیا گیا) |
| لاچار | مجبور یا بے بس |
| خُدارا | خدا کے لیے |
| درِ سرور | حضور ﷺ کا درِ اقدس |
اس کلام کا لبِ لباب امام حسین (رض) کی وہ عظیم قربانی ہے جس کے لیے انہوں نے اپنا گھر بار اور پیارا شہر مدینہ قربان کر دیا۔ یہ سفر محض ہجرت نہیں بلکہ اللہ سے کیے گئے اس وعدے کی تکمیل تھی جس میں گردن تو کٹ سکتی تھی مگر باطل کے سامنے جھک نہیں سکتی تھی۔
مدینہ چھوڑتے وقت، گنبدِ خضراء اور روضۂ رسول ﷺ کو دیکھ کر امام حسینؑ کے دل کو جو سکون ملتا تھا، اس کے بارے میں آخری مصرعوں میں کیا کہا گیا ہے؟