मुस्तफ़ा का प्यारा है फ़ातिमा का शहज़ादा
- 1 دن پہلے fiber_manual_record 52 بار دیکھا گیا
,
عنوان: بس رہا ہے نظر میں مدینہ
زمرہ: نعت کے بول (لیرکس) صلوٰۃ و سلام کے بول (لیرکس)
مصنف/گیتکار: عبد الستار نیازی
نعت خوان/ فنکار: فرقان قادری
شامل کیا گیا: 01 Feb, 2026 06:43 PM IST
دیکھا گیا: 2.8K
Time to read: 2 min read
قافلے سوئے طیبہ چلے ہیں،
آج پھر سے میں تنہا کھڑا ہوں
جا سکا نہ میں اب کے بھی، مولا!
بس یہی سوچ کر رو رہا ہوں
بس رہا ہے نظر میں مدینہ،
دل میں ارمان ہے حاضری کے،
روتے روتے، مدینے کے والی!
بیت جائیں نہ دن زندگی کے
میرا جینا بھی ہے کوئی جینا،
دور ہے مجھ سے تیرا مدینہ،
جیتے جی وہ گھڑی بھی تو آئے،
دیکھ لوں جلوے تیری گلی کے
بس رہا ہے نظر میں مدینہ،
دل میں ارمان ہے حاضری کے،
روتے روتے، مدینے کے والی!
بیت جائیں نہ دن زندگی کے
میری امت پہ کر دے عطائیں،
بخش دے ان کی ساری خطائیں،
مصطفیٰ کر رہے ہیں دعائیں،
بخت دیکھو ذرا امتی کے
حضور! ایسا کوئی انتظام ہو جائے،
سلام کے لیے حاضر غلام ہو جائے
حضور آپ جو چاہیں تو کچھ نہیں مشکل،
سمٹ کے فاصلہ یہ چند گام ہو جائے
مدینے جاؤں، پھر آؤں، دوبارہ پھر جاؤں،
یہ زندگی مری یوں ہی تمام ہو جائے
بس رہا ہے نظر میں مدینہ،
دل میں ارمان ہے حاضری کے،
روتے روتے، مدینے کے والی!
بیت جائیں نہ دن زندگی کے
غم کے ماروں کا تو آسرا ہے،
تو نیازی کا مشکل کشا ہے،
میرے مولا! مجھے اتنا دے دے،
ہر برس لوں مزے حاضری کے
بس رہا ہے نظر میں مدینہ،
دل میں ارمان ہے حاضری کے،
روتے روتے، مدینے کے والی!
بیت جائیں نہ دن زندگی کے
This summary is AI-generated • Reviewed for quality.
یہ کلام مدینہ منورہ کی حاضری کی تڑپ اور فراقِ رسول ﷺ میں ڈوبے ہوئے ایک بے قرار دل کی پکار ہے۔ اس میں شاعر اپنی محرومی پر آنسو بہاتے ہوئے بارگاہِ رسالت میں حاضری کی التجا کر رہا ہے۔
شاعر کہتا ہے کہ زائرین کے قافلے مدینے کی طرف روانہ ہو رہے ہیں اور میں ایک بار پھر تنہا رہ گیا ہوں۔ وہ حضور ﷺ سے فریاد کرتا ہے کہ اے اللہ کے نبی! ایسا انتظام فرما دیں کہ فاصلے سمٹ جائیں اور میری زندگی کا ہر سال آپ ﷺ کے در پر سلام پیش کرتے ہوئے گزرے۔
| لفظ | معنی |
|---|---|
| سوئے طیبہ | مدینے کی طرف |
| قافلے | مسافروں کے گروہ |
| مدینے کے والی | مدینہ کے مالک (حضور ﷺ) |
| بخت | نصیب یا قسمت |
| چند گام | چند قدم (تھوڑا سا فاصلہ) |
| تمام ہو جائے | ختم ہو جائے (مراد: گزر جائے) |
| مشکل کشا | مشکلیں حل کرنے والا |
اس نعت کا خلاصہ یہ ہے کہ ایک عاشق کے لیے مدینے سے دوری موت کے برابر ہے؛ وہ چاہتا ہے کہ اس کی زندگی مدینے آنے جانے کے چکروں میں ہی کٹ جائے۔ وہ اپنی محرومی پر رنجیدہ ہے لیکن اسے یقین ہے کہ اگر حضور ﷺ چاہیں تو کوئی فاصلہ مشکل نہیں، اور وہ ہر سال حاضری کی نعمت پانے کی دعا کرتا ہے۔
کیا آپ کو بھی کبھی دوسروں کو مدینے جاتے دیکھ کر ایسی ہی کیفیت محسوس ہوئی ہے؟