, بس رہا ہے نظر میں مدینہ - Shan E Nabi
search
لاگ ان
Get latest updates On WhatsApp

بس رہا ہے نظر میں مدینہ Lyrics In اردو

(بس رہا ہے نظر میں مدینہ, دل میں ارمان ہے حاضری کے)


Written By

avatar
Shan E Nabi Team Desk
  • Editors Desk
  • شامل کیا گیاnot available
  • visibilityبار دیکھا گیا
  • comment تبصرے
  • thumb_up0 بار پسند کیا گیا
  • shareشیئر کریں
...

عنوان: بس رہا ہے نظر میں مدینہ

زمرہ: نعت کے بول (لیرکس) صلوٰۃ و سلام کے بول (لیرکس)

مصنف/گیتکار: عبد الستار نیازی

نعت خوان/ فنکار: فرقان قادری

شامل کیا گیا: 01 Feb, 2026 06:43 PM IST

دیکھا گیا: 2.8K

Time to read: 2 min read

بول کی زبان منتخب کریں:

قافلے سوئے طیبہ چلے ہیں،
آج پھر سے میں تنہا کھڑا ہوں
جا سکا نہ میں اب کے بھی، مولا!
بس یہی سوچ کر رو رہا ہوں

بس رہا ہے نظر میں مدینہ،
دل میں ارمان ہے حاضری کے،
روتے روتے، مدینے کے والی!
بیت جائیں نہ دن زندگی کے

میرا جینا بھی ہے کوئی جینا،
دور ہے مجھ سے تیرا مدینہ،
جیتے جی وہ گھڑی بھی تو آئے،
دیکھ لوں جلوے تیری گلی کے

بس رہا ہے نظر میں مدینہ،
دل میں ارمان ہے حاضری کے،
روتے روتے، مدینے کے والی!
بیت جائیں نہ دن زندگی کے

میری امت پہ کر دے عطائیں،
بخش دے ان کی ساری خطائیں،
مصطفیٰ کر رہے ہیں دعائیں،
بخت دیکھو ذرا امتی کے

حضور! ایسا کوئی انتظام ہو جائے،
سلام کے لیے حاضر غلام ہو جائے

حضور آپ جو چاہیں تو کچھ نہیں مشکل،
سمٹ کے فاصلہ یہ چند گام ہو جائے

مدینے جاؤں، پھر آؤں، دوبارہ پھر جاؤں،
یہ زندگی مری یوں ہی تمام ہو جائے

بس رہا ہے نظر میں مدینہ،
دل میں ارمان ہے حاضری کے،
روتے روتے، مدینے کے والی!
بیت جائیں نہ دن زندگی کے

غم کے ماروں کا تو آسرا ہے،
تو نیازی کا مشکل کشا ہے،
میرے مولا! مجھے اتنا دے دے،
ہر برس لوں مزے حاضری کے

بس رہا ہے نظر میں مدینہ،
دل میں ارمان ہے حاضری کے،
روتے روتے، مدینے کے والی!
بیت جائیں نہ دن زندگی کے

wand_stars
Lyrics Explanation, Word Meanings & Summary

This summary is AI-generated • Reviewed for quality.

keyboard_arrow_down

یہ کلام مدینہ منورہ کی حاضری کی تڑپ اور فراقِ رسول ﷺ میں ڈوبے ہوئے ایک بے قرار دل کی پکار ہے۔ اس میں شاعر اپنی محرومی پر آنسو بہاتے ہوئے بارگاہِ رسالت میں حاضری کی التجا کر رہا ہے۔

اشعار کی تشریح (Lyrics Explanation)

شاعر کہتا ہے کہ زائرین کے قافلے مدینے کی طرف روانہ ہو رہے ہیں اور میں ایک بار پھر تنہا رہ گیا ہوں۔ وہ حضور ﷺ سے فریاد کرتا ہے کہ اے اللہ کے نبی! ایسا انتظام فرما دیں کہ فاصلے سمٹ جائیں اور میری زندگی کا ہر سال آپ ﷺ کے در پر سلام پیش کرتے ہوئے گزرے۔


الفاظ کے معنی (Word Meanings)

لفظمعنی
سوئے طیبہمدینے کی طرف
قافلےمسافروں کے گروہ
مدینے کے والیمدینہ کے مالک (حضور ﷺ)
بختنصیب یا قسمت
چند گامچند قدم (تھوڑا سا فاصلہ)
تمام ہو جائےختم ہو جائے (مراد: گزر جائے)
مشکل کشامشکلیں حل کرنے والا

خلاصہ (Summary)

اس نعت کا خلاصہ یہ ہے کہ ایک عاشق کے لیے مدینے سے دوری موت کے برابر ہے؛ وہ چاہتا ہے کہ اس کی زندگی مدینے آنے جانے کے چکروں میں ہی کٹ جائے۔ وہ اپنی محرومی پر رنجیدہ ہے لیکن اسے یقین ہے کہ اگر حضور ﷺ چاہیں تو کوئی فاصلہ مشکل نہیں، اور وہ ہر سال حاضری کی نعمت پانے کی دعا کرتا ہے۔

کیا آپ کو بھی کبھی دوسروں کو مدینے جاتے دیکھ کر ایسی ہی کیفیت محسوس ہوئی ہے؟

Read more ↓
Was this page helpful?
شیئر کریں:

Salat O Salam Lyrics

سبھی دیکھیں