मुस्तफ़ा का प्यारा है फ़ातिमा का शहज़ादा
- 1 دن پہلے fiber_manual_record 57 بار دیکھا گیا
,
عنوان: دو عالم کے آقا سلام علیکم
زمرہ: نعت کے بول (لیرکس) صلوٰۃ و سلام کے بول (لیرکس)
مصنف/گیتکار: خالد محمود خالد
نعت خوان/ فنکار: مختلف/نامعلوم
شامل کیا گیا: 03 Feb, 2026 09:48 AM IST
دیکھا گیا: 389
Time to read: 1 min read
دو عالم کے آقا سلام علیکم،
نویدِ مسیحا سلام علیکم
ترے نور سے ہے ہر اک حسن پیدا،
ترے حسن پر ہے خدا خود بھی شیدا
تری ذات اقدس میں کونین ہیں گم،
دو عالم کے آقا سلام علیکم
نوید مسیحا سلام علیکم،
تری نکہت زُلف کا نام جنّت
نگاہِ کرم ہیں ادائیں سخاوت،
سکھایا ہے تو نے گلوں کو تبسّم
دو عالم کے آقا سلام علیکم،
نویدِ مسیحا سلام علیکم
گرے تو تمہارے کرم نے سنبھالا،
تمہاری عطا نے دو عالم کو پالا
This summary is AI-generated • Reviewed for quality.
یہ کلام حضورِ اکرم ﷺ کی بارگاہ میں عقیدت و محبت سے لبریز ایک خوبصورت سلام ہے، جس میں آپ ﷺ کی ذات کو کائنات کی ہر خوبصورتی اور خیر کا منبع قرار دیا گیا ہے
شاعر کہتا ہے کہ دونوں جہان کے مالک اور نجات دہندہ (مسیحا) پر سلام ہو، جن کے نور کی بدولت کائنات کا ہر حسن وجود میں آیا۔ آپ ﷺ کی شخصیت اتنی مقدس ہے کہ دونوں جہان اس میں سمائے ہوئے ہیں اور دنیا کے پھولوں نے مسکرانے کا فن بھی آپ ﷺ کے تبسم سے سیکھا ہے۔
| لفظ | معنی |
|---|---|
| نویدِ مسیحا | مسیحا کی خوشخبری (Good news of a healer) |
| شیدا | عاشق یا فدا ہونا (Enamoured) |
| ذاتِ اقدس | انتہائی پاکیزہ شخصیت |
| کونین | دونوں جہان / کائنات (The Universe) |
| نکہتِ زلف | بالوں کی خوشبو (Fragrance of tresses) |
| تبسم | مسکراہٹ (Smile) |
| سخاوت | فیاضی یا دان کرنا (Generosity) |
اس سلام کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت محمد ﷺ ہی وہ ہستی ہیں جن کے دم سے پوری کائنات کو رزق اور زندگی مل رہی ہے۔ جب بھی کوئی انسان کمزوری یا گناہ میں گرتا ہے، آپ ﷺ کا کرم اسے سہارا دیتا ہے، اور آپ ﷺ کی نگاہِ کرم ہی بندوں کے لیے سب سے بڑی سخاوت اور پناہ گاہ ہے۔
ان اشعار کے مطابق، "گلوں" (پھولوں) کو تبسم کس نے سکھایا ہے اور انسان کے گرنے پر کس نے سہارا دیا؟