क़ुर्बान मैं उनकी बख़्शिश के मक़सद भी ज़बाँ पर आया नहीं
- 4 مہینے پہلے fiber_manual_record 299 بار دیکھا گیا
,
عنوان: دردِ دل کر مجھے عطا یا رب
زمرہ: حمد کے بول (لیرکس) نعت کے بول (لیرکس) نظم کے بول (لیرکس)
مصنف/گیتکار: مختلف/نامعلوم
نعت خوان/ فنکار: اویس رضا قادری
شامل کیا گیا: 07 Aug, 2023 09:11 AM IST
دیکھا گیا: 348
Time to read: 2 min read
دردِ دل کر مجھے عطا یا رب،
دے میرے درد کی دوا یا رب۔
بے سبب بخش دے، نہ پوچھ اعمال،
نام غفّار ہے ترا یا رب۔
یوں گموں کہ میں تجھ سے مل جاؤں،
یوں گما اس طرح ملا یا رب۔
عیب مرے نہ کھول محشر میں،
نام ستّار ہے ترا یا رب۔
ہر بھلے کی بھلائی کا صدقہ،
مجھ نکمّے کو کر بھلا یا رب۔
لاج رکھ لے گنہگاروں کی،
نام رحمان ہے ترا یا رب۔
خاک کر اپنے آستانے کی،
یوں ہمیں خاک میں ملا یا رب۔
میری آنکھیں مرے لیے ترسیں،
مجھ سے ایسا مجھے چھپا یا رب۔
تِیَس کم ہو نہ دردِ اُلفت کی،
دل تڑپتا رہے مرا یا رب۔
تری جانب یہ مُشتِ خاک اُڑے،
بھیج ایسی کوئی ہوا یا رب۔
سبقت رحمتی علیٰ غضبی،
تُو نے جب سے سُنا دیا یا رب۔
تُو آسرا ہے ہم گنہگاروں کا،
اور مضبوط ہو گیا یا رب۔
اہلِ سنّت کی ہر جماعت پر،
ہر جگہ ہو تیری عطا یا رب۔
دشمنوں کے لیے ہدایت کی،
تُجھ سے کرتا ہوں التجا یا رب۔
میری ماں، میری بہنیں، بھانجے سب،
پائیں آرامِ دو سرا یا رب۔
اور بھی جتنے پیارے ہیں،
حاجتیں سب کی ہوں روا یا رب۔
مرے احباب پر بھی فضل رہے،
تیرا، ترے حبیب کا یا رب۔
تُو حسن کو اُٹھا حسن کر کے،
ہو آمَالِ خیر خاتِمہ یا رب۔
This summary is AI-generated • Reviewed for quality.
یہ کلام بارگاہِ الٰہی میں عاجزی اور انکساری سے لبریز ایک خوبصورت مناجات ہے، جس میں ایک بندہ اپنے گناہوں کی معافی، نفس کی نفی، اور خدا کی محبت میں فنا ہونے کی التجا کر رہا ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ کی رحیمی و کریمی کا واسطہ دے کر دونوں جہان کی بھلائی مانگی گئی ہے۔
ان لائنوں کا مطلب ہے کہ اے پروردگار! مجھے اپنے عشق کا وہ دردِ دل عطا کر جو میری روح کی دوا بن جائے، اور محشر کے دن میرے گناہوں کا حساب لیے بغیر اپنے نام 'غفار' اور 'ستار' کے صدقے میری پردہ پوشی فرما۔ شاعر التجا کرتا ہے کہ میری ہستی تیرے عشق میں یوں مٹ جائے کہ مجھے دونوں جہان میں صرف تیری ہی رضا حاصل ہو۔
| لفظ (Word) | معنی (Meaning) |
|---|---|
| بے سبب | بغیر کسی وجہ یا نیکی کے / اِسی طرح |
| محشر | قیامت کا میدان / انصاف کا دن |
| آستانے | چوکھٹ / دربارِ الٰہی |
| مُشتِ خاک | مٹھی بھر مٹی (انسانی جسم کا استعارہ) |
| سبقت رحمتی علیٰ غضبی | میری رحمت میرے غصے پر غالب ہے (حدیثِ قدسی) |
| آرامِ دو سرا | دونوں جہان (دنیا اور آخرت) کا سکون |
| احباب | دوست احباب / عزیز و اقارب |
| خاتِمہ | زندگی کا آخری وقت / انتہا |
اس دعا میں شاعر اپنے گناہوں کی بخشش کے ساتھ ساتھ اپنے دل میں دردِ الفت کی تڑپ کو قائم رکھنے کی دعا کرتے ہیں اور اپنوں کے ساتھ ساتھ دشمنوں کے لیے بھی ہدایت مانگتے ہیں۔ آخر میں شاعر 'حسن' (حسن رضا خان) دعا کرتے ہیں کہ جب ان کا اس دنیا سے بلاوا آئے، تو ان کا خاتمہ ایمان اور بہترین اعمال کے ساتھ ہو۔
شائر نے اللہ کے کون سے دو صفاتی ناموں کا ذکر کر کے اپنے گناہوں کی بخشش اور عیب چھپانے کی دعا کی ہے؟