क़ुर्बान मैं उनकी बख़्शिश के मक़सद भी ज़बाँ पर आया नहीं
- 4 مہینے پہلے fiber_manual_record 296 بار دیکھا گیا
,
عنوان: کعبے کی رونق کعبے کا منظر
زمرہ: حمد کے بول (لیرکس) کلام کے بول (لیرکس) منقبت کے بول (لیرکس) نعت کے بول (لیرکس) نظم کے بول (لیرکس)
مصنف/گیتکار: مختلف/نامعلوم
نعت خوان/ فنکار: اسد اقبال کلکتوی حافظ کامران قادری حافظ محمد فہد نفیس قادری حافظ طاہر قادری سجّاد نظامی (مرہوم) شمیم رضا فیضی
شامل کیا گیا: 12 Mar, 2024 10:56 AM IST
دیکھا گیا: 574
Time to read: 1 min read
کعبے کی رونق، کعبے کا منظر
اللہ اکبر، اللہ اکبر
دیکھوں تو دیکھے جاؤں برابر
اللہ اکبر، اللہ اکبر
حیرت سے خود کو کبھی دیکھتا ہوں
اور دیکھتا ہوں کبھی میں حرم کو
لایا کہاں مجھ کو میرا مقدر
اللہ اکبر، اللہ اکبر
حمدِ خدا سے تر ہے زبانیں
کانوں میں رس گھولتی ہیں اذانیں
بس ایک صدا آ رہی ہے برابر
اللہ اکبر، اللہ اکبر
ماںگی ہیں میں نے جتنی دعائیں
منظور ہوں گی، مقبول ہوں گی
ميزابِ رحمت ہے میرے سر پر
اللہ اکبر، اللہ اکبر
تیرے کرم کی کیا بات مولا
تیرے حرم کی کیا بات مولا
تا عمر کر دے آنا مقدر
اللہ اکبر، اللہ اکبر
یاد آ گئی جب اپنی خطائیں
آنسوؤں میں ڈھلنے لگیں التجائیں
رویا غلافِ کعبہ پکڑ کر
اللہ اکبر، اللہ اکبر
دیکھا صفا بھی، مروہ بھی دیکھا
رب کے کرم کا جلوہ بھی دیکھا
دیکھا رواں ایک سروں کا سمندر
اللہ اکبر، اللہ اکبر
کعبے کے اوپر سے جاتے نہیں ہیں
کس کو سبق یہ سکھاتے نہیں ہیں
کتنے مؤدب ہیں یہ کبوتر
اللہ اکبر، اللہ اکبر
بھیجا ہے جنت سے تجھ کو خدا نے
چوما ہے تجھ کو خود میرے مصطفٰی نے
اے حجرِ اسود تیرا مقدر
اللہ اکبر، اللہ اکبر
جس پر نبی کے قدم کو سجایا
اپنی نشانی کہہ کے بتایا
محفوظ رکھا رب نے یہ پتھر
اللہ اکبر، اللہ اکبر
This summary is AI-generated • Reviewed for quality.
یہ کلام خانہ کعبہ کی عظمت، وہاں کی پُرنور فضاؤں اور ایک زائر کے قلبی جذبات کی خوبصورت عکاسی کرتا ہے۔ اس میں اللہ کے گھر کی زیارت کی خوشی اور وہاں کی جانے والی دعاؤں کی قبولیت کا تذکرہ ہے۔
شاعر کعبہ کے دلکش منظر اور اللہ کی بڑائی بیان کرتے ہوئے کہتا ہے کہ میرا مقدر مجھے اس پاک مقام پر لے آیا جہاں کی اذانیں روح کو سکون دیتی ہیں۔ غلافِ کعبہ پکڑ کر اپنی خطاؤں پر رونا اور صفا و مروہ کے درمیان رب کی رحمت کا مشاہدہ کرنا ایمان کو تازہ کر دیتا ہے۔
| لفظ | معنی |
|---|---|
| مقدر | قسمت یا نصیب |
| ميزابِ رحمت | کعبہ کی چھت کا وہ پرنالہ جہاں سے بارش کا پانی گرتا ہے |
| خطائیں | گناہ یا غلطیاں |
| التجائیں | درخواستیں یا دعائیں |
| مؤدب | ادب کرنے والے |
| حجرِ اسود | وہ سیاہ پتھر جو جنت سے لایا گیا اور کعبہ میں نصب ہے |
| محفوظ | سلامت یا حفاظت میں |
اس کلام کا خلاصہ یہ ہے کہ حرم شریف کی حاضری ہر مسلمان کے لیے زندگی کا سب سے قیمتی لمحہ ہے۔ شاعر کعبہ کے کبوتروں کے ادب سے لے کر حجرِ اسود کی خوش نصیبی تک، ہر شے میں اللہ کی قدرت کا جلوہ دیکھتا ہے اور دعا کرتا ہے کہ یہ حاضری بار بار نصیب ہو۔
منقبت کے آخر میں اس پتھر (مقامِ ابراہیمؑ) کے بارے میں کیا کہا گیا ہے جس پر نبی ﷺ کے قدمِ مبارک کے نشان ہیں، اور رب نے اسے کس طرح رکھا ہے؟