क़ुर्बान मैं उनकी बख़्शिश के मक़सद भी ज़बाँ पर आया नहीं
- 4 مہینے پہلے fiber_manual_record 299 بار دیکھا گیا
,
عنوان: دل درد سے بسمل کی طرح لوٹ رہا ہو
زمرہ: حمد کے بول (لیرکس) نعت کے بول (لیرکس) نظم کے بول (لیرکس)
مصنف/گیتکار: مختلف/نامعلوم
نعت خوان/ فنکار: مختلف/نامعلوم
شامل کیا گیا: 07 Aug, 2023 09:08 AM IST
دیکھا گیا: 514
Time to read: 2 min read
دل درد سے بسمل کی طرح لوٹ رہا ہو،
سینے پہ تسلّی کو تیرا ہاتھ دھرا ہو۔
کیوں اپنی گلی میں وہ روادار صدا ہو،
جو بھیک لیے راہِ گدا دیکھ رہا ہو۔
گر وقتِ اجل سر تیری چوکھٹ پہ جھکا ہو،
جتنی ہو قضا ایک ہی سجدے میں ادا ہو۔
ہم سایۂ رحمت ہے ترا سایۂ دیوار،
رتبہ سے تنزّل کرے تو ظلِّ ہما ہو۔
موقوف نہیں صبحِ قیامت ہی پہ یہ عرض،
جب آنکھ کھلے سامنے تو جلوہ نما ہو۔
دے اُس کو تو نزا اگر حور بھی ساغر،
منہ پھیر لے جو تشنۂ دیدار ترا ہو۔
فردوس کے باغوں سے اُدھر مل نہیں سکتا،
جو کوئی مدینے کے بیابان میں گھوما ہو۔
دیکھا انہیں محشر میں تو رحمت نے پکارا،
آزاد ہے جو آپ کے دامن سے بندھا ہو۔
آتا ہے فقیروں پہ انہیں پیار کچھ ایسا،
خود بھیک دیں اور خود کہیں مانگتے کا بھلا ہو۔
ڈھونڈا ہی کرے صدرِ قیامت کے سپاہی،
وہ کس کو ملے جو ترے دامن میں چھپا ہو۔
جب دینے کو بھیک آئے سرِ کُوَی گدایا،
لب پر یہ دعا تھی میرے منگتے کا بھلا ہو۔
جھک کر انہیں ملنا ہے ہر ایک خاک نشیں سے،
کس واسطے نیچا نہ وہ دامنِ عُبا ہو۔
تم کو تو غلاموں سے ہے کچھ ایسی محبت،
ہے ترکِ ادب ورنہ کہیں ہم پہ فدا ہو۔
دے ڈالیے اپنے لبِ جاں بخش کا صدقہ،
اے چارۂ دل دردِ حسن کی بھی دوا ہو۔
This summary is AI-generated • Reviewed for quality.
یہ کلام بارگاہِ رسالت ﷺ میں لکھی گئی ایک مخلصانہ اور پرسوز نعت ہے، جس میں حضور ﷺ کی شانِ کریمی، ان کے منفرد عشق، اور نزع و محشر کے کٹھن مراحل میں ان کے دیدار اور شفاعت کی تڑپ کا دلنشین بیان ہے۔
ان لائنوں کا مطلب ہے کہ موت کے وقت میرا تڑپتا ہوا دل حضور ﷺ کی تسلی اور شفقت کا طلب گار ہے، اور میری خواہش ہے کہ دمِ رخصت میرا سر ان کی چوکھٹ پر جھکا ہو۔ شاعر کہتا ہے کہ جو شخص مدینے کے صحرا کی خاک چھان لیتا ہے، اسے جنت کے باغوں کی حسرت نہیں رہتی، اور جو محشر میں آپ ﷺ کے دامنِ کرم سے وابستہ ہو گیا، وہ تمام عذابوں سے آزاد ہے۔
| لفظ (Word) | معنی (Meaning) |
|---|---|
| بسمل | زخمی / تڑپتا ہوا پرندہ |
| وقتِ اجل | موت کا وقت / آخری وقت |
| تنزّل | رتبے کا کم ہونا / نیچے آنا |
| جلوہ نما | سامنے ظاہر ہونا / دیدار کروانا |
| تشنۂ دیدار | دیدار کا پیاسا / دیکھنے کی چاہ رکھنے والا |
| بیابان | ویرانہ / جنگل (یہاں مدینے کا صحرا مراد ہے) |
| خاک نشیں | مٹی پر بیٹھنے والا / عاجز انسان |
| چارۂ دل | دل کا علاج کرنے والا / طبیب (حضور ﷺ) |
اس نعتِ پاک میں حضور ﷺ کی اپنے غلاموں اور فقیروں سے بے پناہ محبت کا ذکر کیا گیا ہے، جو خود اپنے سائلوں کو بھیک بھی دیتے ہیں اور ان کے بھلے کی دعا بھی کرتے ہیں۔ شاعر 'حسن' (حسن رضا خان) کہتے ہیں کہ قیامت کے فرشتے اس شخص کو کبھی سزا نہیں دے سکتے جو آپ ﷺ کے دامنِ رحمت میں چھپ گیا ہو، اور آخر میں وہ اپنے دکھی دل کے لیے حضور ﷺ کے لبِ جاں بخش سے شفا کے طلب گار ہیں۔
شاعر نے موت کے وقت اور آنکھ کھلنے پر کس چیز کی تمنا کی ہے، اور ان کے مطابق قیامت کے دن کون عذاب سے محفوظ رہے گا؟