क़ुर्बान मैं उनकी बख़्शिश के मक़सद भी ज़बाँ पर आया नहीं
- 4 مہینے پہلے fiber_manual_record 297 بار دیکھا گیا
,
عنوان: بہت بگڑا ہے میرا دل بنا دے
زمرہ: حمد کے بول (لیرکس) نعت کے بول (لیرکس) نظم کے بول (لیرکس)
مصنف/گیتکار: قاری احسن محسين
نعت خوان/ فنکار: مختلف/نامعلوم
شامل کیا گیا: 14 Feb, 2024 08:21 AM IST
دیکھا گیا: 620
Time to read: 2 min read
بہت بگڑا ہے میرا دل بنا دے،
میرے دل کو کسی قابل بنا دے
اسے دنیا نے گھیرہ ہے خدایا،
تو اپنے ذکر کا ساحل بنا دے
بنا دے مولا میرا دل بنا دے،
بہت بگڑا ہے میرا دل بنا دے
فنسہ ہے ڈال ڈالِ عسیا کے اندر،
تو اب طوفان کو ساحل بنا دے
بنا دے مولا میرا دل بنا دے،
بہت بگڑا ہے میرا دل بنا دے
ہوا ہے نفسِ امارہ کے طبے،
تو اطمینان کا حامل بنا دے
بنا دے مولا میرا دل بنا دے،
بہت بگڑا ہے میرا دل بنا دے
میں ہر شہ میں تجھے محسوس کر لوں،
تو ایسی آنکھ، ایسا دل بنا دے
بنا دے مولا میرا دل بنا دے،
بہت بگڑا ہے میرا دل بنا دے
گناہگاری میں کب تک دن بتائے،
خدایا اب ہمیں قابل بنا دے
بنا دے مولا میرا دل بنا دے،
میرے دل کو کسی قابل بنا دے
میں محرومِ بصارت ہوں خدایا،
بشیراتِ جلوہِ منزل بنا دے
بنا دے مولا میرا دل بنا دے،
بہت بگڑا ہے میرا دل بنا دے
رسول اللہ (ص) کے صدقے میں یا رب،
ہمیں فردوس کے قابل بنا دے
بنا دے مولا میرا دل بنا دے،
بہت بگڑا ہے میرا دل بنا دے
جو تیری ذات کا مکان ہو مولا،
دلِ محسن کو ایسا دل بنا دے
بنا دے مولا میرا دل بنا دے،
میرے دل کو کسی قابل بنا دے
بفض حضرت عثمان صاحب،
بھری محفل کو اہلِ دل بنا دے
رہے جو ذکر سے ہر دم منوّر،
خدایا ایسا میرا دل بنا دے
بنا دے مولا میرا دل بنا دے،
بہت بگڑا ہے میرا دل بنا دے
عطا کر آنکھ مجھے رونے والی،
اسی کوئی زیست کا حاصل بنا دے
بنا دے مولا میرا دل بنا دے،
بہت بگڑا ہے میرا دل بنا دے
وسیلہ حضرتِ رشید الحق کا،
تو اس مجذوب کو کامل بنا دے
بنا دے مولا میرا دل بنا دے،
بہت بگڑا ہے میرا دل بنا دے
ہمیں جو علم کی دولت عطا کی،
تو اپنے فضل سے عامِل بنا دے
بنا دے مولا میرا دل بنا دے،
بہت بگڑا ہے میرا دل بنا دے
جو تیری ذات کا مکان ہو مولا،
دلِ محسن کو ایسا دل بنا دے
بنا دے مولا میرا دل بنا دے،
میرے دل کو کسی قابل بنا دے
This summary is AI-generated • Reviewed for quality.
یہ کلام ایک عاجزانہ دعا ہے جس میں بندہ اپنے رب سے اپنے دل کی اصلاح اور روحانی پاکیزگی کی التجا کر رہا ہے کہ اس کا دل دنیاوی آلائشوں سے پاک ہو کر یادِ الہی کا مرکز بن جائے۔
ان اشعار میں شاعر اللہ تعالیٰ سے فریاد کرتا ہے کہ اس کا دل گناہوں کی دلدل اور نفسِ امارہ کی غلامی میں پھنس کر بگڑ چکا ہے۔ وہ دعا کرتا ہے کہ اسے ایسی بصیرت اور ایسا دل عطا ہو جو کائنات کی ہر شے میں اللہ کی قدرت کا مشاہدہ کر سکے اور اس کی زندگی کا حاصل صرف اللہ کے حضور ندامت کے آنسو ہوں۔
| لفظ | معنی |
|---|---|
| نفسِ امارہ | برائی پر اکسانے والا نفس (The evil-commanding self) |
| عصیاں | گناہ یا نافرمانی (Sins) |
| حامل | بوجھ اٹھانے والا یا رکھنے والا (Bearer) |
| محرومِ بصارت | دیکھنے کی قوت سے محروم ہونا (Deprived of sight) |
| بصیرت | اندرونی بصارت یا دانائی (Insight/Vision) |
| منور | روشن یا چمکتا ہوا (Illuminated) |
| زیست | زندگی (Life) |
| عامل | عمل کرنے والا (Practitioner) |
اس کلام کا خلاصہ یہ ہے کہ انسان اپنی گناہ گاری کا اعتراف کرتے ہوئے اللہ سے اپنے دل کو "قابل" بنانے کی بھیک مانگ رہا ہے۔ شاعر کی تمنا ہے کہ اس کا دل اللہ کی ذات کا مسکن بن جائے، اسے علم پر عمل کرنے کی توفیق ملے اور رسول اللہ ﷺ کے صدقے اسے جنت الفردوس میں جگہ عطا ہو۔
شاعر نے "ایسی آنکھ اور ایسا دل" کیوں مانگا ہے اور وہ ہر چیز میں کسے محسوس کرنا چاہتا ہے؟