मुस्तफ़ा का प्यारा है फ़ातिमा का शहज़ादा
- 1 دن پہلے fiber_manual_record 52 بار دیکھا گیا
,
عنوان: اپنے رب کا یہ فرمان ہے
زمرہ: کلام کے بول (لیرکس) نظم کے بول (لیرکس) قوّالی کے بول (لیرکس)
مصنف/گیتکار: مختلف/نامعلوم
نعت خوان/ فنکار: محمد علی تبریز
شامل کیا گیا: 01 Sep, 2025 08:34 AM IST
دیکھا گیا: 384
Time to read: 2 min read
جس طرح کرتے ہو تم کعبے کا دیدار،
آنکھوں میں ادب رکھ کے، اُسی طور سے دیکھو۔
جب جب بھی ستائے جو، تمہیں خواہشِ جنت،
ماں باپ کے چہرے کو بڑے غور سے دیکھو۔
اے ماں... اے ماں... اے ماں... اے ماں...
اپنے رب کا یہ فرمان ہے،
وہ تو قسمت کا سلطان ہے،
اپنے ماں باپ کے واسطے،
زندگی جس کی قربان ہے۔
اے ماں... اے ماں... اے ماں... اے ماں...
حشر تک بھی اگر تیری خدمت کروں،
دودھ کا قرض بھی میں چکا نہ سکوں۔
چاند سورج بھی گر میں سمیٹوں اگر،
چاہتوں کا تیرے نُور لا نہ سکوں۔
اپنے رب کا یہ فرمان ہے،
وہ تو قسمت کا سلطان ہے،
اپنے ماں باپ کے واسطے،
زندگی جس کی قربان ہے۔
اے ماں... اے ماں... اے ماں... اے ماں...
حادثے کیسے چُن پائیں گے،
ماں میری جب نگہبان ہے۔
لے کے نکلا ہوں ماں کی دعا،
مجھ پہ قسمت بھی مہربان ہے
اپنے رب کا یہ فرمان ہے،
وہ تو قسمت کا سلطان ہے،
اپنے ماں باپ کے واسطے،
زندگی جس کی قربان ہے۔
اے ماں... اے ماں... اے ماں... اے ماں...
ماں کی ممتا ملی، ماں کا دامن ملا،
پیارا پیارا مجھے کیسا بچپن ملا۔
تیرے سائے تلے میں سنورنے لگا،
تیری چشمِ کرم کا جو بندھن ملا۔
سانس ہر سانس پر تو میری،
ماں کی ممتا کا احسان ہے۔
ساتھ ماں ہے تو ہر درد سے،
دل ہمارا یہ انجان ہے۔
اپنے رب کا یہ فرمان ہے،
وہ تو قسمت کا سلطان ہے،
اپنے ماں باپ کے واسطے،
زندگی جس کی قربان ہے۔
اے ماں... اے ماں... اے ماں... اے ماں...
وہ شرارت میری، وہ محبت تیری،
مجھے یاد آ گیا پھر سے بچپن میرا۔
میری ہر بات پر ہامی بھرتا ہوا،
مجھے تڑپا گیا دیکھ بندھن تیرا۔
جو نہ پہچانے یہ مرتبہ،
کتنا کم ظرف انسان ہے۔
جو ستاتے ہیں ماں باپ کو،
وہ کہاں کا مسلمان ہے
اپنے رب کا یہ فرمان ہے،
وہ تو قسمت کا سلطان ہے،
اپنے ماں باپ کے واسطے،
زندگی جس کی قربان ہے۔
اے ماں... اے ماں... اے ماں... اے ماں...
This summary is AI-generated • Reviewed for quality.
یہ کلام والدین کی عظمت اور ان کے بلند مقام کی بھرپور عکاسی کرتا ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ ماں باپ کی رضا میں ہی رب کی رضا ہے اور ان کی خدمت ہی دنیا و آخرت کی اصل کامیابی ہے۔
شاعر کہتا ہے کہ اگر جنت دیکھنے کا شوق ہو تو ماں باپ کے چہرے کو کعبے کی طرح عقیدت سے دیکھو۔ دنیا کی کوئی بھی قیمت ماں کے دودھ کا حق ادا نہیں کر سکتی، اور جس کے سر پر ماں کی دعاؤں کا سایہ ہو، زمانے کے حادثات اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔
| لفظ | معنی |
|---|---|
| طور | طریقہ / انداز |
| نگہبان | حفاظت کرنے والا / محافظ |
| چشمِ کرم | مہربانی کی نظر |
| مرتبہ | مقام / درجہ |
| کم ظرف | چھوٹے دل والا / گھٹیا |
| ہامی بھرنا | اقرار کرنا / ہاں کہنا |
اس کلام کا خلاصہ یہ ہے کہ والدین کی خدمت انسان کو قسمت کا سلطان بنا دیتی ہے۔ جو شخص اپنے والدین کو دکھ دیتا ہے وہ نہ صرف انسانیت بلکہ ایمان کی روح سے بھی محروم ہے، کیونکہ ماں کی دعا تقدیر بدلنے کی طاقت رکھتی ہے۔
کلام کے آخر میں ان لوگوں کے بارے میں کیا کہا گیا ہے جو اپنے ماں باپ کو ستاتے ہیں، اور ان کے کردار کو کیسے بیان کیا گیا ہے؟