मेरे सरकार आए
- 9 مہینے پہلے fiber_manual_record 719 بار دیکھا گیا
,
عنوان: نبی نبی یا نبی نبی
زمرہ: قوّالی کے بول (لیرکس)
شامل کیا گیا: 04 Sep, 2025 08:17 PM IST
دیکھا گیا: 2.5K
Time to read: 2 min read
نبی نبی.. یا نبی نبی..
یا نبی نبی.. یا نبی نبی..
دنیا میں حسیں تو لاکھوں ہی ہیں،
تنویرِ مجسم کوئی نہیں،
اے ختمِ رسالت تیرے سوا،
محبوبِ دو عالم کوئی نہیں
کوئی نہیں.. کوئی نہیں..
تیرے سوا.. کوئی نہیں..
مہمان ہوئے اللہ کے تم،
مہمان ہوئے اللہ کے تم،
جبرائیلِ امیں مکھ پلکوں سے،
ململ کے نبی کو جگاتے ہیں،
جلدی سے چلو یا سرورِ دین
اللہ تمہیں بلواتے ہیں،
فردوس کا جامہ نورانی،
اس ماہ کو جب پہناتے ہیں،
انداز پہ مٹ مٹ جاتے ہیں،
اور اپنی زبانی پر لاتے ہیں
مہمان ہوئے اللہ کے تم،
یہ جن و ملک سب جانتے ہیں،
خلوت میں کیا باتیں ہوئیں،
اس راز کا محرم کوئی نہیں
تیرے سوا یا محمد ﷺ
تیرے سوا یا محمد ﷺ
گنہگاروں کا حامی بروزِ محشر،
تیرے سوا کوئی نہیں..
تیرے سوا یا محمد ﷺ
درِ نبی پر پڑا رہوں گا،
میں، درِ نبی پر پڑا رہوں گا،
درِ نبی پھر.. درِ نبی ہے،
درِ نبی ہے.. درِ نبی ہے،
وہ، درِ نبی ہے.. درِ نبی ہے
خبردار اے دل، مقامِ ادب ہے،
کیوں؟ وہ درِ نبی ہے.. درِ نبی ہے
درِ نبی پر پڑا رہوں گا،
پڑے ہی رہنے سے کام ہوگا،
کبھی تو قسمت کھلے گی میری،
کبھی تو میرا سلام ہوگا
نبی نبی.. یا نبی نبی..
یا نبی نبی.. یا نبی نبی..
میں تو ڈھونڈھت ڈھونڈھت ہار گئی،
مجھے پیا کے نگر کا ڈگر نہ ملا،
تن ٹوٹ گیا، من چھوٹ گیا،
مجھے ہائے! وہ شَیام سُندر نہ ملا
میں تو بیٹھی تھی من میں یہ آس دھرے،
کہ وہ آقا پیا مجھے یاد کرے،
وہ کے چرنوُں میں، جا کے میں شیش دھروں،
کوئی میری خطا کو وہ معاف کرے
نہ بانی میں، نہ باغ میں کھایا مجھے،
نہ پہاڑوں پہ ناگن ہائے ڈسو،
مورے بھاگ سے تال بھی چھوٹ گیا،
کہیں پِریتم پیارے کا گھر نہ ملا
عزیز میم کے پردے کو جب اُٹھا دیکھا،
تنِ رسول میں مولا چھپا ہوا دیکھا،
نبی نبی.. یا نبی نبی..
یا نبی نبی.. یا نبی نبی..
This summary is AI-generated • Reviewed for quality.
یہ نعت نبیِ کریم ﷺ کی بے مثال خوبصورتی، واقعہ معراج کی عظمت اور ان کے در پر ایک ادنیٰ غلام کی تڑپ اور حاضری کا تذکرہ ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ کائنات میں حضور ﷺ جیسی نورانی شخصیت اور خدا کا محبوبِ خاص کوئی دوسرا نہیں ہے۔
ان اشعار کا مقصد معراج کی اس بابرکت رات کا منظر کشی کرنا ہے جب اللہ نے اپنے حبیب ﷺ کو عرش پر مہمان بنایا۔ ساتھ ہی، یہ کلام ایک عاشق کی اس عاجزی کو بیان کرتا ہے جو دنیا کی تمام راہوں کو چھوڑ کر صرف درِ نبی ﷺ پر پڑا رہنا چاہتا ہے، کیونکہ وہی محشر کے دن گنہگاروں کی شفاعت کرنے والے ہیں۔
| لفظ | معنی (English/Urdu) |
|---|---|
| تنویرِ مجسم | سراپا نور / Personified Light |
| ختمِ رسالت | آخری نبی / Finality of Prophethood |
| خلوت | تنہائی یا پوشیدگی / Solitude |
| محرم | رازدار / One who knows secrets |
| حامی | مددگار یا حایتی / Supporter |
| بروزِ محشر | قیامت کے دن / Day of Judgment |
| ڈگر | راستہ / Path |
| شیش دھروں | سر جھکانا / To bow the head |
| تنِ رسول | نبی کا جسمِ اطہر / Body of the Prophet |
اس کلام کا خلاصہ یہ ہے کہ حضور ﷺ وہ عظیم ہستی ہیں جنہیں اللہ نے تمام انبیاء کا سرور اور اپنا خاص مہمان بنایا۔ معراج کے خفیہ راز ہوں یا قیامت کے دن گنہگاروں کی بخشش، ہر جگہ صرف آپ ﷺ ہی کی ذات مرکزِ امید ہے۔ کلام کے آخر میں ہندی اور برج بھاشا کے استعاروں (جیسے شیام سندر اور پیا) کے ذریعے یہ سمجھایا گیا ہے کہ حقیقی محبوب اور منزل صرف نبی کا در ہے، جہاں سر جھکانے سے ہی زندگی کی تمام خطائیں معاف ہوتی ہیں اور قسمت بیدار ہوتی ہے۔
نعت کے آخری مصرعے میں "عزیز" نے پردہ اٹھا کر کیا دیکھنے کا دعویٰ کیا ہے، اور "تنِ رسول" کے بارے میں کیا بتایا گیا ہے؟