, یہ تو خواجہ کا کرم ہے - Shan E Nabi
search
لاگ ان
Get latest updates On WhatsApp

یہ تو خواجہ کا کرم ہے Lyrics In اردو

(یہ تو خواجہ کا کرم ہے, میرے خواجہ کا کرم ہے)


Written By

avatar
Shan E Nabi Team Desk
  • Editors Desk
  • شامل کیا گیاnot available
  • visibilityبار دیکھا گیا
  • comment تبصرے
  • thumb_up0 بار پسند کیا گیا
  • shareشیئر کریں
...

عنوان: یہ تو خواجہ کا کرم ہے

زمرہ: قوّالی کے بول (لیرکس)

مصنف/گیتکار: اسلم صابری

نعت خوان/ فنکار: اسلم صابری

شامل کیا گیا: 02 Jan, 2024 09:01 AM IST

دیکھا گیا: 1.5K

Time to read: 2 min read

بول کی زبان منتخب کریں:

یہ تو خواجہ کا کرم ہے
میرے خواجہ کا کرم ہے
یہ تو خواجہ کا کرم ہے

لیتے ہی نامِ خواجہ کا طوفان ہٹ گیا
کشتی میں میری آ کے سمندر سمٹ گیا

یہ تو خواجہ کا کرم ہے
میرے خواجہ کا کرم ہے
یہ تو خواجہ کا کرم ہے

خواجہ کے عشق میں مجھے بتلاؤں کیا ملا
مرشد ملے، رسول ملے اور خدا ملا

یہ تو خواجہ کا کرم ہے
میرے خواجہ کا کرم ہے
یہ تو خواجہ کا کرم ہے

دامن کو میرے بھر دیا خوشیوں سے خواجہ نے
اوقات سے بھی زیادہ نوازا ہے خواجہ نے

یہ تو خواجہ کا کرم ہے
میرے خواجہ کا کرم ہے
یہ تو خواجہ کا کرم ہے

جس وقت میں نے، دوستو! خواجہ کو پکارا
فوراً ہی مل گیا مجھے مشکل میں سہارا
جب سے ملا ہے مجھ کو اُسی دَر کا اُتارا
پہنچا بُلندیوں پہ مقدر کا ستارہ

یہ تو خواجہ کا کرم ہے
میرے خواجہ کا کرم ہے
یہ تو خواجہ کا کرم ہے

مجھ غمزدہ کو آپ نے دَر پہ بُلا لیا
دامن میں اپنے خواجہ نے مجھ کو چھپا لیا
خواجہ پیا کا مجھ پہ یہ احسان دیکھیے
مجھ جیسے ایک حقیر کو اپنا بنا لیا

یہ تو خواجہ کا کرم ہے
میرے خواجہ کا کرم ہے
یہ تو خواجہ کا کرم ہے

کیا شانِ کرم، جود و سخا، بحرِ عطا ہے
خود مانگتوں کو خواجہ کا کرم ڈھونڈ رہا ہے
جب تک بکا نہ تھا تو کوئی پوچھتا نہ تھا
تم نے خرید کر مجھے انمول کر دیا

یہ تو خواجہ کا کرم ہے
میرے خواجہ کا کرم ہے
یہ تو خواجہ کا کرم ہے

نسبت ملی ہے جب سے مجھے تیرے نام کی
عزت جہاں میں ہونے لگی اس غلام کی

یہ تو خواجہ کا کرم ہے
میرے خواجہ کا کرم ہے
یہ تو خواجہ کا کرم ہے

کبھی کبھی تو کوئی نوازے
میرا خواجہ سَدا نوازے

اسی دَر کی بدولت، باخدا، پائی ہے یہ دولت
لٹاتا جاتا ہوں جتنی یہ اُتنی بڑھتی جاتی ہے

یہ تو خواجہ کا کرم ہے
میرے خواجہ کا کرم ہے
یہ تو خواجہ کا کرم ہے

wand_stars
Lyrics Explanation, Word Meanings & Summary

This summary is AI-generated • Reviewed for quality.

keyboard_arrow_down

یہ منقبت حضرت خواجہ غریب نواز (رح) کی سخاوت اور ان کے روحانی تصرف کا اعتراف ہے، جس میں ایک مرید اپنی زندگی کی تمام تر کامیابیوں اور عزت کو خواجہ پیا کے کرم سے منسوب کرتا ہے۔

اشعار کی تشریح (Lyrics Explanation)

ان اشعار کا مفہوم یہ ہے کہ خواجہ غریب نواز کا نام لینا ہی زندگی کے طوفانوں کا رخ موڑ دیتا ہے اور آپ ہی کے عشق کی بدولت بندے کو مرشد، رسول ﷺ اور خدا کی پہچان نصیب ہوتی ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ آپ نے مجھ جیسے معمولی اور حقیر انسان کو اپنا کر زمانے کی نظر میں انمول اور معزز بنا دیا ہے۔


الفاظ کے معنی (Word Meanings)

لفظمعنی
سمٹ گیااکٹھا ہونا یا محدود ہو جانا
نوازاعطا کرنا یا مہربانی کرنا
غمزدہدکھوں کا مارا ہوا
حقیربہت چھوٹا یا معمولی (Insignificant)
جود و سخاسخاوت اور فیاضی
بحرِ عطاعطا اور بخشش کا سمندر
نسبتتعلق یا واسطہ (Connection)
انمولجس کی کوئی قیمت نہ ہو (قیمتی)

خلاصہ (Summary)

اس کلام کا خلاصہ یہ ہے کہ خواجہ معین الدین چشتی (رح) کا دربار وہ مقام ہے جہاں سائل کو اس کی اوقات سے بڑھ کر ملتا ہے۔ شاعر کا ماننا ہے کہ جب تک وہ اس در کا غلام نہیں بنا تھا، دنیا میں اس کی کوئی قدر نہ تھی، لیکن آپ کی نسبت نے اس کے مقدر کا ستارہ بلند کر دیا۔ یہ کرم ایسا ہے جو بانٹنے سے مزید بڑھتا ہے اور ہر مشکل میں سہارا بنتا ہے۔

شاعر نے ایسا کیوں کہا کہ خواجہ کے عشق میں انہیں "مرشد، رسول اور خدا" سب مل گئے؟

Read more ↓
Was this page helpful?
شیئر کریں:

نمایاں آرٹسٹ/گیت نگار

سبھی دیکھیں