, آج رنگ ہے ری ماں - Shan E Nabi
search
لاگ ان
Get latest updates On WhatsApp

آج رنگ ہے ری ماں Lyrics In اردو

(آج رنگ ہے ری ماں, مورے محبوب کے گھر رنگ ہے ری)


Written By

avatar
Shan E Nabi Team Desk
  • Editors Desk
  • شامل کیا گیاnot available
  • visibilityبار دیکھا گیا
  • comment تبصرے
  • thumb_up0 بار پسند کیا گیا
  • shareشیئر کریں
...

عنوان: آج رنگ ہے ری ماں

زمرہ: قوّالی کے بول (لیرکس)

مصنف/گیتکار: حضرت امیر خسرو

نعت خوان/ فنکار: رئیس میاں

شامل کیا گیا: 27 Jun, 2023 05:59 AM IST

دیکھا گیا: 610

Time to read: 2 min read

بول کی زبان منتخب کریں:

خُسرو! رَین سہاگ کی، جو میں جاگوں پِیا سنگ
تن میرا، من پِیا کا، جو دونوں ایک ہی رنگ

مٹی کے تُو دیورے، جو سُنوں ہماری بات
آج مِلاورا پِیا کا، تُم جاگیو ساری رات

آج رنگ ہے ری ماں! رنگ ہے ری
مورے محبوب کے گھر رنگ ہے ری

آج سجن مِلاورا مورے آنگن میں
میں پیر پایو نظام الدین اولیاء
نظامُ الدین اولیاء، علاءُالدین اولیاء،
فریدُالدین اولیاء، قطبُالدین اولیاء،
معینُالدین اولیاء، محیُّ الدین اولیاء

آج سجن مِلاورا مورے آنگن میں
میں تو جب دیکھوں، مورے سنگ ہے ری ماں، رنگ ہے ری

دیس بدیس میں ڈھونڈھ پھری ہوں
تورا رنگ من بھایو نظام الدین

ایسو رنگ اور ناہیں دیکھوں کہیں بھی میں تو
موہے اپنے ہی رنگ میں رنگ لے خواجہ جی
موہے رنگ بسنتی رنگ دے خواجہ جی
جو تُو مانگے رنگ کی رنگائی
مورا جوَبَن گروی رکھ لے خواجہ جی

مہروا رس بوندا برسے
بوندا برسے، رس بوندا برسے
خواجگان کے درباراں میں
آج دیکھو گھنگھور چھائے

گنج شکر، محبوبِ الٰہی کا آج شہرا
نجم نصیرُ الدین کا لعل محبوب بنا

سب سکھیاں کہ پِیہ ہیں گھر میں
مورا پِیا کے مِلن کو جِیرا ترسے

نظامُالدین اولیاء! جگ اُجیارو، جگ اُجیارو، جگت اُجیارو
وہ تو جو مانگیں، برسات ہے ری ماں، رنگ ہے ری

میں پیر پایو نظامُالدین اولیاء، علاؤالدین اولیاء
وہ تو جو مانگیں، برسات ہے ری ماں، رنگ ہے ری

wand_stars
Lyrics Explanation, Word Meanings & Summary

This summary is AI-generated • Reviewed for quality.

keyboard_arrow_down

یہ صوفیانہ روایات کا سب سے زیادہ مقبول اور مشہورِ زمانہ کلام (قوالی) ہے، جسے حضرت امیر خسرو نے اپنے مرشدِ کامل حضرت نظام الدین اولیاء کی شان اور محبت میں تحریر کیا ہے، جو عشقِ الٰہی اور مرشد کے لیے کامل فنا کو ظاہر کرتا ہے۔

اشعار کی تشریح (Lyrics Explanation)

ان اشعار کا مطلب ہے کہ امیر خسرو اپنے مرشد کے آنے پر وجد کی حالت میں ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ آج میرے آنگن میں محبوبِ الٰہی کی آمد سے روحانی خوشیوں کا رنگ برسا ہے۔ وہ اپنے مرشد سے التجا کرتے ہیں کہ مجھے اپنے ہی رنگ میں رنگ لیں، چاہے اس کے بدلے میری سب سے قیمتی چیز (جوبن) ہی گروی کیوں نہ رکھنی پڑے۔


الفاظ کے معنی (Word Meanings)

لفظ (Word)معنی (Meaning)
رَین سہاگ کیملاپ یا وصال کی رات
دیورےمٹی کے چھوٹے دیے / چراغ
مِلاوراملاقات / محبوب سے ملن کی گھڑی
رنگصوفیانہ اصطلاح میں عشقِ الٰہی اور معرفت کا رنگ
جوبَنجوانی / زندگی کا سب سے قیمتی سرمایہ
شہراشہرت / چرچا یا دھوم
جِییرادل / من یا روح

خلاصہ (Summary)

اس صوفیانہ کلام کا بنیادی لبِ لباب یہ ہے کہ جب ایک سالک کو اپنا سچا مرشد مل جاتا ہے، تو اس کے دونوں جہاں ایثار اور رب کی محبت کے رنگ میں رنگ جاتے ہیں۔ امیر خسرو کہتے ہیں کہ انہوں نے پوری دنیا (دیس بدیس) چھان ماری لیکن جو سچا سکون اور روحانی رنگ انہیں نظام الدین اولیاء کے در پر ملا، وہ کہیں اور نہیں تھا۔ چشتیہ سلسلے کے عظیم اولیاء کا واسطہ دیتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ ان کے مرشد کا نور پورے جہاں کو روشن کرنے والا ہے اور ان کے آستانے پر ہمیشہ رب کی رحمت اور فیض کی برسات ہوتی ہے۔

لیرکس کے مطابق، حضرت امیر خسرو نے پوری دنیا (دیس بدیس) میں ڈھونڈنے کے بعد کس کا رنگ پسند آنے کی بات کہی ہے؟

Read more ↓
Was this page helpful?
شیئر کریں:

نمایاں آرٹسٹ/گیت نگار

سبھی دیکھیں