मेरे सरकार आए
- 9 مہینے پہلے fiber_manual_record 719 بار دیکھا گیا
,
عنوان: آج رنگ ہے ری ماں
زمرہ: قوّالی کے بول (لیرکس)
مصنف/گیتکار: حضرت امیر خسرو
نعت خوان/ فنکار: رئیس میاں
شامل کیا گیا: 27 Jun, 2023 05:59 AM IST
دیکھا گیا: 610
Time to read: 2 min read
خُسرو! رَین سہاگ کی، جو میں جاگوں پِیا سنگ
تن میرا، من پِیا کا، جو دونوں ایک ہی رنگ
مٹی کے تُو دیورے، جو سُنوں ہماری بات
آج مِلاورا پِیا کا، تُم جاگیو ساری رات
آج رنگ ہے ری ماں! رنگ ہے ری
مورے محبوب کے گھر رنگ ہے ری
آج سجن مِلاورا مورے آنگن میں
میں پیر پایو نظام الدین اولیاء
نظامُ الدین اولیاء، علاءُالدین اولیاء،
فریدُالدین اولیاء، قطبُالدین اولیاء،
معینُالدین اولیاء، محیُّ الدین اولیاء
آج سجن مِلاورا مورے آنگن میں
میں تو جب دیکھوں، مورے سنگ ہے ری ماں، رنگ ہے ری
دیس بدیس میں ڈھونڈھ پھری ہوں
تورا رنگ من بھایو نظام الدین
ایسو رنگ اور ناہیں دیکھوں کہیں بھی میں تو
موہے اپنے ہی رنگ میں رنگ لے خواجہ جی
موہے رنگ بسنتی رنگ دے خواجہ جی
جو تُو مانگے رنگ کی رنگائی
مورا جوَبَن گروی رکھ لے خواجہ جی
مہروا رس بوندا برسے
بوندا برسے، رس بوندا برسے
خواجگان کے درباراں میں
آج دیکھو گھنگھور چھائے
گنج شکر، محبوبِ الٰہی کا آج شہرا
نجم نصیرُ الدین کا لعل محبوب بنا
سب سکھیاں کہ پِیہ ہیں گھر میں
مورا پِیا کے مِلن کو جِیرا ترسے
نظامُالدین اولیاء! جگ اُجیارو، جگ اُجیارو، جگت اُجیارو
وہ تو جو مانگیں، برسات ہے ری ماں، رنگ ہے ری
میں پیر پایو نظامُالدین اولیاء، علاؤالدین اولیاء
وہ تو جو مانگیں، برسات ہے ری ماں، رنگ ہے ری
This summary is AI-generated • Reviewed for quality.
یہ صوفیانہ روایات کا سب سے زیادہ مقبول اور مشہورِ زمانہ کلام (قوالی) ہے، جسے حضرت امیر خسرو نے اپنے مرشدِ کامل حضرت نظام الدین اولیاء کی شان اور محبت میں تحریر کیا ہے، جو عشقِ الٰہی اور مرشد کے لیے کامل فنا کو ظاہر کرتا ہے۔
ان اشعار کا مطلب ہے کہ امیر خسرو اپنے مرشد کے آنے پر وجد کی حالت میں ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ آج میرے آنگن میں محبوبِ الٰہی کی آمد سے روحانی خوشیوں کا رنگ برسا ہے۔ وہ اپنے مرشد سے التجا کرتے ہیں کہ مجھے اپنے ہی رنگ میں رنگ لیں، چاہے اس کے بدلے میری سب سے قیمتی چیز (جوبن) ہی گروی کیوں نہ رکھنی پڑے۔
| لفظ (Word) | معنی (Meaning) |
|---|---|
| رَین سہاگ کی | ملاپ یا وصال کی رات |
| دیورے | مٹی کے چھوٹے دیے / چراغ |
| مِلاورا | ملاقات / محبوب سے ملن کی گھڑی |
| رنگ | صوفیانہ اصطلاح میں عشقِ الٰہی اور معرفت کا رنگ |
| جوبَن | جوانی / زندگی کا سب سے قیمتی سرمایہ |
| شہرا | شہرت / چرچا یا دھوم |
| جِییرا | دل / من یا روح |
اس صوفیانہ کلام کا بنیادی لبِ لباب یہ ہے کہ جب ایک سالک کو اپنا سچا مرشد مل جاتا ہے، تو اس کے دونوں جہاں ایثار اور رب کی محبت کے رنگ میں رنگ جاتے ہیں۔ امیر خسرو کہتے ہیں کہ انہوں نے پوری دنیا (دیس بدیس) چھان ماری لیکن جو سچا سکون اور روحانی رنگ انہیں نظام الدین اولیاء کے در پر ملا، وہ کہیں اور نہیں تھا۔ چشتیہ سلسلے کے عظیم اولیاء کا واسطہ دیتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ ان کے مرشد کا نور پورے جہاں کو روشن کرنے والا ہے اور ان کے آستانے پر ہمیشہ رب کی رحمت اور فیض کی برسات ہوتی ہے۔
لیرکس کے مطابق، حضرت امیر خسرو نے پوری دنیا (دیس بدیس) میں ڈھونڈنے کے بعد کس کا رنگ پسند آنے کی بات کہی ہے؟