क़ुर्बान मैं उनकी बख़्शिश के मक़सद भी ज़बाँ पर आया नहीं
- 4 مہینے پہلے fiber_manual_record 299 بار دیکھا گیا
,
عنوان: بیمار زندگی ہے دوا مانگ رہی ہے
زمرہ: حمد کے بول (لیرکس) نعت کے بول (لیرکس) نظم کے بول (لیرکس)
مصنف/گیتکار: کلام اعلیٰ حضرت امام احمد رضا
نعت خوان/ فنکار: اشفاق نوری
شامل کیا گیا: 24 Sep, 2022 01:30 PM IST
دیکھا گیا: 5.7K
Time to read: 1 min read
بیمار زندگی ہے دوا مانگ رہی ہے،
بیمار زندگی ہے دوا مانگ رہی ہے
بیمار زندگی ہے دوا مانگ رہی ہے،
یہ روح مدینے کی ہوا مانگ رہی ہے،
یہ روح مدینے کی ہوا مانگ رہی ہے
اے مالکِ کونین بڑی رات اتا کر،
اے مالکِ کونین بڑی رات اتا کر،
یہ فاطمہ رو رو کے دُعا مانگ رہی ہے،
یہ فاطمہ رو رو کے دُعا مانگ رہی ہے
یہ روح مدینے کی ہوا مانگ رہی ہے
ممکن نہیں نصیب ہمارا سکشتا ہو،
ممکن نہیں نصیب ہمارا سکشتا ہو،
ماں میرے لئے گھر میں دُعا مانگ رہی ہے،
ماں میرے لئے گھر میں دُعا مانگ رہی ہے
یہ روح مدینے کی ہوا مانگ رہی ہے
بیمار زندگی ہے دوا مانگ رہی ہے،
یہ روح مدینے کی ہوا مانگ رہی ہے
بیمار زندگی ہے دوا مانگ رہی ہے،
یہ روح مدینے کی ہوا مانگ رہی ہے
This summary is AI-generated • Reviewed for quality.
یہ رقت آمیز اور دل سوز نعتِ شریف انسانی روح کی بے چینی، دیارِ مدینہ کی تڑپ، ماں کی دعاؤں کی تاثیر اور جگر گوشۂ رسول حضرت فاطمہ زہرا (رضی اللہ عنہا) کی پاکیزہ نسبت کا ایک نہایت خوبصورت اور جذباتی بیاں ہے۔
ان اشعار کا مطلب ہے کہ دنیا کے غموں اور پریشانیوں سے تھکی ہوئی یہ بیمار زندگی سکون کی دوا ڈھونڈ رہی ہے، اور اس روح کو شفا صرف مدینہ منورہ کی متبرک ہوا سے ہی مل سکتی ہے۔ شاعر کامل یقین کے ساتھ کہتا ہے کہ یہ ممکن ہی نہیں کہ میرا مقدر کبھی ٹوٹ جائے یا میں ناکام ہو جاؤں، کیونکہ میری ماں گھر میں بیٹھ کر میرے لیے رب کی بارگاہ میں دعائیں مانگ رہی ہے۔
| لفظ | معنی (Urdu) |
|---|---|
| مالکِ کونین | دونوں جہانوں کا مالک (اللہ تعالیٰ) |
| بڑی رات | شبِ قدر (وہ عظیم اور بابرکت رات جس میں قرآن نازل ہوا) |
| شکستہ (سکشتا) | ٹوٹا ہوا / برباد یا ناکام |
| نصیب | قسمت / مقدر |
| روح | آتما / جان |
شاعر کہتا ہے کہ دنیاوی تکالیف کا واحد علاج مدینے کی روحانی فضاؤں میں پوشیدہ ہے۔ کلام میں خاتونِ جنت سیدہ فاطمہ زہراؑ کے رو رو کر دعا مانگنے کا واسطہ دے کر اللہ سے ایک عظیم رات (شبِ قدر) عطا کرنے کی التجا کی گئی ہے۔ اس نعت کا سب سے خوبصورت پہلو یہ ہے کہ ماں کی دعا کو اولاد کے برے نصیب اور ہر آفت کے خلاف ایک مضبوط اور ناقابلِ شکست ڈھال بتایا گیا ہے۔
شاعر کے مطابق، کس کے گھر میں دعا مانگنے کی وجہ سے اس کا نصیب کبھی بھی شکستہ (ٹوٹا ہوا) نہیں ہو سکتا؟