, وہ سوئے لالہ زار پھرتے ہیں - Shan E Nabi
search
لاگ ان
Get latest updates On WhatsApp

وہ سوئے لالہ زار پھرتے ہیں Lyrics In اردو

(وہ سوئے لالہ زار پھرتے ہیں, تیرے دن اے بہار پھرتے ہیں)


Written By

avatar
Shan E Nabi Team Desk
  • Editors Desk
  • شامل کیا گیاnot available
  • visibilityبار دیکھا گیا
  • comment تبصرے
  • thumb_up0 بار پسند کیا گیا
  • shareشیئر کریں
...

عنوان: وہ سوئے لالہ زار پھرتے ہیں

زمرہ: کلام کے بول (لیرکس) نعت کے بول (لیرکس) نظم کے بول (لیرکس)

شامل کیا گیا: 04 Sep, 2025 07:48 AM IST

دیکھا گیا: 470

Time to read: 1 min read

بول کی زبان منتخب کریں:

وہ سوئے لالہ زار پھرتے ہیں،
تیرے دن، اے بہار! پھرتے ہیں

جو ترے در سے یار پھرتے ہیں،
در بدر یوں ہی خوار پھرتے ہیں

آہ کل عیش تو کیے ہم نے،
آج وہ بے قرار پھرتے ہیں

پھول کیا دیکھوں میری آنکھوں میں،
دشتِ طیبہ کے خار پھرتے ہیں

جان ہے جان کیا نظر آئے،
کیوں عدو گِردِ غار پھرتے ہیں

صبح و شام یوں بندگیٔ زلف و رُخ،
آٹھوں پہر کی ہے

اُن کے عماں پر دونوں باغوں پر،
کھیلِ لیل و نہار پھرتے ہیں

ہر چراغِ مزار پر قدسی،
کیسے پروانہ وار پھرتے ہیں

لاکھوں قدسی ہیں کامِ خدمت پر،
لاکھوں گردِ مزار پھرتے ہیں

اُس گلی کا گدا ہوں میں جس میں،
منگتے تاجدار پھرتے ہیں

وردیاں بولتے ہیں ہَرکَارے،
پہرہ دیتے سوار پھرتے ہیں

رکھیے! جیسے ہیں خانہ زاد ہم،
مول کے عیب دار پھرتے ہیں

بائیں رستے نہ جا، مسافر! سُن،
مال ہیں راہ مار پھرتے ہیں

ہائے غافل! وہ کیا جگہ ہے جہاں،
پانچ جاتے ہیں، چار پھرتے ہیں

جگ! سنسان بنا ہے، رات آئی،
گُرگ بحرِ شکار پھرتے ہیں

نَفَس! یہ کوئی چال ہے، ظالم!
جیسے خسِ بیزار پھرتے ہیں

کوئی کیوں پوچھے تری بات، رضا!
تجھ سے کُتّے ہزار پھرتے ہیں

wand_stars
Lyrics Explanation, Word Meanings & Summary

This summary is AI-generated • Reviewed for quality.

keyboard_arrow_down

یہ کلام امام احمد رضا خان کے عشقِ رسول ﷺ اور فنی مہارت کا نچوڑ ہے۔ اس میں دنیا کی بے ثباتی، نفس کی چالاکیوں اور حضور ﷺ کے در کی بے پناہ عظمت کو بیان کیا گیا ہے، جہاں دنیا کے بادشاہ بھی بھکاری بن کر حاضری دیتے ہیں۔

اشعار کی تشریح (Lyrics Explanation)

ان اشعار کا مقصد انسان کو غفلت سے بیدار کرنا ہے کہ اصل عزت صرف نبی ﷺ کی غلامی میں ہے۔ شاعر فرماتے ہیں کہ مجھے دنیا کے پھولوں کی طلب نہیں کیونکہ میری آنکھوں میں مدینے کے کانٹے (خار) بسے ہوئے ہیں جو گلشنِ دنیا سے کہیں بہتر ہیں۔ وہ نصیحت کرتے ہیں کہ نفس اور شیطان بھیڑیے کی طرح ایمان کے شکار کی تاک میں ہیں، لہٰذا نجات صرف آستانِ رسول ﷺ سے وابستگی میں ہے۔


الفاظ کے معنی (Word Meanings)

لفظمعنی (Urdu/English)
سوئے لالہ زارپھولوں کے باغ کی طرف / Towards the garden
خوارذلیل و رسوا / Humiliated
دشتِ طیبہمدینہ کا صحرا / Desert of Madina
عدودشمن / Enemy
قدسیفرشتے / Angels
گدافقیر یا بھکاری / Beggar
تاجداربادشاہ / Kings
راہ مارڈاکو یا لٹیرے / Robbers
گُرگبھیڑیا / Wolf
نَفَسانسانی خواہش (نفس) / Self or Ego

خلاصہ (Summary)

اس کلام کا خلاصہ یہ ہے کہ حضور ﷺ کا در وہ مقام ہے جہاں فرشتے پروانوں کی طرح طواف کرتے ہیں اور بڑے بڑے تاجدار وہاں کے منگتے ہیں۔ اعلیٰ حضرت نے نہایت عاجزی سے خود کو اس در کا ادنیٰ کتا قرار دے کر یہ واضح کیا ہے کہ ان کی نسبت ہی سب سے بڑی ڈگری ہے۔ آخر میں وہ متنبہ کرتے ہیں کہ یہ دنیا ایک سنسان بن (جنگل) ہے جہاں گناہ اور نفس مسافر کو لوٹنے کے لیے تیار بیٹھے ہیں، اس لیے راہِ راست (سیدھے راستے) سے نہیں بھٹکنا چاہیے۔

نعت کے آخری مصرعے میں شاعر "رضا" نے خود کو کیا کہا ہے، اور ان کے مطابق انہیں کوئی کیوں پوچھے گا؟

Read more ↓
Was this page helpful?
شیئر کریں: