क़ुर्बान मैं उनकी बख़्शिश के मक़सद भी ज़बाँ पर आया नहीं
- 4 مہینے پہلے fiber_manual_record 298 بار دیکھا گیا
,
عنوان: یا حیُّ یا قیُّوم
زمرہ: حمد کے بول (لیرکس) کلام کے بول (لیرکس) نعت کے بول (لیرکس)
مصنف/گیتکار: مختلف/نامعلوم
نعت خوان/ فنکار: نصرت فتح علی خان سمیع یوسف
شامل کیا گیا: 16 Jan, 2024 08:55 AM IST
دیکھا گیا: 714
Time to read: 4 min read
یا حیُّ! یا قیُّوم!
یا حیُّ! یا قیُّوم!
یا رحیمُ یا رحمٰن!
یا عادلُ یا منّان!
یا حافظُ یا ستّار!
یا واحدُ یا غفّار!
یا مالکُ یا رزّاق!
تو خالقِ ہر خلّاق
ہر راز تجھے معلوم
ہر راز تجھے معلوم
یا حیُّ! یا قیُّوم!
یا حیُّ! یا قیُّوم!
بے مثل ہے تو، لا رَیب
تو پاک ہے، تو بے عَیب
تو زیست کا ہے عنوان
تو سٰخِرِ ہر عُدوان
تیری ذات ہے عِزّ و جَل
تو ہر مشکل کا حل
ہر سمت ہے تیری دھُوم
ہر سمت ہے تیری دھُوم
یا حیُّ! یا قیُّوم!
یا حیُّ! یا قیُّوم!
تنزیل تیرا پیغام
ہے خاص تیرا انعام
ہے دَر کی یہ اکسیر
ایمان اس کی تاثیر
ہے سلسلہءِ احساس
الہمٗد سے تا وَ النّاس
ہے صاف اس کا مفہوم
یا حیُّ! یا قیُّوم!
یا حیُّ! یا قیُّوم!
رحمت کی نگاہوں کا اشارہ مانگو
دنیا سے کوئی شے نہ خدا را مانگو
دنیا کی وفا جھوٹ، سہارے ہیں فریب
اللہ سے اللہ کا سہارا مانگو
یا حیُّ! یا قیُّوم!
یا حیُّ! یا قیُّوم!
مَنسَب کی کرو چاہ، نہ ثَروت مانگو
تم اہلِ محبت ہو، محبت مانگو
ہر حال میں تھامے ہوئے دامانِ رضا
اللہ سے اللہ کی رحمت مانگو
یا حیُّ! یا قیُّوم!
یا حیُّ! یا قیُّوم!
کر دل کو عطا سوزِ دوامی یا رب!
ہر سانس ہو رحمت کی پیغامی یا رب!
اورنگ و شاہی کی نہیں حاجت مجھ کو
کافی ہے محمد کی غلامی یا رب!
یا حیُّ! یا قیُّوم!
یا حیُّ! یا قیُّوم!
وہ نبیوں کا سردار، اللہ!
ہر عالم کا مختار، اللہ!
تو ساز ہے، وہ آواز، اللہ!
تو راز، وہ محرمِ راز، اللہ!
تو لفظ ہے، وہ فرہنگ
تو حاکم ہے، وہ اورنگ
تو لازم، وہ ملزوم
یا حیُّ! یا قیُّوم!
یا حیُّ! یا قیُّوم!
عادَت ہے میری حد سے گزرنا یا رب
آتا ہی نہیں مجھ کو ٹھہرنا یا رب
حرفِ گدا مانے کرم پر ترے
شرمندہ سَرِ حشر میں کرنا یا رب
یا حیُّ! یا قیُّوم!
یا حیُّ! یا قیُّوم!
میں عاجز خاک بَشَر، اللہ!
تو مالکِ بحر و بَر، اللہ!
میں بندہءِ پُر تقصیر، اللہ!
ترے ہاتھ میری تقدیر، اللہ!
میں احقر تیرا خاک، تو وارثِ ہفت افلاک
تو حاکم، میں محکوم — تو حاکم، میں محکوم
یا حیُّ! یا قیُّوم!
یا حیُّ! یا قیُّوم!
میں نقش ہوں، تو نقّاش، اللہ!
تو منعم، میں قلاش، اللہ!
میں عابد، تو معبود، اللہ!
میں ساجد، تو مسجود، اللہ!
میں جسم ہوں اور تو دَم
تیرا ذکر علاجِ غم
کیوں دل ہو میرا مغموم
یا حیُّ! یا قیُّوم!
یا حیُّ! یا قیُّوم!
اس دور میں ہر انسان، اللہ!
بے بحر ہے اور بے جان، اللہ!
ہیں دید و دل بے نور، اللہ!
منزل سے ابھی ہیں دور، اللہ!
ایسے میں میرے معبود
ہے فضل ترا مقصود
رکھ اس کو نہ اب محروم
یا حیُّ! یا قیُّوم!
یا حیُّ! یا قیُّوم!
میں کیا ہوں؟ میں کس شے کی تلافی چاہوں؟ یا رب!
کیا بات میں فطرت کے منافی چاہوں؟ یا رب!
کچھ پاس نہیں اشکِ ندامت کے سوا
کس منہ سے گناہوں کی معافی چاہوں؟
یا حیُّ! یا قیُّوم!
یا حیُّ! یا قیُّوم!
میرے دلِ گمراہ نے مارا مجھ کو، یا رب!
درکار ہے رحمت کا اشارہ مجھ کو، یا رب!
شرمندہ نہ کرنا سرِ محشر، یا رب!
ترے ہی کرم کا ہے سہارا مجھ کو
یا حیُّ! یا قیُّوم!
یا حیُّ! یا قیُّوم!
تری ذات یامِ اکرام، اللہ!
مرا ظرف ہے ظرفِ خام، اللہ!
تو مالک، میں مجبور، اللہ!
تو نور ہے، اور میں طور، اللہ!
یا منزلِ انس و جان
کر مجھ پہ یہ احسان
مرا جاگ اٹھے مقسوم
یا حیُّ! یا قیُّوم!
یا حیُّ! یا قیُّوم!
جاؤں تو کہاں جاؤں، ترے دَر کے سِوا؟ یا رب!
تسکین کہاں پاؤں، ترے دَر کے سِوا؟ یا رب!
کونَین پہ ہے ترے کرم کا سایہ
دامان کہاں پھیلاؤں، ترے دَر کے سِوا؟
یا حیُّ! یا قیُّوم!
یا حیُّ! یا قیُّوم!
یا حیُّ! یا قیُّوم!
یا حیُّ! یا قیُّوم!
This summary is AI-generated • Reviewed for quality.
یہ حمدِ باری اللہ تعالیٰ کی صفاتِ عالیہ، اس کی وحدانیت اور بندے کی عاجزی کا ایک نہایت خوبصورت اور جامع بیان ہے، جس میں صرف اللہ کی ذات کو ہی جائے پناہ اور اصل سہارا تسلیم کیا گیا ہے۔
ان اشعار کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیشہ سے زندہ (حی) اور سب کو قائم رکھنے والا (قیوم) ہے، جو کائنات کے ہر راز سے واقف ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ دنیا کے تمام سہارے فانی اور فریب ہیں، اس لیے بندے کو چاہیے کہ وہ جاہ و منصب کے بجائے صرف اللہ کی رحمت اور نبی کریم ﷺ کی غلامی کو اپنی زندگی کا اصل مقصد بنا لے۔
| لفظ | معنی |
|---|---|
| لا ریب | جس میں کوئی شک نہ ہو (بلاشبہ) |
| ثروت | دولت یا مال و زر |
| اورنگ و شاہی | تخت اور بادشاہت |
| بحر و بر | سمندر اور زمین (پوری کائنات) |
| اشکِ ندامت | شرمندگی کے آنسو |
| تلافی | نقصان کا ازالہ کرنا |
| ظرفِ خام | کچی عقل یا کمزور حوصلہ |
| تسکین | اطمینان اور سکون |
اس کلام کا خلاصہ یہ ہے کہ انسان اپنی فطرت میں خطا کار اور مجبور ہے، جبکہ اللہ کی ذات غفور و رحیم اور ہر مشکل کا حل ہے۔ شاعر اللہ کے حضور گناہوں پر ندامت کے آنسو پیش کرتے ہوئے التجا کرتا ہے کہ اسے دنیا کی جھوٹی وفاؤں سے بچا کر اپنی محبت اور فضل سے نوازا جائے، کیونکہ وہی خالق ہے اور وہی حقیقی معبود۔
شاعر نے "اللہ سے اللہ کا سہارا مانگو" کیوں کہا ہے اور دنیا کے سہاروں کو کیا نام دیا ہے؟