क़ुर्बान मैं उनकी बख़्शिश के मक़सद भी ज़बाँ पर आया नहीं
- 4 مہینے پہلے fiber_manual_record 297 بار دیکھا گیا
,
عنوان: وہی رب ہے جس نے تجھ کو ہما تن کرم بنایا
زمرہ: حمد کے بول (لیرکس) نعت کے بول (لیرکس)
مصنف/گیتکار: کلام اعلیٰ حضرت امام احمد رضا
نعت خوان/ فنکار: اویس رضا قادری
شامل کیا گیا: 08 Aug, 2023 02:31 PM IST
دیکھا گیا: 616
Time to read: 3 min read
وہی رب ہے جس نے تجھ کو ہما تن کرم بنایا،
ہمیں بھیک مانگنے کو تیرا آستاں بتایا،
تجھے حمد ہے خدایا، تجھے حمد ہے خدایا
تمہیں حاکمِ برآیا تمہیں قاسمِ عطایا،
تمہیں دافعِ بلایا تمھی شافیِ خطایا،
کوئی تم سا کون آیا، کوئی تم سا کون آیا
وہ کنواری پاک مریم، وہ نَفَخْتُ فِیہِ کا دَم،
ہے عجب نشانے اعظم مگر آمنہ کا جایا،
وہی سب سے افضل آیا، وہی سب سے افضل آیا
یہی بولے سدرہ والے، چمنِ جہاں کے تھالے،
سبھی میں نے چھان ڈالے ترے پائے کا نہ پایا،
تجھے یک نے یک بنایا، تجھے یک نے یک بنایا
تجھے حمد ہے خدایا، تجھے حمد ہے خدایا
فَإِذَا فَرَغْتَ فَانْصَبْ یہ ملا ہے تم کو منصب،
جو گدا بنا چکے اب، اُٹھو وقتِ بخشش آیا،
کرو قسمتِ عطایا، کرو قسمتِ عطایا
وَإِلٰی اللّٰہِ فَارْغَبْ، کرو عرض سب کے مطلب،
کہ تمہیں کو تکتے ہیں سب، کرو اُن پر اپنا سایہ،
بنو شافیِ خطایا، بنو شافیِ خطایا
ارے اے خدا کے بندو، کوئی میرے دل کو ڈھونڈو،
مرے پاس تھا ابھی تو، ابھی کیا ہوا خدایا،
نہ کوئی گیا نہ آیا، نہ کوئی گیا نہ آیا
ہمیں اے رضا ترے دل کا پتہ چلا بہ مشکل،
درِ روضہ کے مقابل وہ ہمیں نظر تو آیا،
یہ نہ پوچھ کیسا پایا، یہ نہ پوچھ کیسا پایا
تجھے حمد ہے خدایا، تجھے حمد ہے خدایا
کبھی خندہ زیرِ لب ہے کبھی گِتیّا ساری شب ہے،
کبھی غم کبھی طرب ہے نہ سبب سمجھ میں آیا،
نہ اُس نے کچھ بتایا، نہ اُس نے کچھ بتایا
کبھی خاک پر پڑا ہے سارے چرخ زیرِ پا ہے،
کبھی پیشِ در کھڑا ہے سارے بندگی جھکایا،
تو قدم میں عرش پایا، تو قدم میں عرش پایا
کبھی وہ آپک کی آتش کبھی وہ ٹپک کی بارش،
کبھی وہ ہجومِ نالش کوئی جانے ابر چھایا،
بڑی جوششوں سے آیا، بڑی جوششوں سے آیا
تجھے حمد ہے خدایا، تجھے حمد ہے خدایا
کبھی وہ چہک کی بُلبل کبھی وہ مہک کی خُد گل،
کبھی وہ لہک کی بالکل چمنِ جنّاں کھلایا،
گلِ قُدس لہلہایا، گلِ قُدس لہلہایا
کبھی زندگی کے ارمان کبھی مرگِ نو کا خواہاں،
وہ جیا کی مرگ قرباں وہ مُؤا کی زیست لایا،
کہے روح ہے جلایا، کہے روح ہے جلایا
کبھی غم کبھی آیا ہے کبھی سرد گاہ تپأں ہے،
کبھی زیر لب فُغاں ہے کبھی چُپ کی دم نہ تھا یا،
رُکے کام جان دکھایا، رُکے کام جان دکھایا
یہ تصوّراتِ باطل ترے آگے کیا ہیں مشکل،
تری قدرتیں ہیں کامل اِنہیں راست کر خدایا،
میں اُنہیں شفی لا یا — تجھے حمد ہے خدایا
تجھے حمد ہے خدایا، تجھے حمد ہے خدایا
This summary is AI-generated • Reviewed for quality.
یہ کلام امام احمد رضا خان فاضلِ بریلوی کا تحریر کردہ ایک شاہکار ہے، جس میں اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کے ساتھ ساتھ حضور اکرم ﷺ کے بے مثال فضائل اور مقامِ شفاعت کو بڑے دلکش انداز میں بیان کیا گیا ہے۔
ان اشعار کا مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب ﷺ کو سراپا رحمت و کرم بنا کر مبعوث فرمایا اور پوری مخلوق کو اپنی حاجت روائی کے لیے آپ ﷺ ہی کی چوکھٹ عطا کی۔ سدرہ پر رہنے والے جبرائیل امینؑ نے بھی گواہی دی کہ تمام جہانوں کی خاک چھاننے کے باوجود حضور ﷺ کے مرتبے اور پائے کی کوئی دوسری ہستی نہیں ملی۔
| لفظ | معنی (Hindi/English) |
|---|---|
| ہما تن | سراپا / Completely |
| آستاں | چوکھٹ یا دربار / Threshold |
| حاکمِ برآیا | مخلوق کے حاکم / Ruler of Creation |
| شافیِ خطایا | گناہوں کو معاف کرانے والا / Intercessor |
| گدا | فقیر یا منگتا / Beggar |
| منصب | عہدہ یا مرتبہ / Rank or Office |
کلام کا لبِ لباب یہ ہے کہ حضور ﷺ ہی وہ واحد ہستی ہیں جنہیں اللہ نے تقسیمِ نعمت اور شفاعت کا اختیار دیا ہے۔ آپ ﷺ کی عظمت کا اعتراف فرشتے بھی کرتے ہیں اور دنیا کے تمام لاچار اپنی امیدیں آپ ہی سے وابستہ رکھتے ہیں۔ آخر میں شاعر اپنی جذباتی کیفیت بیان کرتے ہیں کہ ان کا دل عشقِ رسول ﷺ میں گم ہو کر روضہِ رسول ﷺ کے سامنے جا ٹھہرا ہے۔
شاعر نے 'سدرہ والے' (حضرت جبرائیل علیہ السلام) کے حوالے سے حضور ﷺ کی عظمت کے بارے میں کیا کہا ہے؟