क़ुर्बान मैं उनकी बख़्शिश के मक़सद भी ज़बाँ पर आया नहीं
- 4 مہینے پہلے fiber_manual_record 299 بار دیکھا گیا
,
عنوان: طیبہ ہے ہمارا طیبہ ہے ہمارا
زمرہ: حمد کے بول (لیرکس) کلام کے بول (لیرکس) نعت کے بول (لیرکس)
مصنف/گیتکار: علی حیدر فیضی لکھن پوری
نعت خوان/ فنکار: علی حیدر فیضی لکھن پوری
شامل کیا گیا: 12 Mar, 2024 10:49 AM IST
دیکھا گیا: 433
Time to read: 2 min read
طیبہ ہے ہمارا، طیبہ ہے ہمارا
طیبہ ہے ہمارا، طیبہ ہے ہمارا
دیوانے لگے کہنے دل و جان سے پیارا،
بہتا ہے جہاں چاروں طرف نور کا دھارا
طیبہ ہے ہمارا، طیبہ ہے ہمارا
ہے صحرِ مدینہ میں عجیب کیف کا عالم،
رحمت کی وہاں ہوتی ہے برسات جھم جھم،
آرام جہاں کرتے ہیں سلطانِ دو عالم،
ہوتا ہے وہاں چار سو جنت کا نظارہ
طیبہ ہے ہمارا، طیبہ ہے ہمارا
بُو-زاہل کی مٹھی میں ہے کیا چیز بتا دے،
اور آسمان کے چاند کو دو ٹکڑے بنا دے،
بے جان کنکروں کو بھی جو کلمہ پڑھا دے،
جس صحرا میں چمکا ہے مقدر کا ستارہ
طیبہ ہے ہمارا، طیبہ ہے ہمارا
سرکار کی آمد پہ ہے مسرور زمانہ،
ہر لب پہ ہے آقاۓ دو عالم کا ترانہ،
اب میرے خوشی جھوم کر کہتا ہے دیوانہ،
ہے خلدِ بڑی کا جہاں پور کیف نظارہ
طیبہ ہے ہمارا، طیبہ ہے ہمارا
مدت سے جو تھی پیاس لگی پیاس بجھایا،
شبیر نے کربلا کو لہو اپنا پلایا،
نانا کی شریعت کے لیے سر کو کاٹایا،
جس کو ملا ہے صرف بہتر کا سہارا
طیبہ ہے ہمارا، طیبہ ہے ہمارا
سرکار نے لکڑی کو بھی تلوار بنایا،
قدموں کے اشاروں سے درختوں کو بلایا،
ڈوبے ہوئے سورج کو بھی ایک پل میں پھرایا،
حیدر ہے وہی آمینہ بی بی کا دلاّرا
طیبہ ہے ہمارا، طیبہ ہے ہمارا
طیبہ ہے ہمارا، طیبہ ہے ہمارا
This summary is AI-generated • Reviewed for quality.
یہ خوبصورت کلام مدینہ منورہ (طیبہ) کی عظمت اور وہاں کی روحانی فضاؤں کی عکاسی کرتا ہے۔ اس میں حضور اکرم ﷺ کے معجزات اور اس پاک شہر سے عاشقانِ رسول کی والہانہ محبت کو بیان کیا گیا ہے۔
شاعر کہتا ہے کہ مدینہ وہ مبارک شہر ہے جہاں ہر طرف نور کی برسات ہوتی ہے اور دونوں جہانوں کے سلطان ﷺ آرام فرما ہیں۔ یہ وہ مقام ہے جہاں ڈوبے ہوئے سورج کا پلٹنا اور بے جان کنکروں کا کلمہ پڑھنا جیسے معجزات رونما ہوئے، اور اسی دین کی خاطر امام حسینؑ نے کربلا میں عظیم قربانی دی۔
| لفظ | معنی |
|---|---|
| طیبہ | پاکیزہ (مدینہ منورہ کا نام) |
| کیف کا عالم | سرور اور مستی کی کیفیت |
| چار سو | چاروں طرف |
| مسرور | خوش و خرم |
| خلدِ بریں | بلند ترین جنت |
| درخت | پیڑ (شجر) |
| بہتر (72) | کربلا کے شہداء کی تعداد |
اس نعت کا خلاصہ یہ ہے کہ طیبہ محض ایک شہر نہیں بلکہ زمین پر جنت کا نظارہ ہے جہاں رحمتِ الٰہی ہر وقت برستی ہے۔ شاعر حضور ﷺ کی شانِ معجزات اور اہل بیت کی قربانیوں کا ذکر کرتے ہوئے مدینہ کو اپنا اصل مرکز اور دلی سکون کا ٹھکانہ قرار دیتا ہے۔
نعت کے آخر میں حضرت علی (حیدر) کا ذکر کرتے ہوئے ان کے اور نبی ﷺ کے کن معجزات کا ذکر کیا گیا ہے، اور انہیں کس کا "دُلارا" کہا گیا ہے؟