प्यासी है सकीना
- 1 ہفتہ پہلے fiber_manual_record 58 بار دیکھا گیا
,
عنوان: لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنّا ميری
زمرہ: نظم کے بول (لیرکس) حمد کے بول (لیرکس)
مصنف/گیتکار: علامہ اقبال
نعت خوان/ فنکار: خدیجہ فاطمہ طلحہ قادری
شامل کیا گیا: 08 May, 2022 06:08 AM IST
دیکھا گیا: 2K
Time to read: 1 min read
لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنّا ميری
زندگی شمع کی صورت ہو خدايا ميری
دُور دنيا کا مرے دم سے اندھيرا ہو جائے
ہر جگہ ميرے چمکنے سے اُجالا ہو جائے
ہو میرے دم سے يونہی ميرے وطن کی زينت
جس طرح پھول سے ہوتی ہے چمن کی زينت
زندگی ہو مری پروانے کی صورت يا رب
علم کی شمع سے ہو مجھ کو محبت يا رب
ہو مرا کام غريبوں کی حمايت کرنا
دردمندوں سے ضعيفوں سے محبت کرنا
مرے اللہ! برائی سے بچانا مُجھ کو
نيک جو راہ ہو اسی رہ پہ چلانا مجھ کو
This summary is AI-generated • Reviewed for quality.
یہ مفکرِ اسلام علامہ محمد اقبال کی تحریر کردہ ایک انتہائی مقبول اور لازوال دعائیہ نظم ہے، جو بچوں میں اعلیٰ اخلاقی اقدار، حبِ وطنی اور انسانیت کی خدمت کا جذبہ بیدار کرتی ہے۔
ان اشعار کا مفہوم ہے کہ ایک معصوم بچہ بارگاہِ الٰہی میں التجا کرتا ہے کہ اس کی زندگی ایک روشن شمع کی مانند ہدفِ پرستی اور فیض رسانی کا نمونہ بن جائے، جو دنیا سے جہالت کا اندھیرا مٹا دے۔ وہ اپنے نیک اعمال سے اپنے وطن کو اس طرح خوبصورتی (زینت) بخشنا چاہتا ہے جیسے رنگ برنگے پھول کسی باغ کی رونق کو بڑھاتے ہیں۔
| لفظ | معنی (Urdu) |
|---|---|
| تمنا | خواہش / دلی ارمان |
| زینت | خوبصورتی / رونق یا سجاوٹ |
| پروانے | شمع پر فدا ہونے والا پتنگا (یہاں مراد سچا عاشق ہے) |
| حمایت | مدد کرنا / پاسداری یا طرف داری |
| ضعیفوں | بوڑھے لوگ / کمزور اور بے سہارا |
اس دعا میں بچہ خدا سے التجا کرتا ہے کہ اسے پروانے کی طرح علم کی شمع سے سچی محبت حاصل ہو جائے، اور اس کی زندگی کا اصل مقصد غریبوں کی مدد کرنا، درد مندوں کے کام آنا اور بزرگوں سے محبت کرنا قرار پائے۔ نظم کے آخری اشعار میں وہ ربِ کریم سے دعا کرتا ہے کہ اسے ہر قسم کی برائی اور گمراہی سے دور رکھے اور ہمیشہ صراطِ مستقیم یعنی نیکی اور سچائی کے راستے پر گامزن رکھے۔
اس دعا میں بچہ اپنے وطن کی زینت کو کس چیز سے بڑھانے کی مثال دے رہا ہے؟