मुस्तफ़ा का प्यारा है फ़ातिमा का शहज़ादा
- 1 دن پہلے fiber_manual_record 42 بار دیکھا گیا
,
عنوان: جگہ جی لگانے کی دنیا نہیں ہے
زمرہ: کلام کے بول (لیرکس) نعت کے بول (لیرکس) نظم کے بول (لیرکس)
مصنف/گیتکار: خواجہ عزیز الحسن
نعت خوان/ فنکار: غلام مصطفی قادری حافظ طاہر قادری اویس رضا قادری
شامل کیا گیا: 28 Dec, 2023 09:03 AM IST
دیکھا گیا: 808
Time to read: 2 min read
تو خوشی کے پھول لے گا کب تلک؟
تو یہاں زندہ رہے گا کب تلک؟
ایک دن مرنا ہے، آخر موت ہے
کر لے جو کرنا ہے، آخر موت ہے
جگہ جی لگانے کی دنیا نہیں ہے
یہ عبرت کی جا ہے، تماشا نہیں ہے
جہاں میں ہیں عبرت کے ہرسو نمونے
مگر تجھ کو اندھا کیا رنگ و بو نے
کبھی غور سے یہ بھی دیکھا ہے تو نے
جو آباد تھے وہ محل اب ہیں سونے
جگہ جی لگانے کی دنیا نہیں ہے
یہ عبرت کی جا ہے، تماشا نہیں ہے
ملے خاک میں اہلِ شان کیسے کیسے!
مکین ہو گئے لا مکاں کیسے کیسے!
ہوئے نامور بے نشاں کیسے کیسے!
زمین کھا گئی نوجوان کیسے کیسے!
یہی تجھ کو دھن ہے، رہوں سب سے بھلا
ہو زینت نرالی، ہو فیشن نرالا
جیا کرتا ہے کیا یوں ہی مرنے والا؟
تجھے حسنِ ظاہر نے دھوکے میں ڈالا
جگہ جی لگانے کی دنیا نہیں ہے
یہ عبرت کی جا ہے، تماشا نہیں ہے
قبر میں میّت اترنی ہے ضرور
جیسی کرنی ویسی بھرنی ہے ضرور
دبدبہ دنیا میں ہی رہ جائے گا
حسن تیرا خاک میں مل جائے گا
بے نمازی تیری شامت آئے گی
قبر کی دیوار بس مل جائے گی
توڑ دے گی قبر تیری پسلیاں
دونوں ہاتھوں کی ملیں جو انگلیاں
لندن و پیرس کے سپنے چھوڑ دے
بس مدینے سے ہی رشتے جوڑ دے
بے وفا دنیا پہ مت کر اعتبار
تو اچانک موت کا ہوگا شکار
کر لے توبہ رب کی رحمت ہے بڑی
قبر میں ورنہ سزا ہوگی کڑی
تجھے پہلے بچپن نے برسوں کھلایا
جوانی نے پھر تجھ کو مجنوں بنایا
بڑھاپے نے پھر آ کے کیا کیا ستایا
اجل تیرا کر دے گی بالکل صفایا
اجل نے نہ چھوڑا، نہ کسریٰ، نہ دارا
اسی سے سکندر سا فاتح بھی ہارا
ہر ایک لے کے کیا کیا نہ حسرت سدھارا
پڑا رہ گیا سب یوں ہی ٹھاٹھ سارا
جگہ جی لگانے کی دنیا نہیں ہے
یہ عبرت کی جا ہے، تماشا نہیں ہے
This summary is AI-generated • Reviewed for quality.
یہ کلام انسان کو غفلت کی نیند سے جگانے اور دنیا کی فانی حقیقت سے روشناس کرانے کے لیے لکھا گیا ہے، جس کا مقصد آخرت کی تیاری کی طرف راغب کرنا ہے۔
ان اشعار کا مفہوم یہ ہے کہ یہ دنیا دل لگانے یا مستقل رہنے کی جگہ نہیں ہے بلکہ یہ ایک جائے عبرت ہے جہاں سے ہمیں سبق حاصل کرنا چاہیے۔ شاعر کہتا ہے کہ بڑے بڑے نامور بادشاہ، حسین نوجوان اور ٹھاٹھ والے لوگ مٹی میں مل گئے، اس لیے انسان کو ظاہری خوبصورتی اور دنیاوی فیشن کے دھوکے سے نکل کر اپنے رب سے توبہ کرنی چاہیے۔
| لفظ | معنی |
|---|---|
| عبرت | سبق حاصل کرنا یا نصیحت (Lesson) |
| جا | جگہ یا مقام (Place) |
| مکین | رہنے والے یا رہائشی (Residents) |
| نامور | مشہور یا ذی شان (Famous) |
| اجل | موت یا موت کا وقت (Death) |
| کسریٰ و دارا | قدیم زمانے کے عظیم و طاقتور بادشاہ |
| حسرت | ادھوری خواہش (Unfulfilled desire) |
| تھانٹھ | شان و شوکت یا بناؤ سنگھار |
اس نظم کا خلاصہ یہ ہے کہ موت ایک اٹل حقیقت ہے جس سے سکندر جیسا فاتح بھی نہ بچ سکا، تو عام انسان کی کیا حیثیت ہے۔ انسان بچپن، جوانی اور بڑھاپے کے مرحلوں میں الجھ کر اپنی اصل منزل یعنی قبر کو بھول جاتا ہے۔ شاعر نصیحت کرتا ہے کہ دنیا کی بے وفائی کو پہچان کر لندن و پیرس کے خواب چھوڑو اور مدینے (دینِ اسلام) سے رشتہ جوڑ کر گناہوں سے توبہ کرو، کیونکہ قبر میں صرف نیک اعمال ہی کام آئیں گے۔
شاعر نے دنیا کو "عبرت کی جا" کیوں کہا ہے اور سکندر کا ذکر کس لیے کیا ہے؟