मुस्तफ़ा का प्यारा है फ़ातिमा का शहज़ादा
- 1 دن پہلے fiber_manual_record 66 بار دیکھا گیا
,
عنوان: بخش دے مجھ کو خدایا
زمرہ: نعت کے بول (لیرکس) نظم کے بول (لیرکس)
مصنف/گیتکار: سعید اکیل
نعت خوان/ فنکار: لائبہ فاطمہ
شامل کیا گیا: 03 Feb, 2026 09:09 AM IST
دیکھا گیا: 79
Time to read: 1 min read
مولا مولا! میرے مولا مولا!
میرے مولا مولا! میرے مولا!
بخش دے مجھ کو خدایا!
بخش دے مجھ کو خدایا!
میرے مولا! میرے مولا!
میرے مولا! میرے مولا!
تیرے در پر یہ تیرا بندہ چلا آیا،
میں عاصی ہوں، میں مجرم ہوں، تو ہے رحمان مولا!
میری ایک ایک دھڑکن کا تو ہے نگراں مولا!
اگر چاہے تو، مولا! پھر سبھی آسانیاں ہیں،
ورنہ رائیگاں میری سبھی قربانیاں ہیں،
تو میرے حال پر اپنے کرم کا کر دے سایہ
بخش دے مجھ کو خدایا!
بخش دے مجھ کو خدایا!
میرے مولا! میرے مولا!
میرے مولا! میرے مولا!
تیرے دربار میں دل سے میں توبہ کر رہا ہوں،
تو قادر ہے، میں تیرے اس غضب سے ڈر رہا ہوں،
بھٹک چکا تھا آخر پر، خدا! اب لوٹ آیا ہوں،
کہ اپنی آنکھ میں اشکِ ندامت بھر کے لایا ہوں،
کہ تیری بارگاہ میں حالِ دل میں نے سنایا
بخش دے مجھ کو خدایا!
بخش دے مجھ کو خدایا!
میرے مولا! میرے مولا!
میرے مولا! میرے مولا!
مولا مولا! میرے مولا مولا!
میرے مولا مولا! میرے مولا!
This summary is AI-generated • Reviewed for quality.
یہ کلام ایک گنہگار بندے کی اپنے رب کے حضور کی گئی انتہائی عاجزانہ التجا اور توبہ کا اظہار ہے۔ اس میں بندہ اپنی خطاؤں کا اعتراف کرتے ہوئے اللہ کی صفتِ رحیمی و کریمی کا واسطہ دے رہا ہے۔
شاعر کہتا ہے کہ اے اللہ! میں گناہوں میں ڈوبا ہوا تیرے در پر حاضر ہوا ہوں، میری ہر دھڑکن تیرے علم میں ہے۔ اگر تیری رحمت شاملِ حال نہ ہوئی تو میری تمام کوششیں ضائع ہو جائیں گی، اس لیے میں ندامت کے آنسو لے کر تیری بارگاہ میں توبہ کا طالب ہوں۔
| لفظ | معنی |
|---|---|
| عاصی | گنہگار / نافرمان |
| نگراں | حفاظت کرنے والا / دیکھ بھال کرنے والا |
| رائیگاں | بے کار / ضائع (Wasted) |
| قادر | قدرت رکھنے والا / ہر چیز پر قادر |
| غضب | غصہ / قہر |
| اشکِ ندامت | شرمندگی کے آنسو |
| بارگاہ | دربار / آستانہ |
اس دعا کا خلاصہ یہ ہے کہ انسان اپنی بے بسی اور گناہوں کا بوجھ لے کر جب تھک جاتا ہے، تو وہ اللہ کے غضب سے ڈر کر اس کی رحمت کی پناہ مانگتا ہے۔ شاعر کے مطابق سچی توبہ اور شرمندگی کے آنسو ہی وہ واحد ذریعہ ہیں جو اللہ کے کرم کو جوش میں لاتے ہیں اور بگڑے ہوئے حالات کو سنوار دیتے ہیں۔
نعت کے آخر میں شاعر نے اللہ کی بارگاہ (درہار) میں لوٹنے کی نشانی کیا بتائی ہے، اور وہ اپنے ساتھ کیا لے کر آیا ہے؟