मतलबी ये दुनिया है मतलबी ज़माना है
- 2 مہینے پہلے fiber_manual_record 499 بار دیکھا گیا
,
عنوان: اے دین کے غدار بلاؤں کیا رضا کو
زمرہ: کلام کے بول (لیرکس) منقبت کے بول (لیرکس) نعت کے بول (لیرکس)
مصنف/گیتکار: مختلف/نامعلوم
نعت خوان/ فنکار: مختلف/نامعلوم
شامل کیا گیا: 01 Nov, 2026 04:35 PM IST
دیکھا گیا: 14
Time to read: 1 min read
اے دین کے غدار بلاؤں کیا رضا کو،
اے دین کے غدار بلاؤں کیا رضا کو۔
اے دین کے غدار بلاؤں کیا رضا کو،
کر دیں گے تڑی پار بلاؤں کیا رضا کو۔
تم لوگ یزیدی ہو، بتاتے ہو حسینی،
چل جائے گی تلوار بلاؤں کیا رضا کو۔
اے دین کے غدار بلاؤں کیا رضا کو۔
ایسے نہیں جائے گا تو بستی سے ہماری،
پڑ جائیں گی دو چار بلاؤں کیا رضا کو۔
اے دین کے غدار بلاؤں کیا رضا کو۔
تو اپنے عقیدے کو بتاتا ہے خزانہ،
ہو جائے گا بھنگار بلاؤں کیا رضا کو۔
اے دین کے غدار بلاؤں کیا رضا کو،
اے دین کے غدار بلاؤں کیا رضا کو۔
This summary is AI-generated • Reviewed for quality.
یہ کلام (مناظراتی یا دفاعی انداز میں کہی گئی شاعری) مخالفین کے جواب میں اور اپنے عقیدے و بزرگوں کی شان میں لکھی گئی ہے، جس میں تردید اور چیلنج کا انداز پایا جاتا ہے۔
ان اشعار میں شاعر مخالفین سے مخاطب ہو کر ان کے نظریات اور دعووں پر کڑے سوال اٹھاتا ہے اور اپنے موقف پر سختی سے قائم رہتے ہوئے انہیں للکارتا ہے۔
لفظ | معنی (اردو / English) |
|---|---|
دین کے غدار | مذہب کے غدار یا خلاف ورزی کرنے والے / Traitors of religion |
تڑی پار | علاقے سے باہر نکال دینا / Banished or exiled |
یزیدی | یزید کے راستے پر چلنے والے (باطل کی علامت) / Follower of Yazid |
عقیدہ | نظریہ یا ایمان و اعتقاد / Belief or faith |
بھنگار | کباڑ یا بے قدر چیز / Scrap or worthless |
یہ کلام مباحثے اور مناظرے کے پس منظر میں ہے، جہاں شاعر نے مخالفین کے دعووں کی قلعی کھولتے ہوئے ان کے طرزِ عمل پر سخت تنقید کی ہے اور اپنے عقیدے کے دفاع کا اظہار کیا ہے۔
اس کلام میں شاعر نے مخالفین کو کیا کہہ کر پکارا ہے اور ان کے کس دعوے پر سوال اٹھایا ہے؟