मुस्तफ़ा का प्यारा है फ़ातिमा का शहज़ादा
- 1 دن پہلے fiber_manual_record 65 بار دیکھا گیا
,
عنوان: آقا لے لو سلام اب ہمارا
زمرہ: نعت کے بول (لیرکس) صلوٰۃ و سلام کے بول (لیرکس)
مصنف/گیتکار: مختلف/نامعلوم
نعت خوان/ فنکار: چھوٹا مجد شولا اویس رضا قادری
شامل کیا گیا: 09 Apr, 2023 08:52 AM IST
دیکھا گیا: 1.4K
Time to read: 2 min read
آقا لے لو سلام اب ہمارا،
صبا تو مدینے جاکے کہنا خدارا،
آقا لے لو سلام اب ہمارا
سلام اس پر کے جس نے بکسوں کی دستگیری کی،
سلام اس پر کے جس نے بادشاہی میں فکیری کی،
سلام اس پر کے جس کے پاس چاندی تھی نہ سونا تھا،
سلام اس پر کے ٹوٹا بوریا جس کا بچھونا تھا
آقا لے لو سلام اب ہمارا،
صبا تو مدینے جاکے کہنا خدارا،
آقا لے لو سلام اب ہمارا
گم سے ہیں ٹوٹے ہوۓ، ظلموں سے لوٹے ہوۓ،
مدّت ہوئی یا نبی، قسمت سے روٹھے ہوئے،
روزے مہشر میں امتی کا آپ ہی سہارا
آقا لے لو سلام اب ہمارا
چاند کے ٹکڑے کئیے، پیڑوں نے سجدے کئیے،
سورج پلٹ آگیا، یہ موجزے آپ کے،
امتی کیا خد خدا ہے شیدہ تمہارا
آقا لے لو سلام اب ہمارا
نورے خدا آپ ہیں، شاہ خدا آپ ہیں،
ایسے بنے امبیہ، بہرے سکھا آپ ہیں،
یہ ہے عظمت رب نے تم پر قرآن اتارا
آقا لے لو سلام اب ہمارا
دن رات روتی ہیں، امّت تمہارے لئیے،
ہو جائے نظرے کرم، آقا ہمارے لئیے،
طیبہ کی ان گلیوں کا کب ہوگا نظارہ
آقا لے لو سلام اب ہمارا
سب امبیہ کے امام، تم پر ہو لاکھوں سلام،
روزے پر اے مجید، کہتا ہے یہ صبح و شام،
زندگی میں آس کا نہ ٹوٹے ستارہ
آقا لے لو سلام اب ہمارا،
صبا تو مدینے جاکے کہنا خدارا،
آقا لے لو سلام اب ہمارا
This summary is AI-generated • Reviewed for quality.
یہ خوبصورت سلام بارگاہِ رسالت مآب ﷺ میں عاجزی، آپ ﷺ کی بے مثال سادگی، اور دکھوں کے مارے امتیوں کی دلی فریاد کا بیان ہے۔ اس میں نہایت ہی محبت اور ادب کے ساتھ حضورِ اکرم ﷺ کی خدمت میں درود و سلام کا نذرانہ پیش کیا گیا ہے۔
ان اشعار کا مطلب ہے کہ ہم اس عظیم اور پاکیزہ ذات پر سلام بھیجتے ہیں جنہوں نے دو جہان کا مالک ہونے کے باوجود فقیری اور سادگی کی زندگی گزاری اور جن کا بستر ایک ٹوٹا ہوا بوریا تھا۔ شاعر صبح کی ہوا (صبا) سے التجا کرتا ہے کہ وہ مدینے جا کر آقا ﷺ کی بارگاہ میں یہ فریاد پہنچائے کہ دنیا کے ستاۓ ہوئے امتیوں کا محشر کے دن آپ کے سوا کوئی دوسرا سہارا نہیں ہے۔
| الفاظ | معنی (Meanings) |
|---|---|
| دستگیری | مدد کرنا / بے سہارا کو سہارا دینا |
| بچھونا | بستر / فرش |
| صبا | صبح کی ٹھنڈی اور لطیف ہوا |
| خدارا | خدا کے لیے / واسطۂ خدا |
| موجزے (معجزے) | عقل کو حیران کر دینے والے چمتکار |
| شیدہ (شیدا) | عاشق / دل و جان سے چاہنے والا |
| بہرے سکھا (بحرِ سخا) | سخاوت اور عاجزی کا سمندر |
| آس | امید / بھspecific |
اس کلام میں حضور ﷺ کے عظیم معجزات جیسے چاند کے دو ٹکڑے کرنا اور ڈوبے ہوئے سورج کو واپس پلٹانا بیان کیا گیا ہے۔ شاعر 'مجید' کہتے ہیں کہ تمام انبیاء کے امام ﷺ کی ایک نظرِ کرم کے لیے پوری امت دن رات تڑپتی ہے۔ ایک سچے مومن کی زندگی کی سب سے بڑی امید یہی ہے کہ اس کی آس کا ستارہ کبھی نہ ٹوٹے اور اسے طیبہ (مدینہ منورہ) کی پاک گلیوں کا دیدار نصیب ہو جائے۔
شاعر کے مطابق حضور ﷺ نے بادشاہی میں کیا کیا، اور ان کے کس معجزے کا ذکر اس کلام میں آیا ہے؟