मुस्तफ़ा का प्यारा है फ़ातिमा का शहज़ादा
- 1 دن پہلے fiber_manual_record 57 بار دیکھا گیا
,
عنوان: پیاری ماں مجھکو تیری دعا چاہیے
زمرہ: نعت کے بول (لیرکس) نظم کے بول (لیرکس)
مصنف/گیتکار: اجمل عزیزی کٹیہار
نعت خوان/ فنکار: اجمل عزیزی کٹیہار
شامل کیا گیا: 21 Feb, 2023 06:23 AM IST
دیکھا گیا: 1K
Time to read: 1 min read
اے ماں، اے ماں، اے ماں
اے ماں، اے ماں، اے ماں
اے ماں، اے ماں، میری ماں، پیاری ماں
پیاری ماں مجھکو تیری دعا چاہیے
تیرے دامن کی ٹھنڈی ہوا چاہیے
اے ماں، اے ماں، میری ماں، پیاری ماں
جس گھڑی میری ماں مسکرانے لگی
دینو دنیا میری جگمگانے لگی
اے ماں، اے ماں، اے ماں
اے ماں، اے ماں، اے ماں
گھر کی رونک ہے تو گھر کی زینت ہے تو
میرے سر کی قسم میری جنّت ہے تو
اے ماں، اے ماں، اے ماں
اے ماں، اے ماں، اے ماں
ہر گھڑی سر پے ماں تیرا سایا رہے
تیرے قدموں سے گھر میں اجالا رہے
اے ماں، اے ماں، اے ماں
اے ماں، اے ماں، اے ماں
اے ماں، اے ماں، میری ماں، پیاری ماں
تو جو شاد ہے تو یہ زندگی شاد ہے
تیرے بن زندگی میری برباد ہے
اے ماں، اے ماں، اے ماں
اے ماں، اے ماں، اے ماں
اے ماں، اے ماں، میری ماں، پیاری ماں
رنج و غم میں صدا مسکراتی ہے تو
گھر میں خوشیوں کے دیپ جلاتی ہے تو
اے ماں، اے ماں، اے ماں
اے ماں، اے ماں، اے ماں
اے ماں، اے ماں، میری ماں، پیاری ماں
This summary is AI-generated • Reviewed for quality.
یہ نظم ماں کی لازوال ممتا، اس کی بے غرض قربانیوں اور ایک بچے کی زندگی میں اس کے بلند ترین مرتبے کی خوبصورت عکاسی کرتی ہے۔ اس کلام میں ایک بیٹا یا بیٹی اپنی ماں سے والہانہ محبت اور عقیدت کا اظہار کر رہے ہیں۔
ان پُر خلوص اشعار کا مطلب ہے کہ "اے میری پیاری ماں! مجھے اس دنیا میں جینے کے لیے کسی اور چیز کی طلب نہیں، بس تیری مخلصانہ دعائیں اور تیرے دامن (آمنچل) کا ٹھنڈا سایہ درکار ہے۔" شاعر کہتا ہے کہ جس گھڑی میری ماں کے چہرے پر مسکراہٹ آتی ہے، اسی وقت میری دین اور دنیا دونوں خوشیوں سے چمک اٹھتی ہیں کیونکہ ماں کی خوشی ہی سب سے بڑی کامیابی ہے۔
| الفاظ | معنی (Meanings) |
|---|---|
| دامن | آنچل / پلو یا گود |
| دین و دنیا | مذہب اور سنسار (دونوں جہان) |
| رونک (رونق) | چہل پہل / گھر کی بہار |
| زینت | خوبصورتی / گھر کی شوبھا یا سجاوٹ |
| شاد | خوش / مسرور اور نہال |
| رنج و غم / صدا | دکھ اور تکلیفیں / ہمیشہ یا سدا |
| دیپ | چراغ / روشنی کے دیے |
اس دلنشیں کلام کا لبِ لباب یہ ہے کہ ماں ہی گھر کی اصل رونق اور خوبصورتی ہے، اور اس کے قدموں تلے ہی خدا نے جنت بسا رکھی ہے۔ ماں خود ہر قسم کے رنج و غم جھیل کر بھی اپنے بچوں کے سامنے ہمیشہ مسکراتی ہے اور گھر میں خوشیوں کے چراغ روشن رکھتی ہے۔ ماں کی خوشی سے زندگی شاداب رہتی ہے اور اس کے بغیر انسان کی ہستی بالکل ادھوری اور برباد ہے، اسی لیے ہر بچہ ہر لمحہ اپنے سر پر ماں کے سائے کا طلب گار رہتا ہے۔
لیرکس کے مطابق، ماں کے مسکرانے سے بچے کی زندگی پر کیا اثر پڑتا ہے اور شاعر نے ماں کو گھر کی کیا چیز بتایا ہے؟