मुस्तफ़ा का प्यारा है फ़ातिमा का शहज़ादा
- 1 دن پہلے fiber_manual_record 65 بار دیکھا گیا
,
عنوان: میرے حسینؑ تجھے سلام
زمرہ: نعت کے بول (لیرکس) منقبت کے بول (لیرکس) صلوٰۃ و سلام کے بول (لیرکس)
مصنف/گیتکار: ارشد رضا قادری امروہوی مختلف/نامعلوم
نعت خوان/ فنکار: ارشد رضا قادری امروہوی حافظ طاہر قادری ندیم رضا قریشی (پیلی بھیتی) اویس رضا قادری سجّاد نظامی (مرہوم)
شامل کیا گیا: 28 Jul, 2023 07:27 AM IST
دیکھا گیا: 632
Time to read: 2 min read
میرے حسینؑ تجھے سلام،
میرے حسینؑ تجھے سلام
السلام یا حسینؑ،
السلام یا حسینؑ،
السلام یا حسینؑ
کر لیا نوش جس نے شہادت کا جام،
اس حسین ابنِ حیدرؑ پہ لاکھوں سلام
میرے حسینؑ تجھے سلام،
میرے حسینؑ تجھے سلام
السلام یا حسینؑ،
السلام Ya حسینؑ،
السلام یا حسینؑ
جس کو دھوکے سے کوفے بلایا گیا،
جس کو بیٹھے بٹھائے ستایا گیا،
جس کے بھائی کو زہر پلایا گیا،
جس کے بچوں کو پیاسا رُلایا گیا،
اس حسین ابنِ حیدرؑ پہ لاکھوں سلام
میرے حسینؑ تجھے سلام،
میرے حسینؑ تجھے سلام
السلام یا حسینؑ،
السلام یا حسینؑ،
السلام یا حسینؑ
جس کا جنت سے جوڑا منگوایا گیا
جن کو دوشِ نبی پر بٹھایا گیا
جن کی گردن پہ خنجر چلایا گیا
جن کو تیروں سے چھلنی کرایا گیا
اس حسین ابنِ حیدرؑ پہ لاکھوں سلام
میرے حسینؑ تجھے سلام،
میرے حسینؑ تجھے سلام
السلام یا حسینؑ،
السلام یا حسینؑ،
السلام یا حسینؑ
جس نے حق کربلا میں ادا کر دیا،
اپنے نانا کا وعدہ وفا کر دیا،
سب کچھ اُمّت کی خاطر فدا کر دیا،
گھر کا گھر ہی سپردِ خدا کر دیا،
اس حسین ابنِ حیدرؑ پہ لاکھوں سلام
میرے حسینؑ تجھے سلام،
میرے حسینؑ تجھے سلام
السلام یا حسینؑ،
السلام یا حسینؑ،
السلام یا حسینؑ
کر چکا وہ حبیب اپنی حجت تمام،
لے کے اللہ اور اپنے نانا کا نام،
کوفیوں کو سنائے خدا کے کلام،
اور فدا ہو گیا شاہِ عالی مقام،
اس حسین ابنِ حیدرؑ پہ لاکھوں سلام
میرے حسینؑ تجھے سلام،
میرے حسینؑ تجھے سلام
السلام یا حسینؑ،
السلام یا حسینؑ،
السلام یا حسینؑ
This summary is AI-generated • Reviewed for quality.
یہ رقت آمیز اور درد بھرا صلوٰۃ و سلام (منقبت) حضرت امام حسین علیہ السلام کے بچپن کے اعلیٰ مرتبے، ان کے خاندان پر ڈھائے گئے مظالم اور میدانِ کربلا میں دینِ اسلام کی بقا کے لیے دی گئی لازوال قربانی کو خراجِ عقیدت پیش کرتا ہے۔
ان اشعار کا مطلب ہے کہ ہم حضرت علی کے لختِ جگر امام حسین (ع) پر لاکھوں سلام بھیجتے ہیں جنہوں نے دین کی حفاظت کے لیے جامِ شہادت نوش کیا۔ انہیں دھوکے سے کوفے بلا کر بے پناہ ستایا گیا، ان کے بھائی (امام حسن) کو زہر دیا گیا اور ان کے معصوم بچوں کو پیاسا رولایا گیا، مگر انہوں نے صبر و استقامت کا دامن نہیں چھوڑا اور اپنا سب کچھ خدا کی راہ میں قربان کر دیا۔
| لفظ (Word) | معنی (Meaning) |
|---|---|
| نوش کرنا | پینا / حلق سے اتارنا |
| ابنِ حیدر | حیدر (حضرت علی) کے بیٹے |
| دوشِ نبی | نبی اکرم ﷺ کا مبارک کندھا |
| جوڑا | لباس / پوشاک (مراد: وہ لباس جو بچپن میں جنت سے آیا تھا) |
| سپردِ خدا | اللہ کے حوالے کرنا / خدا کی راہ میں دینا |
| حجت تمام کرنا | آخری بار حق کا ثبوت یا دلیل پوری کرنا |
| شاہِ عالی مقام | بلند مرتبے والا بادشاہ / عظیم رہنما |
اس کلام کا بنیادی لبِ لباب یہ ہے کہ حضرت امام حسین (ع) وہ عظیم ہستی ہیں جن کے لیے جنت سے لباس آتا تھا اور جو رسولِ خدا ﷺ کے مبارک کندھوں پر سواری کرتے تھے۔ کربلا کے تپتے میدان میں ظالموں نے ان کی گردن پر خنجر چلایا اور ان کے جسمِ اطہر کو تیروں سے چھلنی کر دیا، لیکن آپ نے آخری وقت تک کوفیوں کو خدا کا کلام (قرآن) سنا کر ہدایت کی حجت تمام کی۔ آپ نے امتِ محمدی کی خاطر اپنا پورا گھرانہ خدا کے سپرد کر کے اپنے نانا ﷺ سے کیا ہوا وعدہ سچے دل سے وفا کر دیا۔
لیرکس کے مطابق، امام حسین (ع) نے امت کی خاطر اپنا سب کچھ قربان کر کے کس کا وعدہ وفا کیا تھا؟