, ماں تیرے دودھ کا حق ہم سے ادا کیا ہوگا - Shan E Nabi
search
لاگ ان
Get latest updates On WhatsApp

ماں تیرے دودھ کا حق ہم سے ادا کیا ہوگا Lyrics In اردو

(ماں تیرے دودھ کا حق ہم سے ادا کیا ہوگا, تُو ہو ناراض تو خوش ہم سے خدا کیا ہوگا)


Written By

avatar
Shan E Nabi Team Desk
  • Editors Desk
  • شامل کیا گیاnot available
  • visibilityبار دیکھا گیا
  • comment تبصرے
  • thumb_up0 بار پسند کیا گیا
  • shareشیئر کریں
...

عنوان: ماں تیرے دودھ کا حق ہم سے ادا کیا ہوگا

زمرہ: قوّالی کے بول (لیرکس) نظم کے بول (لیرکس)

مصنف/گیتکار: ظہیر عالم

نعت خوان/ فنکار: عبدالحبیب اجمیری

شامل کیا گیا: 05 Dec, 2022 12:24 PM IST

دیکھا گیا: 5.5K

Time to read: 4 min read

بول کی زبان منتخب کریں:

ماں تیرے دودھ کا حق ہم سے ادا کیا ہوگا
تُو ہو ناراض تو خوش ہم سے خدا کیا ہوگا۔

یاد ہے آج بھی اے ماں وہ زمانہ میرا
مجھے اسکول تک چھوڑ کے آنا تیرا۔
سرد جاڑوں کی ٹھڈیٹِی ہوئی راتوں میں مجھے
ماں چھپا لیتی تھی تُو پیار سے بانھوں میں مجھے۔
گرمیوں میں مجھے آنچل کی ہوا دیتی تھی
پھولنے پھلنے کی تُو مجھے دعا دیتی تھی۔
رات بھر جاگ کے سینے پہ سُلائیا تُونے
خود رہی بھوکی مگر مجھے کھِلایا تُونے۔
تیرے جیسا کسی اور کا دل کیا ہوگا۔

ماں تیرے دودھ کا حق ہم سے ادا کیا ہوگا۔

تجھ کو اللہ نے کیا خوب شرف بخشا ہے
ذکرِ قرآن کے پاروں میں تیرا آیا ہے۔
تیری عظمت کو فرشتوں نے سلامی دی ہے
یعنی ولیوں نے اماموں نے غلامی کی ہے۔
اپنے بیٹوں کے سِتّم ہنس کے اٹھا لیتی ہے
اور تُو ہے کہ انھیں پھر دعا دیتی ہے۔
ہے تیری ذات پے اللہ کی قدرت کو بھی ناز
ہو اجازت تو پڑھو تیرے آنچل پہ نماز۔
مرتبے میں کوئی ماں تجھ سے بڑا کیا ہوگا۔

ماں تیرے دودھ کا حق ہم سے ادا کیا ہوگا۔

تُونے اولاد پہ کیا کچھ نہیں قربان کیا
اپنی نیندیں ہمیں دیں اپنا وہ سُکھ چین دیا۔
لوگ کرتے تھے اگر تجھ سے شِکایت میری
جان پہ کھیل کے کرتی تھی حفاظَت میری۔
جب کوئی مجھے ستائے تو بگڑ جاتی تھی
میری خاطر کبھی جھگڑے پہ اتر جاتی تھی۔
میری سانسوں میں تُو موجود ہے خوشبو بن کر
میری راتوں میں چمکتی ہے تُو جگنو بن کر۔
تیرا دل توڑ کے بیٹوں کا بھلا کیا ہوگا۔

ماں تیرے دودھ کا حق ہم سے ادا کیا ہوگا۔

یاد آتی ہے ابھی تک مجھے باتیں تیری
میرے رونے سے چھلک جاتی تھی آنکھیں تیری۔
تُو مجھے روتا ہوا دیکھ کر رو دیتی تھی
اپنا سُکھ چین میرے واسطے کھو دیتی تھی۔
یہ دعائیں مجھے دے دیں میں سنور جاؤں گا
تُو یونہی روٹھی رہے گی تو میں مر جاؤں گا۔
ہوگا احسان گلے بڑھکے لگا لے مجھے
اپنی ممتا بھری جنت میں چھپا لے مجھے۔
یہی رستہ ہے اور اس کے سِوا کیا ہوگا۔

ماں تیرے دودھ کا حق ہم سے ادا کیا ہوگا۔

تیری عظمت کو کیا بڑھ کے فرشتوں نے طواف
اور قدم میں نے اٹھائے تیری مرضی کے خلاف۔
کتنا بدبخت ہوں فرمانِ خدا بھول گیا
مانتا ہوں کہ خطاکار گناہگار ہوں میں۔
تُو خفا ہے تو مصیبت میں گرفتار ہوں میں
معاف کردے مجھے پھر بڑھ کے سہارا دے دے۔
ماں میری ڈوبتی کشتی کو کنارہ دے دے
ورنہ مجھ جیسا گناہگار کا کیا ہوگا۔

ماں تیرے دودھ کا حق ہم سے ادا کیا ہوگا۔

لوگ بیوی کے لیے ماں کو بھلا دیتے ہیں
اُس کے جذبات کو سولی پہ چڑھا دیتے ہیں۔
بوڑھے ماں باپ کے جو کام نہیں آؤ گے
اپنی اولاد سے تم اِس کا صلہ پاؤ گے۔
یہ اگر بِچھڑے تو پھر ہاتھ کہاں آئیں گے
رحمتوں کے لیے سوغات کہاں آئیں گے۔
ہاں ابھی وقت ہے ماں باپ کی خدمت کرلو
نیکیاں لوٹ لو اور خوشیوں سے دامن بھرلو۔
جاےگا بس وہی جنّت میں جو ماں کا ہوگا۔

ماں تیرے دودھ کا حق ہم سے ادا کیا ہوگا۔

واستہ آدم و حوا کا تجھے دیتا ہوں
واستہ شاہِ مدینہ کا تُجھے دیتا ہوں۔
واستہ دیتا ہوں حیدر کی شجاعت کا تُجھے
واستہ فاطمہ زہرا کی عبادت کا تُجھے۔
تُو جو خوش ہوگی تو خوش ہوں گے حسین اور حسن
ورنہ ویران رہے گا میرے جیون کا چمن۔
اے میری ماں تُو میرا دودھ نہ بخشے گی اگر
آگ دوزخ کی جلا ئے گی مجھے رہ رہ کر۔
بد مرنے کے ذرا سوچ میرا کیا ہوگا۔

ماں تیرے دودھ کا حق ہم سے ادا کیا ہوگا۔

ماں کا دل ٹوٹے تو آواز خدا تک جائے
یہ جو روئے تو فرشتوں کو بھی رونا آئے۔
ماں کے دکھ درد کو بیٹا اگر نہ سمجھے گا
اس کا جنت میں خدا بھی نہیں جانے دے گا۔
میرے آقا نہیں دیں گے اُسے جامِ کوثر
رات دن برسے گی اللہ کی لعنت اس پر۔
چاہے حافظ ہو کے حاجی یا نمازی عالم
ایسے بیٹوں سے خدا کیسے ہو راضی عالم۔
جو بھلا ہی نہیں کرے گا تو بھلا کیا ہوگا۔

ماں تیرے دودھ کا حق ہم سے ادا کیا ہوگا
تُو ہو ناراض تو خوش ہم سے خدا کیا ہوگا۔

wand_stars
Lyrics Explanation, Word Meanings & Summary

This summary is AI-generated • Reviewed for quality.

keyboard_arrow_down

یہ نظم ماں کی عظمت، اس کی بے لوث محبت، بچپن کی قربانیوں اور اس کی نافرمانی کرنے پر ملنے والے عذابِ الٰہی کا بیان ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ ماں کی ناراضگی میں ہی خدا کی ناراضگی ہے۔

اشعار کی تشریح (Lyrics Explanation)

اس کلام کا مطلب ہے کہ ایک ماں اپنی اولاد کو پالنے کے لیے اپنی نیند، بھوک اور ہر سکھ چین قربان کر دیتی ہے۔ اگر بیٹا ماں کا دل دکھا کر بیوی یا دنیا کے لیے اسے بھلا دیتا ہے، تو خدا اس سے ناراض ہو جاتا ہے اور ایسی اولاد چاہے جتنی بھی عبادت کر لے، جنت سے محروم ہی رہتی ہے۔


الفاظ کے معنی (Word Meanings)

الفاظ (Word)معانی (Meaning)
شرفعزت یا بلندی (Honor)
عظمتبڑائی یا شان (Greatness)
سِتّمظلم یا زیادتی (Cruelty)
مرتبےمقام یا درجہ (Status/Rank)
خطاکارگلطی کرنے والا / گناہگار (Sinner)
سوغاتتحفہ یا ہدیہ (Gift)
شجاعتبہادری یا دلیری (Bravery)
دوزخجہنم یا نار (Hell)
بدبختبدقسمت یا اوزارِ بد (Unfortunate)

خلاصہ (Summary)

شاعر کہتے ہیں کہ ماں کے دودھ کا قرض کوئی بھی اولاد کبھی ادا نہیں کر سکتی کیونکہ اس کے قدموں کے نیچے جنت ہے۔ جو لوگ بڑھاپے میں ماں باپ کو چھوڑ دیتے ہیں، انہیں اپنی اولاد سے بھی مستقبل میں وہی صلہ ملتا ہے؛ اس لیے وقت رہتے ماں کو منا کر اور اس کی خدمت کر کے اپنی عاقبت (آخرت) سنوار لینی چاہیے۔

شاعر کے مطابق جو لوگ بیوی کے لیے ماں کو بھلا دیتے ہیں ان کا انجام اپنی اولاد سے کیسا ہوتا ہے، اور ماں کی ناراضگی پر خدا کا کیا فیصلہ ہے؟

Read more ↓
Was this page helpful?
شیئر کریں: