मुस्तफ़ा का प्यारा है फ़ातिमा का शहज़ादा
- 1 دن پہلے fiber_manual_record 58 بار دیکھا گیا
,
عنوان: ماں کا ساتھ نہ چھوٹے کبھی تیری ماں نہ روٹھے
زمرہ: کلام کے بول (لیرکس) منقبت کے بول (لیرکس) نظم کے بول (لیرکس)
مصنف/گیتکار: سجّاد نظامی (مرہوم)
نعت خوان/ فنکار: سجّاد نظامی (مرہوم)
شامل کیا گیا: 24 Sep, 2022 01:14 PM IST
دیکھا گیا: 5.8K
Time to read: 2 min read
ماں تو ماں ہے ماں کا ہم پر کتنا بڑا احسان
تیری ماں نہ روٹھے کبھی تیری ماں نہ روٹھے
ہاں ماں کا ساتھ نہ چھوٹے، کبھی تیری ماں نہ روٹھے
ماں کا سایا جس کے سرپر وہ تو بڑا دھنوان (x2)
ہاں ماں کا ساتھ نہ چھوٹے، کبھی تیری ماں نہ روٹھے
آنچل میں وہ ہم کو چھپا کر خون جگر کا پلاتی ہے
خد بھوکی سو جاتی ہے (x2)
خد گیلے میں رہکر ہم کو سوکھے میں وہ لٹاتی ہے
اچّھی نیند سلاتی ہے (x2)
ماں کے ایک احسان پہ اپنا تن من دھن قربان
ماں کا ساتھ نہ چھوٹے، کبھی تیری ماں نہ روٹھے
ماں کے شکم سے دنیا بھر میں کیسے کیسے لال ہوئے
غوث ہوۓ ابدال ہوئے (x2)
ماں کے قدموں کو چھوتے ہی ایسے مالا مال ہوئے
سرطابہ خوشحال ہوئے (x2)
ماں نے دعا جس کو بھی دی ہے اسکی اونچی شان
ماں کا ساتھ نہ چھوٹے، کبھی تیری ماں نہ روٹھے
ماں کا دل تو ماں کا دل ہے اس جیسا نہ پاؤگے
ڈھونڈتے ہی رہ جاؤ گے (x2)
رب کی لعنت نازل ہوگی ماں کو جو تڑپاؤ گے
چین کہیں نہ پاؤگے (x2)
سرکار کونین کا سن لو بس ہے یہ فرمان
ماں کا ساتھ نہ چھوٹے، کبھی تیری ماں نہ روٹھے
ماں نہ ہوتی تو نہ ہوتا تو ماں کی ہی بدولت ہے
یہ سچ ہے یہ حقیت ہے (x2)
کولے نبی ہے ماں کے کدموں کے نیچے ہی جنّت ہے
بس رحمت ہی رحمت ہے (x2)
ماں کے لیے گر دینا پڑے تو دے دینا تو جان
ماں کا ساتھ نہ چھوٹے، کبھی تیری ماں نہ روٹھے
بچچے کیسے بھی ہو لیکن ماں کے لیے تو پیارے ہے
اس کی آنکھ کے تارے ہے (x2)
اپنی ماں کے دل کو جیت کے جو بھی ماں کے سہارے ہے
پھر وو کس سے ہارے ہے (x2)
ماں کا کہنا مان اگر کچھ بننا ہے نادان
ماں کا ساتھ نہ چھوٹے، کبھی تیری ماں نہ روٹھے
ماں کے دودھ کا قرض چکانا تیرے بس کی بات نہیں
یہ تیری اوقات نہیں (x2)
ماں سے افضل بیوی اور بچون میں کوئی ذات نہیں
یہ ممولی بات نہیں (x2)
کچھ بھی ہو سججاد تو ماں کا رکھنا دھیان
ماں کا ساتھ نہ چھوٹے، کبھی تیری ماں نہ روٹھے
This summary is AI-generated • Reviewed for quality.
یہ دل گداز اور نصیحت آمیز منقبت ماں کی لازوال محبت، اس کی عظیم قربانیوں اور اسلام میں اس کے بلند ترین مرتبے کا ایک نہایت خوبصورت اور جذباتی بیاں ہے۔
ان اشعار کا مطلب ہے کہ ہم پر ماں کا اتنا بڑا احسان ہے کہ اس کی ناراضگی خدا کی ناراضگی ہے، اس لیے ماں کو کبھی روٹھنے نہیں دینا چاہیے۔ ماں خود تکالیف اٹھا کر اور گیلے میں سو کر اپنی اولاد کو سکھ اور چین کی نیند سلاتی ہے؛ دنیا کے بڑے بڑے اولیاء، غوث اور ابدال بھی ماں کی ہی کوکھ سے پیدا ہوئے اور اس کی خدمت کی بدولت ہی عالی مقام بنے۔
| لفظ | معنی (Urdu) |
|---|---|
| دھنوان | خوش قسمت / مالدار (یہاں روحانی طور پر امیر) |
| خونِ جگر | اپنے حصے کا لہو (یہاں ماں کے دودھ اور محنت کے لیے استعمال ہوا ہے) |
| شکم | رحم / کوکھ یا پیٹ |
| ابدال | اللہ کے نیک اور برگزیدہ بندے / صوفی اولیاء |
| سرطابہ (سرتاپا) | سر سے لے کر پاؤں تک / مکمل طور پر |
| قولِ نبیؐ | پیارے نبی ﷺ کا فرمان / حدیثِ مبارکہ |
| افضل | سب سے بہتر / اعلیٰ اور برتر |
شاعر کہتا ہے کہ فرمانِ مصطفیٰ ﷺ کے مطابق جنت ماں کے قدموں کے نیچے ہے، اس لیے کوئی بھی اولاد اپنی پوری زندگی میں ماں کے دودھ کا قرض نہیں چکا سکتی۔ دنیا کے تمام رشتوں (بیوی اور بچوں) میں ماں کا مقام سب سے افضل ہے؛ جو ماں کو تڑپاتا ہے اس پر رب کی لعنت ہوتی ہے اور جو ماں کا دل جیت لیتا ہے وہ زندگی کے کسی میدان میں نہیں ہارتا۔ آخر میں شاعر 'سجاد' خود کو اور سب کو تاکید کرتا ہے کہ اگر دنیا و آخرت میں کامیاب بننا ہے تو ہمیشہ ماں کا دھیان رکھو اور ان کی اطاعت کرو۔
قولِ نبیؐ کے مطابق، ہر انسان کے لیے جنت ماں کے جسم کے کس حصے کے نیچے موجود ہے؟